زہرہ جبین

اکنامک کاریڈور ۔ ایران اور بھارت گٹھ جوڑ

…… تحریر : زہرہ جبین



کل بھوشن پادیو کو گرفتار ہوئے لگ بھگ دو ماہ ہوچکے ، خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات کے مطابق بھوشن سے کی جانی والی تحقیقات میں پاکستان میں کام کرنے والے RAWاور دیگر ہندوستانی اور غیر ہندوستانی نیٹ ورکس اور انکی (Proxies) کا انکشاف ہوا ہے ۔ غالباً اسی اقدام کی بدولت آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں ہونے والی اعلیٰ فوجی حکام کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے طو ل و عرض میں جہاں کہیں بھی کسی علیحدگی پسند ،شدت پسندیا دہشت گرد کی موجودگی کا شبہ ہوگا وہاں آرمی خود آپریشن کرے گی۔ ضرب عضب اور کراچی کے بعد پنجاب سے آپریشن کلین اپ کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جسکے نتیجے میں بدنامِ زمانہ ’’چھوٹو گینگ‘‘ جو عرصہ دراز سے دہشت کی علامت بنا ہوا تھا اپنے منظقی انجام کو پہنچا ۔ چھوٹو گینگ پر جہاں ڈاکہ زنی، اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم کے الزامات تھے وہیں ایک الزام بلوچ علیحدگی پسندوں BLF اور BLA کے کارندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا بھی تھا۔ یہ علیحدگی پسند گوادر، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں باالخصوص جہاں آرمی اور ایف سی انسٹالیشن موجود ہوتی تھیں، وہاں گوریلا کاروائیاں کرنے کے بعد راجن پور اور کچا جمال کے علاقوں میں پناہ لیتے تھے ۔ بلوچستان کے طول و عرض میں پیرا ملٹری فورسز کی جانب سے شروع کئے گئے کوبنگ آپریشن کے نتیجے میں جہاں ان شدت پسندوں کو شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑاوہیں ان شدت پسندوں کے Hideouts سے ملنے والی انفارمیشن کے نتیجے میں بہت سے حیران کن بلکہ ششدر کرنے والے انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ ان انکشافات کی روشنی میں اُن تمام پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے ہیں جنہیں بلوچستان میں علیحدگی پسند وں کی تحاریک کو ہوادینے سے سٹرٹیجکس (Strategic) مفادات حاصل ہوتے ہیں ۔ ان طاقتوں میں سرفہرست ہندوستان اور ایران ہیں۔ انہی شواہد کی روشنی میں آرمی چیف کا ایرانی قیادت سے شکوہ بجا تھا کہ ’’ایران کی سرزمین کبھی کبھی پاکستان کے خلاف استعمال ہوجایا کرتی ہے‘‘ بظاہر یہ ایک دیرینہ دوست کا ایک پیار بھر ا شکوہ معلوم ہوتا ہے ، پاکستان اور ایران ، مذہبی، مسلکی، ثقافتی اور تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جس تعلق سے باہم باندھے ہوئے ہیں، قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے ۔ پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والا ملک بھی ایران ہی تھا مگر وقت کے ساتھ حالات جس کروٹ بیٹھتے جارہے ہیں اُس پر پاکستان میں بھی کافی حلقوں میں حیرت و استعجاب پایا جاتا ہے ۔ اس استعجاب کو ۔۔۔حسین (اصل نام، کل بھوشن پاریو) نامی ہندوستانی بدنام زمانہ راکے ایجنٹ کی بلوچستان میں گرفتاری سے ملی، ایرانی اجازت سے سرزمین پر مقیم اس ایجنٹ کی گرفتار ی نے پاک ایران تعلقات کے مابین شکوک و شہبات کی کئی دراڑیں ڈال دی ہیں ۔ ایرانی Intelligence اور سرویلنس سسٹم ، بارڈر پولیسنگ تجربہ کارانہ مہارت سے بھرپور ہے۔ پاکستان ایران بارڈر ، پاک افغان بارڈر کی نسبت قدرے محفوظ اور آسانی سے عبور کئے جانے کے قابل نہیں ہے۔ ایرانی نقلاب کے بعد ہی اس سرحد کو مزید محفوظ بنانے کی غرض سے 3فٹ چوڑی اور دس فٹ بلند دیوار سے سیل کردیا گیا تھا اور آج اس پر 24گھنٹے ایرانی بارڈر پولیس فورس جسکو مرزبان کہتے ہیں ، کا پہرہ رہتا ہے۔ آئے روز پاکستان تافتان بارڈر کراس کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن اس بارڈر پولیس فور س کی گولیوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔ ایران کی مرضی کے بناء کوئی غیر قانونی طور پر بارڈر کراس نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات میں کل بھوشن پاریو کی گرفتاری ایران اور دہلی کے مابین استوار ہونے والے نئے سٹرٹیجک روابط کی کہانی سناتی ہے۔ تاریخ کی رُو سے ہندوستان سے ایران کا رشتہ اسوقت استوار ہوا جب صفوی حکمرا ن شاہ طہماسب ہندوستان سے جلاوطن کئے گئے شہنشاہ ہمایوں کو پناہ دی ، بعدازاں اسی تعلق کے بل بوتے پر ہمایوں نے شیرشاہ سوری کو شکست دیکر ہندوستان کا تاج دوبارہ حاصل کیا ۔ موجودہ دور میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کسیاتھ پاکستان کا مغربی بارڈر قدرے پرسکون ہوا مگرایران اس کے برعکس شمالی اتحاد کا سپورٹر رہا۔ بھارت بھی افغانستان میں طالبان کی شکست چاہتاتھا تاکہ پاکستان کا مغربی بارڈر غیر محفوظ کرکے پاکستان کی عسکری قوت کو تقسیم کیا جاسکے ۔ طالبان حکومت کی یہ مشترکہ دشمنی ہندوستان اور ایران کو مزید قریب لے آئی اور ایک سٹرٹیجک پارٹنر شپ میں ڈھل گئی جس کا ہدف واحد طالبان حکومت کا خاتمہ اور شمالی اتحاد کی حکومت کا قیام تھا۔
گیارہ ستمبر کے سانحے کے بعد جب امریکی افواج نے افغانستان میں طالبان حکومت کا تختہ اُلٹ دیا توایرانی پاسدارا نِ انقلاب کے سربراہ نے بیان دیا کہ وہ امریکی افواج کی ہمراہ ہی میں طالبان کے خلاف یہ برسرِ پیکار رہے ۔ مزید برآں افغانستان میں موجودہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹریننگ کیمپ بھی سامنے آئے جہاں باقاعدہ شمالی اتحاد کے جنگجوؤں کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کیا جاتا تھا، ایران پر اقتصادی پابندیوں کے باوجود بھی بھارت ایرانی بیڑوں کا سب سے بڑا خریدار تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق ایران اور بھارت کی صرف ایرانی تیل کی مد میں باہمی تجارت کا حجم 2007ء میں 13ارب امریکی ڈالر تھا ، جو 2008ء میں 30ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ تجارتی تعلق اس قدر مضبوط تھا کہ امریکہ کی شدید ناراضگی کو بھی بھارت خاطر میں نہ لایا اور امریکی دباؤ مسترد کرتے ہوئے ایران سے تجارتی حجم میں اضافہ بدستور جاری رکھا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اقوام و ممالک کی خارجہ پالیسی عوام کے وسیع تر مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔ اس تعریف کے مطابق مستقل دوست دشمن کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ پاکستان اور چین کے گوادر بندرگاہ کے مشترکہ منصوبے نے خطے میں امریکی تجارتی مفادات کو للکارا تو امریکہ بھارت اور ایران سٹرٹیجک پارٹنرشپ کا حصہ بن گیا جس کا مقصد گوادر کی بندرگاہ کا منصوبہ سبوتاژ کرنا اور خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی چینی معاشی طاقت کے سامنے بند باندھنا تھا۔ اسی روشنی میں ایرانی بندرگاہ’’ چاہ بہار‘‘ کا منصوبہ ترتیب دیا گیا جس کا مقصد گوادر کا متبادل فراہم کرکے اس منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔ گوادر بندرگاہ ایرانی تجارتی مفادات پر ایک ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر گوادر پورٹ سو فیصد آپریشن (Operation) ہوجاتی ہے تو ایرانی بندرگاہ کی سٹرٹیجک اور تجارتی حیثیت انتہائی کم رہ جاتی ہے۔ گوادر پورٹ کی تکمیل پاکستان کیلئے جہاں تجارتی حوالے سے گیم چینجز کی حیثیت رکھتی ہے وہیں اس میں دفاعی پہلو بھی مضمر ہے۔ 1965ء کی جنگ کے بعد اس منصوبے کے تصور نے جنم لیا تھا کہ پاکستان کے شمال کو جنوب سے منسلک کرنے والے تینوں روٹس یعنی ریل، جی ٹی روڈ اور انڈس موٹروے کے مشرق میں بھارتی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ حملے اور بمباری کی صورت میں انڈس کے مغربی جانب ایک موٹر وے اور ریلوے ٹریک کی تعمیر پاکستان کی دفاعی ضرورت بھی ہے۔ زمانہ جنگ میں تمام تر انحصار ایک سڑک پر کرنے کی بجائے ایک متبادل سڑک اور ریلوے ٹریک کی موجودگی جنگی ساز و سامان اور ٹرانسپورٹیشن کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک سے زیادہ متبادل روٹس ناگزیر ہیں ۔یہی منصوبہ بھارت کو آنکھ میں کھٹک رہا ہے یہ بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (Cold Start Doctrine) کے راستے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس منصوبے کے مطابق پاکستان پر دوطرفہ (مشرقی اور مغربی بارڈر سے) بیک وقت حملہ کرکے پاکستان کی ساحلی پٹی کو پاکستان کے باقی ماندہ حصے کو جد ا کرکے پاکستان کو Land Locked کردینا ہے۔ ایک متبادل روٹ کی موجودگی بھارت کے اس منصوبے کا خاک میں ملاتی ہے۔ امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر اور خطے کی بڑی اقتصادی طاقت ہونے کے زعم میں بھارت یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے بعد ہندوستان کو خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے جانشین نامزد کردے گا مگر افغانستان میں پے درپے ناکامیوں کے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہوا تو بھارت نے پاکستان اور افغانستان میں اپنی پراکسیز کو ایکٹویٹ (Activate) کردیا ۔ گوادر پورٹ کے منصوبے کی کامیابی کی صورت میں خطے کی ترقی کی کنجی پاکستان کی جیب میں آجائے گی اور بدلے میں ہندوستان کی بجائے چین اقتصادی طور پرسب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے گا جو کہ بھارت ، امریکہ اور ایران کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس ضمن میں جنم لینے والے سوالات میں سب سے اہم یہ ہے کہ جب پاکستان میں دشمن پراکسیز متحرک ہو تو پاکستان کی داخلی سلامتی کی ضامن ایجنسیاں موثر ترین دفاع کی حامل ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کی ایجنسیاں پیشہ وارانہ مہارت اور صلاحیت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دینا کی سیکریٹ سروس رینکنگ میں آئی ایس آئی نمبر ون ہے۔ اپنے قلیل ترین وسائل کے باوجود یہ ہمہ وقت ملک و قوم کے داخلی اور خارجی دونوں دشمنوں کے خلاف نبرد آزما رہی ہے۔ مزید برآں یہ ایجنسیاں بااختیار ترین ایجنسیاں ہیں۔ ضرور ت محض اس امر کی ہے کہ سیاسی طور پر اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے اور خارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت پاکستانی عوام کے طویل المیعاد مفادات کو ذہن میں رکھا جائے۔ اس ضمن میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت ہے ۔ ماضی کے تما م اہم ترین منصوبوں کی طرح سول قیادت کے ساتھ عسکری قیادت بھی اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں کوشاں نظرآتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت اس منصوبے کی اہمیت سے قطعی نابلد ، اورنج ٹرین اور میٹروبس کی طرح گوادر پورٹس کو بھی گھر کی باندی بنانے میں مصروف ہے۔ حکومت کا سارا زوگوادر ایکسپریس وے کے روٹ کو زیادہ سے زیادہ جاتی امراء اور رائے ونڈ کے قرب و جوار میں گھسیٹنا ہے۔ جو روٹ اور نقشے موجودہ حکومت پیش کرتی رہی ہے وہ چائنہ ٹی وی پر پیش کئے جانے والے نقشوں سے یکسر مختلف کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں بے چینی اور احساسِ محرومی بڑھ رہی ہے۔ عسکری قیادت پر توجہ مرکوز ہے کہ وہ منصوبے سے متعلق خدشات کوقلع قمع کرے اور شاہراہِ ریشم جیسے عظیم شاہکار کی تعمیر کی مثال کو دہراتے ہوئے ا س گیم چینجرمنصوبے کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے اور اسے داخلی اور خارجی دشمنوں کے ناپاک عزائم کی نذر ہونے سے محفوظ رکھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

اترك تعليقاً

إغلاق