اقبال حیات آف برغزی

انسانی زندگی گذرتے ہوئے لمحات کے آئینے میں “بلچ دو دو ران ماڑ ، ڈق دودوران ماڑا قوش کوری آسوم”

……..تحریر : اقبال حیاتؔ آ ف برغوزی …….
یہ جملے ایک زمانے کے انسانی مزاج کے عکاس ہیں ۔ اور اس سے اس دور میں زمین کی افادیت اور اہمیت سے عدم دلچسپی کا ترشح ہوتا ہے ۔ یہ جملے جہاں چترال کے قرب و جوار میں واقع بلچ گاؤں کے بارے میں منفی تا ثر کا آئینہ دار ہیں ۔اور اسے انسانوں کے بستی سے ہٹ کر حشرات الارض کے مسکن کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے ۔ وہاں ان الفاظ سے اس دور کے انسانی مزاج کارنگ ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ جب بندگان خدا زمین کی اہمیت اور فکر معاش کے تصور سے وقت کے حالات کی بنیاد پر نا آشنا تھے ۔ مختصر یہ کہ وہ ایک دور تھا ۔ جو اب خواب کی حیثیت کا حامل ہے ۔ اور آج وہ قابل افرین علاقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے چترال میں حیات آباد سے مماثلت رکھتا ہے ۔ اور یقیناََ ہر کوئی زمین کے اس ٹکڑے کے دامن میں بسیرا کرنے کا خواہشمند ہوگا۔ یوں بیتے ہوئے اس دور کا مراہوا شخص اگر زندہ ہو کر موجودہ منظر کو دیکھے گا تو فوری طور پر حرکت قلب بند ہو کر دوبارہ مرجائے گا۔ یہی کیفیت گزرتے ہوئے لمحوں کے ساتھ ساتھ انسانی احساسات اور خواہشات کی بھی ہوتی ہے ۔ اور ہر بیتنے والے ایام مستقبل کے لئے انوکھے رنگ میں ڈھلتے ہیں ۔اور ماضی کے جھروکوں سے خیالات کا سر اندر کر کے جب سو چا جائے تو حیرت اور حسرت کے سوا کچھ نہ ملے گا۔
بالائی چترال سے تعلق رکھنے والا ایک معمر شخص دنیا کی بے ثباتی اور حالات کی تغریاتی کا تذکرہ کرتے ہوئے خود پر بیتے ایک واقعے کا ذکر کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ایک خوبصورت جوان تھا ۔ بدحالی کے دور میں ایک آسودہ حال خاندان کا اکلوتا چشم و چراغ تھا۔ گھر میں خدمتگار ہوتے تھے ۔ پولو کے کھیل سے دیوانہ وار لگاؤ رکھتا تھا۔ سفید چترال ٹوپی پر مور کے پر لگا کر گھوڑے پر سوار ہو کر جب گھر سے نکلتے تو دنیا کی حکمرانی ملنے کا تاثر ملتا تھا ۔ ایک دن اسی رنگ اور ڈھنگ میں پولو کیلئے گھر سے نکل کر کافی دور گیا تھا کہ پیچھے سے مجھے آواز دی گئی ۔ مڑ کر دیکھا تو میری اہلیہ دوڑ کر میری طرف آرہی تھی ۔ قریب آکراس نے چابک میری طرف بڑھا کر بولی کہ اسے چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو ۔ میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا کہ گھر میں نو کر کے ہاتھ بھیج دیتی خود لانے کی کیا ضرورت تھی ۔ وہ ہنستی ہوئی شرمیلی انداز میں بولی کہ آپ کی یہ ہیئت مجھے بہت بھلی لگتی ہے ۔ اس لئے اس بہانے تھوڑی دور تک آپ کو دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔
خیر !وہ ایک دور تھا ۔ جو گزر گیا ۔ جوانی بڑھاپے میں ڈھل گئی اور لاٹھی کے سہارے چلنے کے دن آئے ۔ “جو ہر کسی پر آئے گا”۔ سردیوں کے ایام تھے ۔ آٹھ جوان سال بیٹیوں کے ساتھ شام کا کھانا کھا رہے تھے ۔ انگیٹھی کی ایک طرف میں اور دوسری طرف میری اہلیہ بیٹھی تھی ۔ جلتی ہوئی آگ کے اندر انگاروں کو درست کرنے کے لئے چمٹے کی ضرورت پڑی جو دوسری سمت میری اہلیہ کی طرف تھی ۔ ان سے اس کا تقاضا کیا تو وہ بے رخی کے ساتھ یہ کہتی ہوئی چمٹا میری طرف اچھال دی کہ ہاتھ شیل ہو گئے ہیں کیا خود نہیں اٹھاسکتے ۔ ان الفاظ کو سنتے ہی میں بہت دور خیالوں کی دنیا میں گم ہوا اور وہ لمحات یاد آئے جب مجھے دیکھنے کے لئے چابک کا بہانہ بنا کر میرے پیچھے آئی تھی ۔ ایک سرد آہ بھری ۔ آنکھوں سے آنسو کے دو قطرے نکل کر انسانی حیثیت پر گر پڑے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق