ارشاد اللہ شاد

( رُموز شادؔ ) …..’’بڑھتی ہوئی آبادی اور پاکستان‘‘

………( ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)…….


پاکستان میں آبادی کی شرح میں اضافہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس سے جنم لینے والے بے شمار مسائل ہمارے خلاف صف آراء ہیں ، بلکہ ہمیں معاشرتی، تعلیمی ، اقتصادی غرضیکہ ہر شعبہ حیات میں ترقی کو گزند پہنچارہے ہیں۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ پسماندہ علاقوں میں فرسودہ رسم و رواج کم عمری میں شادی کا رواج اور فیملی پلاننگ کا نہ ہونا ، بچوں اور بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا اور خواتین سے غیر امتیازی سلوک جیسی کربناک وجوہات ہیں، جو ہماری اخلاقی اقدار پر قاری ضربیں لگانے کے درپے ہیں ۔ اسلام نے بہترین فلاحی ریاست کا تصور دیاہے اور ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کرکے دیکھایا ہے ، جو تاریخ انسانی میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتّا بھی بھوکا مر جائے تو اس کی ذمہ داری عمرؓ پر ہوگی ۔ آج اضافہ آبادی اور وسائل کی قلت کی بناء پر انسانی نسل صومالیہ یو گنڈا اور افریقہ کے دیگر ممالک میں سسک سسک کر مر رہی ہے۔ مسلمان نسبتََا زیادہ بد حالی کا شکار ہیں محکوم ہیں اور بڑی طاقتوں پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ آپس کی لڑائیوں میں مبتلا تھوڑی اشیاء کے پیچھے زیادہ لوگ بھاگ رہے ہیں ، ہر طرف بد انتظامی اور بد امنی ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ قدرتی وسائل ختم ہو رہے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان غیر مسلم طاقتوں پر انحصار کرتے کرتے آج عملاََ ان کے محکوم ہو چکے ہیں۔
دنیا کے اکثر اسلامی ممالک نے بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اس پر خاصی حد تک قابو پا لیا ہے ان ممالک میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا ، مصر ، ترکی اور ایران وغیرہ شامل ہیں ، یہاں پر تعلیم کو عام کیا گیا بالخصوس خواتین کو پڑھایا گیا ۔ یہاں کے علماء اور آئمہ کرام نے بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں اور بہبود آبادی کے پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حکومت کا ہاتھ بٹایا ہے۔معاشرتی بہبود کسی بھی اسلامی فلاحی ریاست کا اہم فریضہ ہے اور بہبود آبادی اس کا اہم حصہ ہے ۔ آبادی کی بہبود سے مراد لوگوں کو تعلیم ، روزگار، رہائش، صحت ، تفریح کی سہولیات اور بہتر مستقبل دینا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کسی بھی فلاحی و اسلامی ریاست میں آبادی اور وسائل میں توازن ہو اگر آبادی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور وسائل اس تناسب سے نہیں بڑھے تو معاشرے سے فلاح ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ شر اور ابتری لے لے گی ۔ آبادی میں اضافہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ نا خواندگی بھی ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں بہت بڑی رُکاوٹ ہے، جس سے فرسودہ روایات نسل در نسل پروان چڑھ رہی ہے اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں، جو مذہب کی غلط یا گمراہ کن تشریح کرتے ہیں۔
حالانکہ مذہب اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام میں بچوں میں مناسب وقفے کے رجحان اور شیر خواروں کو مقررہ مدت تک ماں کا دودھ پلانے کی شاندار روایت قائم ہے ۔ جانے پھر وہ کون لوگ ہیں ، جو بچوں میں وقفے کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ اسلام عورت کو پابند نہیں کرتا اور عورت کو خود اس کا اختیار دیتا ہے۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق