ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..ڈھاکہ کی بھولی بسری یا دیں

…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……..



کا لمو ں کا رد عمل ہمیشہ قابل اشاعت اور لا ئق تو جہ نہیں ہو تا لیکن بعض اوقات استشنا ئی حالت سامنے آتی ہے۔ کسی کالم کے رد عمل میں ما ضی کے در یچے کھل جاتے ہیں چراغ سے چراغ جلتا ہے ۔ داد بیداد ،میں ایک تحریر بنگلہ دیش میں پھانسیاں شائع ہوئی تو ڈرگ اسمعیل خیل نو شہرہ سے ڈاکٹرمجیب اور گل بنی خٹک نے اس رد عمل میں ماضی کی بھولی بسری یا دوں کو تازہ کیا۔اس بات میں شک وشبہ اور کلام کی گنجائش نہیں کہ ملا عبدالقادر پر وفیسر غلام اعظم ، مجاہد علی حسن اور مطیع الرحمن نظامی کو محض ذاتی بغض ، حسد ، کینہ ، دشمنی اورا نتقام کا نشانہ بنا کر پھا نسیاں دی گئیں ۔ شیخ حسینہ واجد کا جوش انتقام اب بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ ترکی واحد اسلا می ملک ہے جس کے حکمرانوں نے بنگلہ دیش سے سفارتی تعلقات ختم کرکے اپنے سفیر کو ملک واپس بلا لیا۔ اور بنگلہ دیش سفیر کو ملک بدر کر دیا ۔ پاکستان سمیت کسی دوسرے اسلا می ملک کو یہ ا ہمیت اور جرات نہیں ہوئی گل نبی خٹک نے ڈھاکہ کی بھولی بسری یا دوں کو تا زہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں 1969ء سے 1971ء تک ڈھاکہ اور فرید پور دوسرے شہروں میں میں مقیم رہا ۔ 18نومبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ سے 28دن پہلے ڈھاکہ سے آ خری بار نکلا ورنہ میں بھی 93ہزار جنگی قید یوں میں شامل ہو کر بھارت چلا جاتا۔میں نوجواں تھا میری عمر25سال تھی میرے والد گرامی پاک فوج میں کے سپلائی کنٹر یکٹر تھے اور میں کاروبار کے اندار اپنے باپ کا ہاتھ بٹا تا تھا ۔ قوم پرست تحریکوں کے سا تھ طالب علمی کے زمانے سے میری دلچسپی تھی۔خبریں شوق سے سنتا تھا۔ اخبارات با قا عدگی سے پڑھا تا تھا اور ضروری مواد کا ریکا رڈ بھی رکھتاتھا ۔75سال کی عمر میں بھی ڈھا کہ اور دیگر شہروں کی خبریں دلچسپی کے ساتھ سنتا اور پڑھتا ہوں ۔اس وقت کے سارے کردار میری نظر وں کے سامنے گزرے ہیں ڈھاکہ سے انے کے بعد بھی خبروں میں گہری دلچسپی لی ہے۔دوستوں کے ساتھ را بطے میں رہا ہوں۔دو باتیں پاکستان میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ بھا رتی ایجنسی نے مکتی با ہتی کی قیادت کے لئے پاک فوج کے ایس ایس جی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بنگالی افیسر کیپٹن حیدر کو اپنے ساتھ ملایا وہ بھگوڑا ہوکر غائب ہوا۔ بھارت میں ٹریننگ اور وسائل حاصل کر کے واپس لو ٹا اور بنگالی نوجوانوں کو بھر تی مکتی باہتی قائم کی ۔اس کی اصل قیا دت بھارت کے سنیر حکام کے پاس تھی کمانڈ وہ لوگ کر رہے تھے۔آج پاکستان میں جو دہشت گرد ہیں ۔ان کی مکتی با ہتی کے ساتھ گہری مما ثلت ہے۔ پاک فوج اور پاکستان کے خلاف دہشیت گردوں کی موجودہ جنگ ہو بہو مکتی با ہتی کی جنگ ہے ۔یہ درست ہے کہ شیخ مجیب اور ان کے کنبے کا قتل جنرل ضیا ء الرحمن کے حکم سے لیا گیا ۔جنرل ضیاء الرحمن کو جنرل منظور نے قتل کروایا۔اور اس کے دونوں بازو کٹوا دے تا ہم جنرل منظور کے خلاف فوج کے اندار ایسی بغاوت ہو تی جیسی 1999ء میں ہماری فوج نے جنرل ضیاء الدین بٹ کی سر براہی کے خلاف بغاوت کی اس فوری فوجی بغاوت میں جنرل منظور ماریے گئے ۔اور جنرل حسین محمد ارشاد نے فوجی کی کمان کے ساتھ اقتدار پر بھی قبضہ کیا۔وہ شاعر تھے اور 1971ء میں بھی فوجیوں میں مقبو ل آفیسر تھے۔ان کی سوشل زندگی فوجیو ں کو پسند تھی شیخ حسینہ واجد در اصل ایٹمی سائنسدان ہیں۔انہوں نے جر من سے ری ایکٹر ٹیکنالو جی کی علیٰ تعلیم حاصل کی ہے باپ کے مر نے کے وقت وہ جر منی میں تھیں ۔باپ کے مرنے کے بعد وہ بھارت منتقل ہو گئیں ۔اور بھارت میں رہ کر انہوں نے بنگلہ دیش کے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینے کی منصوبہ بندی کی ۔ اور بھارت کی مدد سے وہ دوبارہ وزیر اعظم بن گئیں ان پر بھا رت کیا احسانات بھی ہیں۔ بھارت کا دباؤ بھی ہے گل نبی خان خٹک لکھتے ہیں کہ دسمبر 1970ء میں الیکشن ہوئے الیکشن کے بعد جنرل یحیےٰ خان ڈھاکہ آئے تو انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کو مستقیل کا وزیر اعظم کہہ کر پکارا۔ریڈیو کا اور اخبار ات نے خبر نشر اور شائع کی ۔ مولانا مفتی محمود اور خان عبدالولی خان پار لیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ پہنچ گئے لیکن بھٹو نے با ئیکاٹ کیا اور اعلان کیا ۔جو رکن اسمبلی ڈھا کہ جا ئے گا اس کی ٹا نگیں تو ڑی جا ئینگی ۔سا تھ ہی جنرل یحیےٰ خان کے قریبی جر نیلوں نے اس وقت کے صدر اور کما نڈر انچیف پر دباؤ ڈالا ۔ دباؤ ڈالنے والے جنرل غلام عمر اور جنرل پیر ذادہ تھے صا حبزادہ یعقوب علی خان نے احتجا جا فوج سیاست استعفٰی دیدیا اس کے بعد جو کچھ ہوا ۔وہ تا ریخ کا حصہ ہے ۔میجر جنرل راؤفر مان علی اور بر یگیڈ یر صدیق سا لک نے تفصیل کے سا تھ لکھا ہے۔جنگی قیدی بننے والے افیسروں میں سے بہت سے لوگ زندہ ہیں ۔ہر ایک کے سینے میں بے شمار کہا نیاں ہیں۔پاک فوج کے شانہ بشانہ مکتی با ہتی کا مقا بلہ کر نے والوں میں ملا عبد القا در ،پر و فیسر غلام اعظم مجا ہد علی حسن اور مطیع الر حمن نظامی جیسے محب وطن پا کستانی آگے آگے تھے ۔گل نبی خٹک کی بھو لی بسری یا دیں بہت دلچسپ ہیں ۔اور یہ وطن عزیز کی تا ریخ کا حصہ ہیں ۔ایسی یا دوں کو وقتاً فو قتاً کر یدتے رہنا چا ہیے۔
تا زہ خواہی دا شتن گر داغ ہا ئے سینہ را
گا ہے گا ہے باز خواں این قصہ پا رینہ را

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق