محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔۔خاک وطن کے متوالو

،،، محمد جاوید حیات
ہم بے خبر ،ان پڑ ھ ا ور اندھیری گلیوں میں ٹاکم ٹوئیاں کھانے والے غریب لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ کیچڑی کس طرح پکتی ہے۔محلوں میں ،پکی سڑکوں پر،کلبوں ،بھری پوری محفلوںِ،شاندار ہوٹلوں،کشادہ دفتروں اور پارکوں میں کیا ہو رہا ہے۔کیا ہوتا رہا ہے۔ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ پاک سر زمین ہماری ہے۔اس کے ذرے ذرے سے ہمیں محبت ہے۔اس زمین نے ہمیں مزدوری کیلئے کارخانے ، سفر کیلئے ٹیکسی گاڑیاں ،رہنے کیلئے جھونپڑی اورپینے کیلئے پانی دیا۔ہم روکھی سوکھی کھا کرللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس سرزمین کی تابندگی کیلئے دعا مانگتے ہیں ۔ہم اقتدار،دفتر،اختیار،چمکتی گاڑی،سٹیٹسکو،بنک بیلنس اور جائداد کا خواب تک نہیں دیکھتے۔اس وسیع کائنات اور اس پیاری سرزمین میں ہمارا جو حصہ ہے وہ دو وقت کی روکھی سوکھی روٹیاں اور پھر اس سر زمین سے محبت اور رب کا شکر ادا کرنا ہے۔۔ہمارے سامنے تماشا ہوتا ہے۔ہمیں تماشا دیکھا یا جاتا ہے۔ہم ۱۸کروڑہیں ہمیں لگ بگ چند لاکھ کے تماشوں سے کیا دلچسپی۔۔جب ہم پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو اس زمین پر قربانی کا عظیم ناٹک کھیلا گیا۔ہمیں سنایا گیا ہے ہم نے سنا ہے کہ محمدعلی جناح نام کا ایک دپلا پتلا انسان ہوا کرتا تھا ۔اقبال نام کا ایک فقیر ہوا کرتا تھا ۔پھر ان کے ساتھ ایک بے مطلب، بے غرض قافلہ ہو اکرتا تھا۔ان کو دنیا کی لالچ نہ تھی۔سب کی منزل ایک تھی۔ان کی تجوریاں خالی تھیں ۔ان کے سینے خلوص کی دولت سے مالا مال تھے۔وہ دوسروں کا دکھ درد بانٹنے کیلئے پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے اپنی زندگیاں دے دے کردوسروں کو زندہ رکھا۔انھوں نے خود ناشتہ نہیں کیا ،قیمتی کپڑے نہیں پہنے،جائیدادیں وقف کر دیں ۔انھوں نے کبھی جسموں پر حکومت نہیں کیں ،روحوں کو اپنا دیوانہ بنایا۔ہم نے سنا ہم نے پڑھا کہ یہ بے لوث لوگ بد عنواں نہ تھے۔نہ ایک دوسرے کو ملزم ٹھراتے۔نہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے۔۔اس زمانے میں کوئی حذب مخالف نہ تھا۔کوئی اپوزیشن نہ تھا سب مضبوط پوزیشن میں تھے۔ہم نے سنا ہمیں سنایا گیا۔کہ پاکستان بنا۔۔۔جب ہم پاؤں پاؤں چلنے لگے تو ہم کچھ نظام کی باتیں سننے لگے۔کچھ نعرے بلند ہوئے۔پھر کچھ لوگ آتے رہے جاتے رہے۔جب ہم زندگی کی جنگ لڑنے لگے توہم نے محسوس کیا کہ ہمارے بڑے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے ہیں۔ہمیں افسوس ہوا کہ ہم ۱۸ کروڑ خاموش ہیں چند لاکھ شور شرابا کر رہے ہیں ۔ان کی کارکردگی عیان ہوتی جاتی ہے۔وہ ایک دوسرے کی چوریاں ،بدعنوانیاں،قوم کی امانت میں خیانت اور بد دیانتی کی تفسیر کرتے رہتے ہیں ۔اس دن سے ہمیں افسوس رہتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ہم نے سیرت خلافائے رسولﷺ پڑھے تھے۔ہم نے پڑھا ہے کہ ہندوستان جب آزاد ہوا تو ان کا عظیم لیڈر گاندھی جی نے اپنے پہلے خطاب میں کہا۔۔۔۔،،کہ جائیدادیں مت بناؤ۔۔قوم کی پائی پائی کی حفاظت کرو۔۔سادگی اپناؤ۔۔۔۔میری قوم میں بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں مجھے بے مثال سادگی کی مثال نہیں ملتی اس لئے مجبوراً حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی مثال دیتا ہوں۔۔وہ بادشاہ ہوتے ہوئے بھی فقیری کرکے دنیا کو دیکھائے۔۔۔۔۔ہم نے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے وہ الفاظ کتابوں میں پڑھے کہ انھوں نے اپنی شاندار زندگیوں کو یہ کہ کر ٹھکرا دی کہ وہ ایک غریب قوم کے ،،بڑے،، ہیں ۔۔ہم ،،۱۸ کروڑ،،بھی کیا عجیب ہیں ۔کہ ہمارے سامنے ناٹک کھیلا جاتا ہے چند لاکھ کردار ہیں ۔باقی ہم ناظرین۔۔۔ایک کرداردوسرے سے کہتا ہے ۔۔،،کہ وہ قوم کا پیسہ باہر ملک لے گیا،،۔دوسرا کہتا ہے ۔کہ ،،کارخانہ باہر لگا تا ہے،،۔۔ٹیکس چوری کے الزامات ہیں اثاثوں کی فہرست شائع ہوتی ہے۔۔۔پھر یہ سب ہمارے بڑے ہیں ۔۔۔کیا خیال ہے کہ اگرکوئی دوسرے کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے کیا وہ خود اُجالے میں ہوتا ہے۔۔ ہمارے لیڈر اطمینا ں رکھیں ۔کہ ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔خدا کیلئے یہ بیداری نہیں یہ توہین ہے۔یہ دنیا کے سامنے ہماری بے عزتی ہے۔حذب مخالف ایسا نہیں ہوتا۔خدارا ایسا نہیں ہوتا۔۔ایسا اگر ہوتا ہے تو ان قوموں کو دیکھو جن کو تم اپنا ائڈیل سمجھتے ہو۔وہاں ایسا ہوتا ہے کیا کہ ۲۴ گھنٹے ایک دوسرے پر الزام لگاتے پھرو۔۔اپوزیشن تو دوسرے کو مفید مشورہ دیتا ہے۔ہمارے ہاں الٹا چور کا کردار ہے۔ہمارے بڑو ۔ کیا آپ لوگوں کا دل دھن دولت سے سیر نہیں ہوتا۔کیا عیاشیوں کو تم نے مقدر سمجھ رکھا ہے؟کیا دنیا آنی جانی نہیں ۔خدارا پاناما لیکس والو ،آٖ ف شورکمپنی والو،منی لانڈرنگ ولو،لندن یاترا والو ہمارے حال پر رحم کرو۔۔تم لوگ ایک زندہ قوم کے ،،بڑے،، ہو۔یہ سرزمین ہماری پہچان ہے ہماری عزت ہے تم لوگ ہماری عزت ہو۔ہم نے اس سرزمین کیلئے اشک بہایا ہے خون بہایا ہے۔گڑگڑایا ہے۔تم ایک دوسرے کو کام کرنے دو۔ہم تم سے تمہارے محل نہیں چھینگے۔ہم سے پرچی پر تم دستخط کراتے ہو اس پرچی کی قسم دنیا کے سامنے ہماری آبرو رکھو۔ہم اٹھارہ کروڑ خاموش بیٹھے ہیں ۔۔اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔تمہارے اس سرد جنگ میں ہم پس جاتے ہیں ۔ہم تنگ اور اندھیر نگری والے پس جاتے ہیں۔خدارا اس ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالو۔۔۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق