ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )…..’’پروفیشنل گداگر‘‘

……… (ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)……..
کل شام میں نے دیکھا کہ ہمارا ایک پڑوسی بازار میں پھیر ی لگا کر سبزی فروخت کرنے والے آدمی سے ایک کلو میں صرف 5روپیہ کم کرنے پر زبردست بحث کر رہی ہیں ۔ جب سبزی فروش بھی اپنی خاص دُرشت لہجے میں جواب دینے لگا تو میں نے اُسے خاموش ہونے کو کہا اور پھر آگے بڑھ گیا ۔ یہی پڑوسی کچھ دیر بعد میرے گھر آئیں تو میرے بڑے بھائی سے باتوں باتوں میں کہنے لگیں کہ آج کل ہر طرف لوٹ مچی ہوئی ہے ۔ ابھی سبزی والے نے سوداکرنے میں ہلکان کردیا ۔ادھر اُدھر کی باتوں میں کچھ دیر گزری ہوگی کہ ایک گداگر نے گلی میں صدا لگائی ۔ پڑوسی بھائی نے میرے چھوٹے بھائی کو قریب بُلایا اور 10روپے کا نوٹ دے کر کہا ’’ بیٹا ذرا یہ فقیر کو دے دینا ‘‘۔
یہ محض میر اایک پڑوسی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو دیکھیں تو یہ ہمارا یک عام سا رویّہ سا ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے افراد جو ہمیں سروسز فراہم کر رہے ہیں ، با معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور محنت کی کمائی کیلئے کمر بستہ ہیں ، ان سے ہم ایک دو روپیہ کیلئے اُلجھ جاتے ہیں اور پھر یہ محنت کشوں سے بچائے ہوئے پیسے پیشہ ور گداگروں کو دے دیتے ہیں ۔ اکثر مانگنے والے ایسے لوگوں کا حق بھی لے اُڑتے ہیں جن پر خرچ کرنا ہمارا مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی فرض بنتاہے۔
حضور پاک ﷺ نے ایسے محنت کشوں اور سفید پوشوں کو راہ خدا کا مسافر قرار دیاہے۔ رسول ﷺ کا فرمان ہے ’’ جو شخص اسلئے محنت کرتا ہے تاکہ کسی سے سوال نہ کرنا پڑے تو وہ اللہ کے راستے پر گامزن ہے‘‘ آج ہم اپنی سوسائٹی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مختلف انداز میں مانگنے والے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ شاید اسی لئے حقدار کو اُس کا حق نہیں ملتا ۔ سفید پوش مستحق لوگ محروم ہو جاتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ میں اللہ فرماتا ہے ’’ خیرات ان فقراء کیلئے ہے جو راہ خدا میں ( یعنی زندگی کی معاشی و معاشرتی دوڑ میں ) رُکے ہوئے ہیں اور زمین پر چل پھر نہیں سکتے ۔ جاہل لوگ ان کو سوال نہ کرنے کی وجہ سے مالدار سمجھتے ہیں ۔ تم ان کو ان کے چہروں سے پہچانو گے۔ وہ آدمیوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے ‘‘۔
آج ہما را حال شاید قرآن و رسول ﷺ کی تعلیمات کے بر عکس ہوتا جارہا ہے ۔ ہمارے ہاں بہت سے پیسہ دار ، جاگیردار، بڑی دکانوں کے مالکان مذہبی تقاریب اور مساجد کی تعمیر پر تو ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں لیکن اپنے ملازمین کی ماہانہ تنخواہ میں اضافے کیلئے تیّار نہیں ہوتے ، انہیں سالانہ بونس یا دیگر جائز اور لازمی مراعات دینے میں حیل و حّجت کرتے ہیں اور جب بھی ایسی کوئی بات کی جائے تو انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی یا د آجاتی ہیں یا پھر وہ منافع میں کمی کا رونا لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مسجدیں عالیشان ہیں، مدارس جدید سہولیات سے آراستہ ہیں، ویلفئیر کے نام پر قائم ہونے والے اکثر ادارے مسائل سے مالا مال ہیں ، اکثر مذہبی تقاریب کا اہتمام لاکھوں روپے خرچ کرکے کیا جاتاہے ، لیکن معاشرے میں غربت بڑھتی جا رہی ہے، لوگ روز مرّہ اخراجات پورا کرنے سے قاصر ہوکر نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ، معاشرے میں صبر و ضبط کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر ایک مانگ رہا ہے۔ گورنمنٹ ترقی یافتہ ممالک سے ایڈ مانگتی نظر آتی ہے۔ مساجد سے چندے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ کتنے ہی اصل یا کاغذی مدارس کے بعض نمائندے کمیشن پر بسوں اور گلیوں محلوں میں چندے کے ڈبے لئے تقاضا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پیشہ ور گداگر وں کا تو ایک ہجوم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ملک میں دس لاکھ سے زائد گداگر ہیں ، ذرا سا مقبول ہوا تو فوراََاُس نے کوئی فلاحی تنظیم بنالی، کسی ہسپتال وغیرہ کی بنیاد رکھ دی ، جس کی تعمیر ہی کبھی مکمل ہوتی نظر نہیں آتی یا پھر مکمل ہو جائے تو علاج اتنا مہنگا کہ محض بل دیکھ کر غریب آدمی کی حرکت قلب بند ہونے لگے۔
پاکستانی قوم چیریٹی اور ویلفئیر کے نام پر کروڑوں بلکہ سالانہ اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ یہ کروڑوں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اصل مستحق افراد تک کیوں پہنچ نہیں پاتے ؟ کیوں غربت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں؟ آخر کیوں مفلسی سے تنگ آکر لوگ خود کشی کر رہے ہیں ؟ آخر کس لئے گھٹے گھٹے ماحول کا پروردہ نو جوان کرپشن یا جرائم میں ملوث ہوتا جا رہا ہے؟
اس مسئلے کا حل اور تجاویز میری رائے میں کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مستحق کو اس کا حق نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ……..
ٌٌٌ*….درحقیقت ہم ایسے لوگوں پر خرچ کر رہے ہیں جن کو جانتے نہیں او ر نہ ہی انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارے اس رویّے سے عموماََ چالاک افراد فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔
*….ہم خود مستحق افراد کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ہم اتنے سہل پسند ہو چکے ہیں کہ یہ اہم کام، جس کے بارے میں ہمیں رب کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، ہم نے دوسرے کے سپرد کر دیاہے۔
*….میرے ذہن میں اس مسئلے کے حل کیلئے چند تجاویز ہیں کہ محترم قارئین کرام ان تجاویز کے متعلق بتائیں کہ آیا یہ قابل عمل ہے کہ نہیں اور اگر آپ کے پاس بہتر تجاویز ہیں تو پیش کیجئے تاکہ لوگوں کا بھلا ہوں۔
حضورپاکﷺ نے فرمایا’’ ایک دینار وہ ہے جو آدمی اپنے بال بچوں اور زیر کفالت لوگوں پر خرچ کرتا ہے ، ایک دینار وہ ہے جو اپنی سواری پر خرچ کرتاہے، ایک دینار وہ ہے جو اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ،ان سب میں افضل وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے‘‘
اس حدیث مبارک سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آدمی کو ابتداء اپنے گھر سے ہی کرنی چاہیے۔اپنے اور اپنے گھر والوں کی بہتری کیلئے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے ، ایسا نہ ہو کہ آدمی خود تو بھوکا مر رہا ہوں اور دوسروں کو بانٹتا رہے۔گھر کے بعد میرے خیال میں قریبی رشتہ دار اور ہمسائے کا حق ہے کہ ان میں جسے شدید ضرورت ہے اس کی ضرورت پوری کی جائے۔ اگر ہمسایہ محرومی کا شکار ہے اور آدمی چیریٹی کے نام پر دوسروں کی جیبیں بھر رہا ہے تو اس سے بھی محرومی پھیلتی ہے۔
*ہمسایوں کے بعد اپنے کاروبار سے منسلک افراد میں دیکھنا چاہئے کہ کسی کی کوئی ضرور ت ہے۔تو اُسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔
*اس کے بعداپنے دور کے رشتہ داروں میں ایسے لوگوں کی تلاش کرنے چاہیے ۔
*تمام قریبی جاننے والوں ، رشتہ داروں کے بعد پھر کہیں جا کر ایسے لوگوں کا نمبر آتا ہے جن کو ہم قریب سے نہیں جانتے۔ محض ان کی شہرت سُن کر یا اُن کے نام سے واقف ہوجانا جاننا نہیں کہلاتا ۔۔۔
قارئین کرام !
میری باتیں کڑوی ضرور ہیں لیکن ذرا توجہ اور گہرائی کے ساتھ غور کریں اور بتائیں کہ کیا ہم خود ہی معاشرے میں معاشی نا ہمواری یا محرومی پید اکرنے کا سبب تونہیں بن رہے ہیں۔ ہمارے قریبی لوگ تو محرومی کے شکار ہو رہے ہیں اور ہم ایسے لوگوں کیلئے خرچ کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں پتہ ہی نہیں ……؟ یا وہ افراد اُس کے مستحق ہی نہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى