مضامین

داد بیداد……فر نٹیر کور سرحدوں کا محافظ

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..

فر نٹیر کور کو مختصر اً ایف سی بھی کہا جاتا ہے ۔برٹش یکارڈ میں اس کا نام ملیشیا ہے اور فوجی اصطلاح میں وزارت داخلہ کے ما تحت آ نے والی اس فورس کو سول آرمڈ فورس کہا جاتا ہے۔ یہ فورس 1903ء میں قائم کی گئی اور اس کے مختلف یو نٹ بنائے گئے ۔خیبر رائفلز ،شوال سکاوٹس، چترال سکاوٹس،ساوتھ وزیرستان سکاوٹس،نارتھ وزیرستان سکاوٹس اور دیگر یو نٹ اس میں شامل کئے گئے۔بعد میں سوات سکاوٹس اور دیر سکاوٹس بھی اس میں شامل ہوئے۔ اس میں کمانڈ اور سٹاف کی اہم پوزیشنوں پر برٹش دور سے آج تک آرمی کی مختلف یو نٹوں کے افیسروں کو 2سال یا3سا ل یا اس سے زیادہ مدت کے لئے ڈیپوٹیشن پر بھیجا جاتا ہے۔ فر نٹیر کور نے 1948ء کی جنگ میں کشمیر کے محاذ پر وطن عزیز کے لئے دفاع کی پہلی لڑائی قیام پاکستان کے ایک سال بعد لڑی۔1965ء اور1971 ء کی دونوں جنگوں میں فرنٹ لائن پر جاکر حصہ لیا۔ کارگل کی جنگ 1999ء میں فرنٹیر کور کے دستوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ 2001ء سے2006ء تک دہشت گردی کے خلاف وطن عزیز کے دفاع میں فرنٹیر کور کو ہراول دستے کی حیثیت حاصل رہی اور پاک فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے کا اعزاز حاصل کیا۔وزارت داخلہ کی ماتحتی میں ہو نے کی وجہ سے بعض اوقات فرنٹیر کور کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں۔گزشتہ دور میں امریکی مشیروں کو لایاگیاتھا۔اُن مشیروں کے مشورے بھی گل کھلاتے ہیں ۔ سیاسی حالات اور سیاستدانوں کی مصلحتیں بھی فرنٹیر کور پر اثرانداز ہوتی ہیں۔حال ہی میں حکومت نے فرنٹیر کور کے یو نٹوں کو توڑ کر آپس میں مدغم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلے سے گہری سازش کی بوآتی ہے۔ اس طرح کا مشورہ دینے والوں نے تین بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کر دیا ہے ۔پہلی بڑی حقیقت یہ ہے کہ فرنٹیر کور اس وقت دشمن کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑرہی ہے۔ جنگ کے دوران فورس کے اندر ری سٹرکچرنگ کا منصوبہ مناسب نہیں ہو تا۔ اچھا اور تجربہ کارکما نڈر ایسے بے محل اور بے موقع اقدامات ہرگز نہیں کرتا۔جنگ ختم ہوکر امن کی حالات میں آنے کے بعد فورس کے اندر ری سٹرکچرنگ اور انتظامی تبدیلیاں مناسب موقع محل پر وقت کے تقاضوں کو دیکھ کر کی جاسکتی ہیں۔ ری سٹرکچر نگ کاکام ایمر جنسی کے زمر ے میں نہیں آتا ۔امریکی مشیر وں اور سیاسی لیڈروں نے غلط وقت پر غلط مشورہ دیا ہوگا۔ فورس کے معاملات میں ایسے مشوروں کوپز یرائی نہیں ملنی چاہئے۔ دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ فر نٹیر کور انتظامی لحاظ سے اگر چہ سے وزارت داخلہ کے ما تحت ہے ۔تا ہم آپریشنل مقاصد کے لئے آرمی چیف کو رپورٹ کرتی ہے اور کور کمانڈر اپنے متعلقہ جنرل آفیسرکمانڈنگ کے ذریعے روزمرہ آپریشن کی بھی صورت حال کو دیکھتا ہے۔ ایسے کسی بھی فیصلے کا براہ راست اثر پاک آرمی کے ذمہ دارانہ فرائض پر بھی پڑسکتاہے۔ تیسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ فرنٹیر کور کا ہر یونٹ کسی علاقہ اور قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ قوم کا نام اُس یونٹ کی لئے فخر کا باعث ہے ۔اُس یونٹ کا پرائڈہے۔ خیبر رائفلز کا جوان اپنے یونٹ کے نام پر فخر کرتا ہے یا شوال سکاوٹس کے ساتھ مد غم کرنے کے نتیجے میں اس کے یو نٹ کی شنا خت گم ہو جا ئیگی ۔شوال سکا وٹس کے 10پلا ٹون اگر خیبر را ئفلز کو دیدیے گئے تو وہ اپنی شنا خت اپنے فخر اور اپنے یونٹ کے پر ائڈ سے محروم ہو جا ئینگے ۔5سال بعد ترقی اور نئی بھر تی کے مسا ئل پیدا ہو نگے تو فورس کا مو رال گر جا ئے گا ۔اندورنی جھگڑے پیدا ہونگے ۔فو رس کے اندر خلفشا ر کی صورت پیدا ہو جا ئیگی ۔شا ید امر یکی مشیروں کی یہی منصوبہ بندی ہے اور سیا سی لیڈر بلا سو چے سمجھے امر یکی مشیروں کی با توں پر سر ہلا تے ہیں اور ان کے ساتھ سر ملا تے ہیں ۔ملک ،قوم اور فورس کا مفاد دیکھنا بہت دور اندیشی کا تقاضاکر تا ہے اور سیا ست میں ایسی دور اندشی بہت کم ملتی ہے۔اس وقت پا کستا نی قوم جن بیرونی اور اندرونی خطر ات میں گھر ی ہو ئی ہے ۔ان خطرات کا مقا بلہ کر نے میں فر نٹیر کو ر کے یو نٹ وطن عزیز کے مضبوط دفا عی حصا ر کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔آپ چترال سکا وٹس کا نام مٹا کر 10یا 20 پلا ٹو نو ں پر نیا نا م چڑھا نے کے بعد ان کو نئے نا م کا فخر اور پرا ئڈ نہیں دے سکتے ۔آپ خیبر را ئفلز کا نام مٹا کر 10یا 20 پلا ٹوں پر چترال سکا وٹس یا سا وتھ وزیر ستان سکا وٹس یا ٹو چی سکاوٹس کا لیبل نہیں چڑھا سکتے ۔ 1975 ء میں پا کستان پیپلز پا رٹی کی حکو مت نے بھی اس طر ح کا تجر بہ کیا تھا ۔مگر بڑے نقصانا ت کے بعد تجر بہ ناکام ہوا۔ اور ہر یونٹ کو اپنے نام اور اپنی شنا خت کے سا تھ بحا ل کیا گیا ۔ٹو چی سکا ؤٹس کے جو ان چترال کی 475 کلو میٹر لمبی افغان سرحد پر اپنے یو نٹ کا نام لیکر فخر یہ ڈیو ٹی دینگے ۔چترال سکا ؤٹس کے جو ان اپنے یو نٹ کا نام لیکر اپنا پرا ئڈ سا تھ لے کر خیبر یا شو ال میں ڈ یو ٹی دے سکتا ہے ۔اس کا نام مٹا نا اور ان کو آپس میں مد غم کر نا چنداں ضروری نہیں ۔جنگ کے دوران ایسے فیصلے منا سب نہیں ہو تے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى