ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……نقشہ اور سفارت کاری

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ……..
تا جکستان میں کا سا 1000 منصوبے کے افتتاح کے مو قع کے علاقے کا جو نقشہ دکھا یا گیا ۔اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا ” اٹوٹ انگ “قرار دے کر پاکستان کو کشمیر کے آزاد خطے اور گلگت بلتستان کے بغیر ادھورا دکھا یا گیا تھا ۔اخبار نو یسوں نے اس فاش غلطی سے پردہ اُٹھا یا تو تا جکستان کی حکو مت نے غذر پیش کیاکہ نقشہ محض کا سا 1000 منصوبے کے حوالے سے علاقے کا تعارف تھا ۔اس میں علاقی حدود ، بین ا لاقوامی سرحدات اور سرحدات میں تبدیلی کو ئی مسئلہ نہیں ۔یہ معمولی بات ہے ۔اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا ۔اس قسم کی معذرت کے لئے فارسی میں “عذر گناہ بد تراز گناہ “کا مقولہ استعمال ہو تا ہے ۔یعنی اپنی فاش غلطی کے لئے غذر پیش کرنا فاش غلطی سے بھی بڑی غلطی ہے ۔شاعر نے کہا ” مارا بغمزہ کُشت وادا رابہانہ ساخت” مجھے اس نے غمزہ کے ذریعے قتل کیا اور بہانہ یوں تراشا کہ یہ تو میری ادا تھی ۔یعنی کسی کی جان گئی تیری ادا ٹھری۔ کاسا 1000منصوبے کے افتتاح کی تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،اور کر غزستان کے صدر کے ہمرہ افغانستان کے چیف ایگر یکٹیو عبداللہ عبد اللہ اور تا جکستان کے صدر علی امام رحمانوف بھی موجود تھے ۔ انگریز ی میں اس کو “ہائی پروفائل ایونٹ “کہتے ہیں ۔ پچھلے 3مہینوں سے اس کے لئے تیاری ہورہی تھی۔ فروری سے مئی تک چاروں ممالک کے سفیروں نے اس پر کئی میٹنگوں میں بحث کیا ۔ چاروں ممالک کے خارجہ محکموں کے حکام نے اس پر طویل مذاکرات کئے۔ پرگرام کا بلیو پرنٹ 5بارمیٹنگوں میں پیش ہو ا۔ اس کی منظوری دی گئی اسلام آباد اور دوشنبہ میں دفترحارجہ کے حکام کے درمیاں کئی مراسلات کا تبادلہ ہوا۔ آخر میں پر وگرام کی منظوری دی گئی۔ اس نقشے کو متعلقہ حکام نے 3مہینوں میں 28با ر دیکھا ۔ 28بار اس پرغور کیا تب یہ نقشہ اس ہائی پرو فائل تقریب میں دکھا یا گیا۔ تاجکستان ،کرغزستان اور افغانستان کے ساتھ بھارت کی گہری دوستی ہے۔ یہ ممالک تجارت ،سیاحت ، ثقافت اور معیشت کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے کئی منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاجکستان میں بھارتی سفیر کا رتبہ تاجک صدر کے برابر سمجھا جا تاہے۔ ا سلام آباد میں امریکی سفیر کو جو درجہ دیا گیا ہے وہ درجہ دوشنبہ میں بھارتی سفیر کو حاصل ہے۔ بھارت کے تاجر ، اخبار نویس اور سیاح تا جکستان میں وی آئی پی حیثیت رکھتے ہیں ۔پاکستان کے سیکورٹی ایجنسیوں کو ان باتوں کا بخوبی علم ہے۔ پاکستان کے اخبار نو یسوں کو ان باتوں کا علم ہے۔ پاکستان کے عسکری حلقوں کو بھی ان امور کا علم ہے۔ اگر پاکستان کا کوئی محکمہ ان باتوں سے بے خبر ہے تو وہ دفتر خارجہ ہے شاعر نے کہا:
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جا نے نہ جانے گل ہی نہ جا نے باغ تو سارا جا نے ہے
یہ نقشہ معمولی نقشہ نہیں تھا اور اس نقشے کو معمولی وقت پر نہیں دکھایا گیا ۔اس تقریب میں حسین شہیدسہروردی ،فیلڈ ما رشل ایوب خان ،ذولفقار علی بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز مشرف اور آصف زرادری میں سے کو ئی لیڈر ہو تا تو واک آؤٹ کر تا، با ئیکا ٹ کر تا اور درست نقشہ لا کر ڈسپلے کرنے تک پرو گرام میں واپس شریک نہ ہو تا ۔تا جکستان میں پا کستان کے سفا رتی عملے کو گھر بھی بھیج دیا جا تا اور دفتر خا رجہ میں سنٹرل ایشیا کے ڈیسک پر کا م کر نے والے ذمہ دار افیسروں کی فو ری معطلی کے احکا مات صادر ہو تے ۔اگر کو ئی وزیر خا رجہ ہو تا تو وہ فورا استعفیٰ دے دیتا ۔سیکر ٹری خا رجہ کی چھٹی کر ادی جا تی ۔یہ وا قعہ امر یکہ ،بر طا نیہ فرانس یا جر منی میں ہو تا تو اس کی علا متی حیثیت ہو تی ۔مگر یہ واقعہ تا جکستان میں ہو ا ۔گلگت اور دوشنبہ کا زمینی فا صلہ 600 کلو میٹر ہے ۔کا شغر 800 کلو میٹر اور کا بل بھی 800 کلو میٹر ہے۔تا شقند گلگت سے دو ہزار کلو میٹر دور ہے۔ تا جک حکام نے 600 کلو میٹر کے فا صلے پر قریبی سرحد کو کسی سہو، غلطی یا غلط فہمی سے بھارت کا حصہ قرار نہیں دیا بلکہ جان بو جھ کر ،سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے سفارتی عملے کی کمزوریوں ، دفتر خارجہ کی بے حسی اور پاکستان قیادت کے عمومی رویے کو پیش نظر رکھ کر ایسا نقشہ ایسے موقع پر دکھا یا ۔یہ معمولی غلطی نہیں تھی ۔اس کو معمولی واقعہ قرار دینا ظلم ، جہل اور جبر ہے ۔یہ بے حسی کی حد ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ اور بھارتی دفترت خارجہ کے ساتھ ساتھ بھارت کے سیاسی لیڈر اور وزرائے اعظم بھی اس معاملے میں بہت محتا ط رویہ رکھتے ہیں ۔ بھا رت نے اس طرح کے نقشے کو دنیا بھر میں پھیلا یا ہوا ہے ۔ان نقشوں میں کو ہستان ،سوات اور چترال کے کچھ حصوں کو بھی گلگت بلتستان میں شا مل کیا گیا ۔داسو ڈیم ،شا نگلہ پا س اور شندور پا س میں بھا رتی ایجنسی نے لا ئن کھنچی ہے ۔و قتا فو قتا بھا رتی ایجنسی ان لا ئینوں پر تنا زعات کو ہوا دیتی ہے ۔یہ نقشوں کی مدد سے بھارتی دہشت گردی ہے ۔اس پر پا کستان نے تا جک حکام سے جو احتجاج کیا وہ بھی کا فی نہیں تھا ۔تا جک حکام نے جس طرح کی معذرت کی وہ بھی کا فی نہیں ہے ۔حکومت کو چا ہیے کہ دوشنبہ سے اپنے سفیر کو احتجا جاً واپس بلا لے اور اسلام آباد میں متعین تا جک سفیر کو ملک بدر کر دے ۔وزیر اعظم اور مشیر خا رجہ یا معا ون خصوصی برا ئے امور خارجہ کا پا کستان کے نقشے سے واقف ہو نا چنداں ضروری نہیں ۔سیا سی لو گوں کے پا س وقت نہیں ہو تا سیکر ٹری خارجہ ،ڈا ئر یکٹر جنرل دفتر خا رجہ ،تا جکستان میں متعین پا کستانی سفیر اور اسلام آباد میں متعین تا جک سفیر کو یقیناًپا کستان کے نقشے کا علم ہو نا چا ہیے اور ضرور ہو نا چا ہیے ۔قو می اسمبلی اور سینٹ میں خا رجہ امور کی قا ئمہ کمیٹیوں کو اس کا نو ٹس لینا چا ئیے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے قو می سلا متی لیفٹیننٹ جنرل (ر)نا صر جنجو عہ کا شمار پڑھے لکھے آفیسروں میں ہو تا ہے ۔ان کو یقیناًمعا ملے کی نزاکت کا اندازہ ہو گا ۔سینٹ میں قا ئد حزب اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن اور چےئر مین سینٹ رضا ربانی بھی اس معا ملے کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہیں ۔نقشے میں رد وبدل کر نے کا واقعہ پا کستان کی تو ہین ہے ۔ پاکستانی قوم کی تو ہین ہے۔ یہ پا نا مہ لیکس اور میمو گیٹ سے بڑا سکینڈل ہے ۔اس کو ایک بڑے سیکنڈل کی سی اہمیت ملنی چا ہیے جو بد قسمتی سے نہیں مل رہی ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق