ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …..بنگلہ دیش میں پھا نسیاں

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ



جما عت اسلا می بنگلہ دیش کے امیر مطیع الر حمن نظا می کو پھا نسی دیدی گئی ۔اس طر ح ایک سال سے کم عرصے میں بنگلہ دیش کے اندر پا کستان کے سا تھ محبت کے جر م میں تختہ دار کو چو منے والوں کی تعداد 4ہو گئی ۔ملا عبد القا در اور ان کے سا تھیوں کو گزشتہ سال سزائے موت دی گئی تھی۔عا لمی برداری پاکستان اور ایران میں سزائے مو ت کے قا نون پر اعتراض کر تی ہے ۔چین میں سزائے مو ت کے قا نون پر اعتراض کر تی ہے ۔تینوں ممالک میں قاتلوں ،دہشت گردوں اور گھناؤنے جرا ئم میں ثبوتوں کے سا تھ پکڑے جا نے والے عادی مجرموں کو سزائے مو ت دی جا تی ہے ۔سزائے موت پا نے والے 10،20 یا 100 سے زیادہ شہر یوں کے قا تل ہو تے ہیں ۔عا لمی برداری اور انسا نی حقوق کی نا م نہا د تنظیمیں سزا ئے مو ت کے اس قا نون پر اعتراض کر تی ہیں اور سزا ئے موت کے لئے قا نون کو ختم کر نے کا مطا لبہ کر تی ہیں۔لیکن بھا رت ،بنگلہ د یش میں اس قا نون کے خلا ف عالمی برداری کی آواز سنا ئی نہیں دیتی ۔انسا نی حقوق کی نہا د تنظیموں کو سا نپ سو نگھ جا تا ہے ۔ملا عبد القادر ،مطیع الر حمن نظامی ،پر وفیسر غلام اعظم اور مجاہد علی حسن پر قتل ،اغوا،ڈکیتی اور دہشت گردی کا کو ئی مقدمہ نہیں تھا ۔ان لو گوں نے بھا رتی فو ج اور بھا رتی ایجنٹوں کے سا تھ تعا ون نہیں کیا ۔پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا یا اور پا ک فوج کے سا تھ تعا ون کیا ۔اس جر م کو اگر سزائے مو ت کے لا ئق جر م تسلیم کر لیا جا ئے تو آج پا کستان کی 20کروڑ آبا دی بھا رت کے مقا بلے میں پا ک فو ج کے سا تھ کھڑی ہے ۔پا ک فوج کی مدد کر رہی ہے ۔ آج پا کستان کے اندر شہروں اور دیہا ت میں دہشت گردوں نے جوجنگ برپا کی ہوئی ہے یہ وہی جنگ ہے جو ما رچ 1971 ء میں مشرقی پا کستان کے اندر بھا رتی فوج نے سا دہ کپڑوں میں مکتی با ہنی کے ذریعے شروع کی تھی ۔آپ مئی 1971ء کے اخبا رات کی سرخیوں کا موا زنہ مئی 2016ء کے اخبارات کی سر خیوں سے کر یں ۔فرق کو ئی نہیں ۔ مکتی با ہنی کا نام بنگلہ زبا ن میں رکھ گیا ۔ آج بھارتی سرکار نے ہمارے دشمن کا نام عربی زبان میں رکھ لیا ہے ۔ صرف زبان اور نام کا فرق ہے ۔ ملاعبدالقادر ،مطیع الرحمن نظا می ،پرو فیسر غلام اعظم ،مجا ہد حسن اور ان کے سا تھیوں نے 1971 ء میں وہی کا م کیا تھا ۔جو آج ہر محب وطن پا کستا نی کر تا ہے ۔ انہوں نے البدر اور الشمس کے نام سے دو تنظیمیں بنا ئیں ۔اسلا می چھا ترو شنگھو طلبہ کی تنظیم تھی ۔ان تنظیموں نے بھا رتیوں کے مقا بلے میں پاکستا نی فوج کی مدد کی ۔پا کستان کے مقا بلے میں بھا رتی ایجنٹوں کی پیش کشوں کو ٹھکر ادیا۔بڑے بڑے پیسوں کو لا ت ما ری اور پا کستان کی محبت میں آج کے امن لشکر کی طرح ڈٹ گئے ۔وہ جھکے بھی نہیں ۔اس جر م میں اُن کو سزائے مو ت ہو ئی ۔سزا ئے مو ت کا منظر نا مہ بڑا دلچسپ ہے ۔فیض نے کہا تھا ۔
جس دھج سے کو ئی مقتل میں گیا وہ شان سلا مت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کو ئی با ت نہیں
16دسمبر 1971ء کو بھا رتی فو ج اور مکتی با ہنی کو کا میا بی ملی ۔پا کستان ٹو ٹ گیا ۔مشرقی پا کستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا ۔بنگلہ دیش کی مو جو دہ وزیراعظم شیخ حسینہ وا جد کا باپ شیخ مجیب الر حمن و زیر اعظم بن گیا ۔3سال بعد انقلاب آیا ۔فوجی آفیسر ضیا ء الر حمن نے شیخ مجیب الرحمن کو بیو ی بچوں سمیت قتل کیا ۔شیخ حسینہ وا جد اپنے شو ہر کے ساتھ بھا رت میں مقیم تھی ۔اس لئے زندہ بچ گئی ۔ضیا ء الرحمن کو حسین محمد ارشاد نے قتل کیا ۔وہ بھی فو جی آفیسر تھے ۔انہوں نے بھی ما رشل لگا یا ۔یہ 1980 ء کا عشرہ تھا ۔1990 ء کے عشرے میں پہلے خالدہ ضیا ء اور شیخ حسینہ وا جد وزیر اعظم بن گئیں۔ اب شیخ حسینہ واجد کو دوسری بار وزارت عظمیٰ کا منصب ملا تو انہوں نے 1971 ء میں پاک فوج اور پا کستان کے ساتھ محبت کر نے والوں کو سزا ئے موت دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔اب اس واقعے کو 45 سا ل گز ر گئے ۔شیخ حسینہ واجد خود مدعی خود گواہ اور خود منصف ہیں ۔مرزا غالب نے کہا
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کر ے کو ئی
عدالت کے سا منے کو ئی ایف آئی آر نہیں ہے ۔کو ئی پوسٹ ما رٹم رپو رٹ نہیں ہے ۔کو ئی گواہ نہیں ۔کو ئی اقبا لی بیان نہیں ۔صرف فرد جر م ہے ۔ مدعاعلیہ نے اس کو ما ننے سے انکار کیا ۔انصاف کا یہ معیار عا لمی برداری کو ،انسا نی حقوق کی تنظیموں کو، اقوام متحدہ کو اور ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کو نظر نہیں آتا ۔وطن عزیز پا کستان کی حکو مت نے اپنے تین فرا ئض میں کو تا ہی کی ۔پہلا فرض یہ تھا کہ بنگلہ دیش کے بعد بہا ریوں کو پا کستان میں لا کر آبا د کر نا چاہیے تھا ۔جہاں سوا کروڑ ہندو ستاتی مہا جر اور 10لا کھ افغان مہا جر وں کو بسا یا گیا ہے ۔وہاں 3لا کھ بہا ریوں کے لئے بھی جگہ نکا لی جا سکتی تھی۔دوسری غفلت یہ ہو ئی کہ سزائے مو ت کے خلاف عا لمی عدالت انصاف سے رجوع کر نی چا ہیے تھی۔جو ہم نہ کرسکے۔اور تیسری غفلت یہ ہے کہ پا کستان سے محبت کر نے والوں کو پھا نسیاں دی جا رہی ہیں اور ہما ری حکو مت بنگلہ دیشی سفیر کو دفترخا رجہ طلب کر کے احتجا ج کر نے کی جرات بھی نہیں کر سکتی ۔سیا سی محاذ پر صرف جما عت اسلا می اس پر احتجا ج کر رہی ہے ۔مسلم لیگ اور دیگر جما عتوں کو احتجاج کی ہمت بھی نہیں ہو ئی ۔وطن کے شہیدوں نے جا نوں کے نظرانے دیے:
کرو کج جبیں پر سر کفن مر ے قا تلوں کو گما ں نہ کہو
کہ غرور عشق کا با نکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
پا کستان کی حکومت اور پا کستان کی سیا سی جما عتوں نے بے حسی کی حد کر دی ۔اگر کسی محب وطن کو مطیع الرحمن نظامی کی جدائی پر دو آنسو بہا نے کی تو فیق ملتی ہے تو اُسے د و آنسو پا کستان نیوں کی اس رسو اکن بے حسی پر بھی بہانا چا ہیے ۔مطیع الرحمن نظامی پا کستان کا ایک اور شہید ہے اور وطن عزیز کی تا ریخ ایسے شہیدوں کے خو ن سے لکھی گئی ۔مطیع الرحمن نظامی
میرے قا تلوں کو نو ید ہو ،صف دشمناں کو خبر کر و
وہ جو رکھتے تھے قرض جان پر وہ حساب آج چکا دیا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق