ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…سینیٹر والی نمبر پلیٹ

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….


عجیب و غریب خبر آئی ہے۔ غیر ملکی سفارت کار اور صحافی اس پر تعجب اور حیرت کا ظہار کررہے ہیں۔خبر یہ ہے کہ بینک کا ملازم اپنی موٹر کار کے اوپر سینیٹر کے نام کی تختی لگا کر گھومتے ہوئے پکڑاگیا۔پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج ہوئی ۔ایک خاتون کی رپورٹ پر ملزم کو قانون کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔اب کسی کو ایسی حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ہمارے ہسپتال کے ایمبولینس کا ہوٹر اور روف ٹاپ لائٹ عام سرکاری اور پرائیویٹ موٹروں میں لگا کر گھومنا پھرنا عام ہوگیا ہے۔اس پر کبھی کسی نے شکایت نہیں کی اور کسی کو پکڑا نہیں گیا ۔محکمہ مال، محکمہ بندوبست اور کسٹمزیا ایکسائز کے حکام اپنی گاڑیوں پر رعب اور دبدبہ یا شان وشوکت دکھانے کے لئے ہوٹر اور روف ٹاپ لائٹ لگا کر گھومتے ہیں۔ انکے خلاف رپورٹ کرنے کی کسی کو ہمت نہیں ہوتی۔یہ روف ٹاپ لائٹ اور ہوٹر صرف ہسپتال کے ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لئے مخصوص ہیں۔ کسی اور کو اجازت نہیں ۔افغان خانہ جنگی کے دوران 1980 ء کے عشرے میں پشاور کی سڑکوں پر افغانی مہاجر لیڈروں نے 20گاڑیوں کے قافلے میں سفر کرنا شروع کیا ۔اُن کے آگے ہوٹر والی گاڑیاں ہوتی تھیں ۔پھر وی آئی پی شخصیات کے پروٹوکول میں ہسپتال کے ایمبولینس کی طرح ہوٹر اور روف ٹاپ لائٹ کا استعمال عام ہوگیا ۔اب تو راستے میں ہسپتال کا ایمبولینس ہوٹر بجاتے ہوئے سفر کرے تو کوئی اس کو راستہ نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ ہوٹر ہر تیسری گاڑی استعمال کررہی ہے ۔
ہر بو لہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب شیوۂ ابروئے اہل نظر گئی
غیر ملکی اخبار نویس اور سفارت کارپوچھتے ہیں کہ سینیٹر کی گاڑی کا نمبر پلیٹ استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ایک بینکر کسی سینیٹر یا ایم این اے یا ایم پی اے سے بڑا آدمی ہوتا ہے۔وہ اپنا نام استعمال کیوں نہیں کرتا ؟ اپنا کارڈ استعمال کیوں نہیں کرتا ؟آخر کیا وجہ ہے کہ وہ سینیٹر کے نام کانمبر پلیٹ استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔اس نمبر پلیٹ کے ساتھ بھی پولیس اس کو پکڑنے کی ہمت نہیں کرتی ۔جب تک کوئی خاتون مردانہ وار حوصلہ اور ہمت دکھا کر اس کے خلاف رپورٹ درج نہ کرے ۔قومی غیرت اور ملکی وقار کا مسئلہ ہے۔ہم غیر ملکی سفارت کار یا صحافی کو اصل حقیقت نہیں بتا سکتے ۔ اگربتائیں گے تو قومی غیرت اور عزت پر داغ لگ جائے گا۔ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔راز کی بات یہ ہے کہ سینٹ کا ممبر بننے کے لئے یا قومی اسمبلی میں جانے کے لئے یا صوبائی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے صرف نمبر پلیٹ والی گاڑی کے شوق میں خرچ کئے جاتے ہیں ۔ایسے بے شمارسینیٹر گزرے ہیں جو کھرب پتی بن گئے ۔سینٹ میں ایک بار بھی اپنی نشست سے اُٹھ کر ایک جملہ نہیں بولا ۔ قانون سازی میں کبھی حصہ نہیں لیا ۔سینیٹر بننے کا مقصد ہی نمبر پلیٹ والی گاڑی کااستعمال تھا۔ ایک گاڑی نہیں، دس گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ اب تک کسی بس، ٹرک یا ٹریکٹر ٹرالی پرسینیٹر کے نام کا پلیٹ نہیں لگایا گیا ۔آئندہ ایسا بھی ہوگا ۔دراصل اس نمبر پلیٹ میں جادو ہے ۔کمال ہے ، اعجاز ہے اور سحر ہے ۔سینیٹر ، ایم این اے اور ایم پی اے کی گاڑی کو پولیس نہیں روکتی ۔اس کی تلاش نہیں لے سکتی۔ کسی ناکے یا چیک پوسٹ پر قانون اس کی راہ میں مزاحمت نہیں کرتا ۔اس کا استحقاق مجروح ہوتا ہے ۔ایسی گاڑیوں میں دس بارہ کروڑ روپے کا مال آسانی سے پار ہوجاتا ہے ۔اور یہ نمبر پلیٹ کاروباری حضرات کے لئے نسخہ کیمیا کا کام دیتا ہے۔ اس لئے سب لوگ سینیٹر کے نام کی تختی کے عاشق ہوگئے ہیں ۔ماں اپنے بیٹے کے لئے ایمان ، عزت ، آبرو اور رزق حلال کی دعا نہیں مانگتی ۔دعا مانگنے کا مرحلہ آئے تو التجا کرتی ہے کہ” رب کریم ! میرے بیٹے کوسینیٹر کے نام کی تختی والی گاڑی دیدے ! میرے مولا! میرے بیٹے کو ایم این اے یا ایم پی اے کے نام کی تختی والی موٹر کا ر دیدے ۔ہم نے ماں کی دعاؤں کو قبول ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ایسی بے شمار گاڑیاں ہم نے دیکھی ہیں جس پر ایم این اے کے نام کی موٹی سبز تختی لگی ہے ۔تختی پر ازراہ تفنن چھوٹے فانٹ میں معاون خصوصی لکھا ہوا ہے۔ جو قریب جاکر موٹے شیشے کی عینک لگا کر پڑھی جاسکتی ہے ۔یعنی موٹر کار کا مالک ایم این اے کا معاون خصوصی ہے ۔ہم نے ان گنہگار آنکھوں سے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایم این اے کے معاون خصوصی کا پرائیوٹ سیکریٹری اپنی گاڑی پر ایم این اے کے نام کی تختی لگا کر آیا ۔تختی پر چھوٹے فانٹ میں لکھا تھا ۔پی ایس ٹو معاون خصوصی ۔یہ معاون خصوصی کے پرائیوٹ سیکریٹری کی مہربانی تھی کہ انہوں نے پورا عہدہ لکھ دیا تھا۔ ورنہ مذکورہ بینک ملازم کی طرح ایم این اے کے نام کی تختی لگاکر دن دیہاڑے واردتیں کرتا پھرتا۔ کون ہے جو اتنے بڑے آدمی سے پوچھ گچھ کرے ۔اب ہم یہ تو نہیں کرسکتے کہ حکومت سے مطالبہ کرکے سینیٹر اور ایم این اے یا ایم پی اے کے نام کی تختی والی گاڑیوں کو حاصل مراعات ختم کروائیں ۔یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ہم پولیس اور اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے کو قانون پر عملدارآمد کرنے پر آمادہ کریں اور قانون کی پاسداری پر مجبور کریں۔ ہم صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ پاک فوج ، رینجر ، ایف سی اور ملیشیاء کے حکام سے درخواست کر کے سینیٹر اور ایم پی اے اور ایم این اے کے نمبر پلیٹوں پر فوری پابندی لگادیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں منشیات کی سمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک ٹوٹ جائے گا اور ملک کو منشیات، اسلحہ اور دیگراشیاء کی غیر قانونی نقل وحمل سے پاک کیا جائے گا ۔جو بینک ملازم پکڑاگیا ہے۔اُس بیچارے کے ساتھ ہماری تمام تر ہمدردیاں اور دعائیں ہونگی ۔جب پولیس ناکوں پر ، چیک پوسٹوں پر اور اہم شاہراہوں پر سینیٹر ، ایم این اے اور ایم پی اے کے نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو حاصل مراعات ختم نہیں ہونگی۔ یہ مسئلہ جوں کاتوں رہے گا ملک اور قوم کی بدنامی کے ساتھ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بدنامی ہوتی رہے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق