شیر ولی خان اسیر

یاد ماضی…..وہ عشق نادانی کا

………شیر ولی خان اسیر…….

Advertisements

جب میں نے یاد ماضی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا تو ایک چند دوستوں نے اشاروں کنایوں میں کہا تھا کہ کیا سب کچھ لکھ پاؤگے؟ میں نے کہا تھا کہ جو واقعہ یا تجربہ بھی یاد آئے گا لکھنےمیں کنجوسی نہیں دکھاؤں گا۔ انسان کی زندگی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جو مرتے دم تک بھلائے نہیں جاسکتے۔ ان کے تذکرہ بسے کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو تو ان کے لکھنے میں وقت برباد ہوگا۔ ہر تحریر کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے۔ اگر کوئی مقصد ہی نہ ہو تو ایسی یادوں کو چھپا کے رکھنا ہی بہتر ہے۔ ایسی یادوں کو حضرت غالب نے ” یاد ماضی عذاب” کہا تھا۔ آج جو لکھنے جارہا ہوں اس میں نوجواں بچوں اور بچیوں کے لیے ایک بہت ہی آہم سبق مطمح نظر ہے۔ اگر وہ حاصل کرنا چاہیں تو ان کو یقیناً فائدہ ہوگا۔
میں ساتویں جماعت میں تھا۔ پھِندک کا تہوار تھا۔ یہ تہوار ہر سال جون کے وسط یا تیسرے ہفتے کسی ایک دن منایا جاتا۔ در اصل اس کا تعلق پالتو جانوروں کو گرمائی چراگا (غاری) منتقل کرنے سے ہے ۔اس لیے غاری روانگی سےایک دو دن پہلے منایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں پھِندک کے دن دوسرے کھیل تماشوں کے علاوہ “اوغجاڑ یا اوغجان یا اوغ جنگ” ( ایکدوسرے پر پانی پھینکنا) تہوارکا ایک آہم جز ہوتا تھا۔ پھندک کے دن خواتین اور بہو بیٹیاں صبح سے لے کر چاشت تک جھولا جھولا کرتیں۔ کسی اونچے درخت کی مضبوط شاخ سے تکڑی رسی باندھ کر جھولا بناتے اور کھیلا کرتیں۔ اس کے بعد اپنے برتن سنبھالے اوغجاڑ کے لیے نکلا کرتیں۔ اوغجاڑ زیادہ تر مردوں اور عورتوں کے مابین ہوا کرتا۔ اور اگر مرد یا لڑکے نہ ملتے تو لڑکیاں اور خواتین آپس میں مقابلا کیا کرتیں۔ جہاں پولو کا کھیل ہوتا وہاں پر پولو کے کھلاڑیوں پر پانی پھیکنے کا تماشہ بہت دلچسپ ہوا کرتا کیونکہ اچانک پانی کی بوچھاڑ سے گھوڑے بدک جاتے اور سواروں کو گرا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ کھیل کی تیاری میں بن ٹھن کر جانے والا گھڑ سوار جب پانی میں بھیک کر بھاگنے لگتا تو خواتین اس کا بھر پور لطف اٹھایا کرتیں۔ اسی اوغجاڑ یا جنگ کے دوران دیکھا کہ ایک لڑکی میری طرف کچھ زیادہ متوجہ ہے جو عرصہ پہلے سے مجھے اچھی لگ رہی تھی۔عمر میں مجھ سے چھوٹی تھی۔ اس اوغجنگ کے موقع پر اس نے مجھ پر پانی پھینکنے میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی اور پھرتی دکھائی تو میں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں اسے پکڑ کر نہر میں گرا دیا اور پوری طرح تربتر کردیا۔ اس دو بدو اوغجنگ میں میں نے بھی اسے مزید غور سے دیکھا تو مجھے بہت ہی اچھی لگی۔ اس کے بعد جب بھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا تو ہم ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے اور ساتھ ہی مسکراہٹ کا تبادلہ بھی نہ بھولتے۔ مسکراہٹ کے تبادلہ کے ساتھ ہی دونوں کو شرم آتی اور ہم نظریں نیچی کر لیتے۔ اس کا چہرہ سرخ گلابی ہوجاتا اور مجھے اور بھی پیاری لگتی۔ شاید میرا چہرہ بھی سرخ ہوجاتا جس کا مجھ کو علم نہ ہوتا۔ دنوں اور لمحوں کے گزرنے کے ساتھ اس لڑکی کے چہرے کےنقوش میرے ذہن کے پردے پر گہرے ہوتے گئے یہاں تک کہ میں کسی نہ کسی طرح اسے دیکھنے کی کوشش میں ہو نے لگا۔ اس پر نظر پڑتی تو دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتیں۔ مجھے ایسا لگتا کہ اس کے دل میں بھی مجھ سے ملنے کی آرزو کروٹ لے رہی ہے کیونکہ وہ بھی بہانے بہانے سے میرے گھر آنے لگی تھی۔
صرف دیدار تک محدود یہ عشق مہینوں اور پھر سالوں جاری رہا اور ہر ساعت کے گزرنے کے ساتھ اس میں گرمی کا احساس زیادہ ہونے لگتا تھا اور اس سے جدائی کا ڈر دل کو کھائے جا رہا تھا۔ صبح سکول کیلے گھر سے نکلتا تو جب ان کا گھر نظروں میں آجاتا تو آنکھوں سے اوجھل ہونے تک میں اس کی طرف تکتا رہتا۔ کبھی کبھی اس کو گھر سے باہر دیکھ لیتا اور میری آنکھوں میں ٹھنڈک آجاتی۔ ہر رات بستر پر لیٹنے کے بعد نیند آنے تک میں یہ ارادہ پختہ کرنے کا فیصلہ کرلیتا کہ کل جب اس کو ملوں گا تو دل کا حال ضرور بتاؤں گا۔ روز ملنے کا موقع حاصل تھا۔ بکریوں کو چراگاہ سے اترنے پر گھرلانے ( روچی) کا بہانہ ہم دونوں کو روز میسر تھا البتہ اکیلے میں ملنا ذرا مشکل تھا۔ تاہم کوشش جاری رکھنے کی صورت میں کبھی کبھی جب چند لمحوں کے لیے یہ چانس بھی ملا کرتا تو زبان گنگ ہوجاتی۔ لاکھ ہمت کے باوجود دو لفظ محبت کے منہ سے نہ نکل پاتے اور وہ لمحہ ہاتھ سے نکل جاتا۔۔ اس حالت میں وقت گزرتاگیا ۔ میں اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اس عجیب و غریب عشق بازی نے میری پڑھائی کو بے حد متاثر کیا۔ عام طور پر میں سوتے وقت بستر پر لیٹتے ہی اس دن کے بعض ضروری اسباق کو پھر سے دل ہی دل میں دھرایا کرتا تھا لیکن جب سے عشق میں “مبتلا” ہوا تھا تو اسباق کی جگہہ محبوبہ کی صورت تھی اور اس کا تصور قابض تھا۔ میں بعض اسباق صبح سکول جاتے راستے میں یاد کیا کرتا تھا خاص کرکے رٹا والے آئیٹم۔ اب ان کی جگہ جاناں کے خیالات تھے۔ اس حالت میں میں نے آٹھویں کا امتحان پاس کرکے چترال میں داخلہ لے لیا۔ مڈل سٹینڈرڈ کے امتحان میں صرف 48 فیصد نمبر لے سکا تھا حالانکہ ساتوٰیں جماعت کے سالانہ امتحان میں 84 فیصد نمبر لے کر پورا سکول ٹاپ کیا تھا۔
ہائی سکول چترال کی نویں جماعت میں داخلہ لینے کے بعد مختصر لمحوں کی ملاقات کے مواقع بھی ہاتھ سے نکل گئے اور میں اپنا عشق اپنے دل میں چھپائے تڑپتا رہا۔ لمبی تعطیلات پر گھر آتے جاتے پرکوسپ میں ایک ڈیڑھ دن گزار لیا کرتا اور کبھی خوش قسمتی سے دور سے یا نزدیک سے دیدار ہو جاتا لیکن حال دل سنانے کی نوبت کبھی نہیں آئی۔ پھر میں کالج گیا۔ انہی دنوں اس دشمن جان کی شادی ہونے کی خبر ملی اور میں دل تھام کے رہ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ زمانے کی گرد اس پر چھاتی رہی اوروہ حسین و جمیل صورت دل کے پردے سے غائب ہوگئی۔ ان دنوں میں ماضی کے پردوں سے گرد جھاڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔اس جھاڑ پونچھ میں میری نادانی کی زندگی کے اس ادھورے عشق کے دھندلے نقوش نظر آئے تو میں نے قارئین کے سامنے اپنا پرانا راز فاش کردیا۔ مزید کھریدنے کی  کوشش نہ کریں تو مہربانی ہوگی۔ اب سوچتا ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم نے اس کچے عشق کو اپنی زندگی اور موت کا مسلہ نہیں بنایا ورنہ شاید ہماری اور ہمارے والدیں کی رسوائی ہوتی۔ آج ہم دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں خوش و خرم ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى