ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………

Advertisements

اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی غیر رسمی ادبی اور علمی نشست ہوئی۔ اس نشست میں وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی مہمان خصوصی تھے۔ اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے مکالمے کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔ مجلس میں ڈاکٹر یار محمد مغموم، سلیم راز، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر فتح محمد ملک، عبد الخالق تاج، محمد حسن حسرت، جمشید دکھی، اکبر حسین اکبر، اسیر مینگل، اکادمی کے بورڈ آٖف ڈائیریکٹر ز کے اراکین، پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے ڈائیریکٹر سمیت 100سے زیادہ اہل قلم نے شرکت کی۔ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور پنجاب کے کونے کونے سے نمائندے آئے ہوئے تے۔ سب کو اظہار خیال کا موقع دینے اور کھلے انداز میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے اس مجلس کو غیر رسمی رکھا گیا۔ اکادی کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید اور ان کے رفقائے کار طارق شاہد، مسرور ہاشمی مہمانوں کی خدمت اور حق میزبانی ادا کرنے میں مصروف تھے۔ غیر رسمی نشست کا ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے ملک بھر سے آئے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اکادمی ادبیات کی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے حوالے سے وفاقی حکومت کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی کے ساتھ مکالمے کے لئے اہل قلم کو دعوت دی ۔ عرفان صدیقی نے بھی کھلے ماحول میں ادیبوں کے اٹھائے ہوئے نکات پر اظہار خیال کیا اور آخر میں بھرپور خطاب کے ساتھ اس غیر رسمی نشست کا اختتام کیا۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو نے شرکاء سے درخواست کی کہ ایسی تجاویز دی جائیں جو قابل عمل ہوں۔ ایسی تجاویز نہ دی جائیں جو محض خیال، آرزو اور امیدوں پر مبنی ہوں۔ پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے ڈائیریکٹر نے تجویز دی کہ فاٹا ملک کا اہم علاقہ ہے۔ وفاق کے زیر انتظام ہے۔ فاٹا میں مادری زبانوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ تاکہ لوگوں کو تعلیم تک رسائی کا حق ملے۔ تعلیم کی شرح بڑھے اور مادری زبان کو فروغ حاصل ہو۔ بعض ادیبوں نے تجویز دی کہ ملک کے صوبوں میں علمی اور ثقافتی ہم آہنگی کو ترقی دینے کے لئے ادیبوں اور شاعروں کے وفود کا تبادلہ کیا جائے، پاکستان کی علاقائی زبانوں کے کلاسیکی اور عصری ادب کے تراجم شائع کئے جائیں۔ تاکہ مست توکلی، جام ورک اور مرزا قلیج بیگ کو گلگت بلتستان، چترال اور خیبر پختونخوا تک ہر جگہ پڑھایا جائے۔ رحمان بابا، سلطان باہو، بلھے شاہ، بابا سیئر اور شاہ لطیف کے کلا م کو آزاد کشمیر سے لے کر بلوچستان تک ہر جگہ پڑھا اور سمجھا جا سکے۔ اس طرح پاکستانی زبانوں کے عصری ادب کو پورے ملک میں پڑھایا جائے۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ 2014ء میں قومی کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی نے ملک کی 22زبانوں کو قومی سطح پر تسلیم کر کے قومی زبان کا درجہ دینے کی سفارش کی تھی۔ ماروی میمن اس تجویز کی محرک تھیں۔ تجویز کو اب تک قومی اسمبلی میں پیش کر کے اس پر قانون سازی نہیں کی گئی۔ اس تجویز کو پارلیمنٹ میں لانے اور بل کی صورت میں منظور کرنے پر کام کیا جائے۔ اگر قومی ورثے کا ڈویژن اس کام کا بیڑا اٹھائے تو یہ ایک کارنامہ ہوگا۔ نیز مسلم لیگ کی سابقہ حکومت میں اکادمی ادبیات کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز نے تجویز دی تھی کہ وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں میں ادیبوں اور شاعروں کو بھی وفد میں شامل کیا جائے۔ اس پر موجودہ حکومت کو عمل کرنا چاہیئے تھا۔ تاکہ ملک اور قوم کی نیک نامی میں اضافہ ہو اور قومی ساکھ مزید بہتر ہو۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو نے مختصر جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ 22زبانوں کو قومی سطح پر لانے کا مسئلہ زیر غور ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پہلے لابنگ کرکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ اس کے بعد تجویز کو پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ اب یہ فائل اکادمی ادبیات کے پاس ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے تجویز دی کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے اردو زبان کے نفاذ کا حکم جاری ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی دفتروں میں اردو کے نفاذ کا حکم جاری کیا ہے۔ ادارہ برائے فروغ قومی زبان نے دفتری اصطلاحات کے تراجم کا کام احسن طریقے سے مکمل کیا ہے۔ اب اردو کے نفاذ کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اس لئے اردو کو فی الفور اور بلا تاخیر نافذ کیا جائے۔ عرفان صدیقی نے اس پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، اکادمی ادبیات پاکستان اور ایوان صدر میں اردو کا نفاذ ہو چکا ہے۔ دیگر دفاتر میں ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت اردو کے نفاذ پر کام ہو رہا ہے۔ ایک تجویز آئی کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے علاقائی دفاتر کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے۔ ملک کے دور دراز علاقوں اور ڈویژنوں میں اکادمی کے دفاتر کھولے جائیں۔ اکادمی کے صدر نشیں ڈاکٹر قاسم بگھیو نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس سمت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملتان میں اکادمی کا علاقائی دفتر کھولا گیا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں علاقائی دفاتر قائم کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ اکادمی نے مختلف علاقوں میں ادبی کانفرنسوں کا آغاز کیا ہے۔ ادبی کانفر نسیں دور دراز علاقوں میں ڈویژن اور ضلع کی سطح پر ہونگی تو اہل قلم کو مل بیٹھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں گے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی کتاب سے محبت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے لائبریریوں کے قیام کی تجویز پیش کی۔ کئی ادیبوں کی طرف سے علمی اداروں کے گرانٹ میں اضافے کی تجاویز آئیں۔ خیبر پختونخوا کے ادیبوں نے پشتو اکیڈمی کا سالانہ گرانٹ بڑھانے کی استد عا کی۔ ایک تجویز یہ بھی آئی کہ قانون ساز مجلسوں میں ادیبوں اور شاعروں کو ٹیکنو کریٹس کی طرح کوٹہ دیا جائے۔ تاکہ ملک میں ادب کو فروغ ملے۔ ایک تجویز یہ بھی آئی کہ کمال فن ایوارڈ کا دائرہ قومی زبان کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور پاکستانی زبانوں کے ادب تک وسیع کیا جائے۔ وزیر اعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں تمام تجاویز کا احاطہ کرتے ہوئے اہل قلم کو یقین دلا یا کہ جمہوری حکومت ملک کے تاریخی و ادبی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لئے اخلاص کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اہل قلم کی سرپرستی اور پزیرائی کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ آپ کی تجاویز بے حد وقیع اور لائق توجہ ہیں۔ ہر زبان کا ادب ہمارا قومی ورثہ ہے۔ قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ تمام زبانوں کی سرپرستی کو حکومت اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔ اس حوالے سے درست سمت میں کام ہو رہا ہے۔ بقول فیض احمد فیض ؔ :
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے
اِک طرزِ تغافل ہے سو وہ اُ ن کو مبارک
اِک غرض تمناً ہے سو ہم کرتے رہیں گے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى