ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…….کو شٹ پل کا حادثہ

……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی …….


کو شٹ پل کا حادثہ عین متو قع تھا ۔اگر حکومت کا کوئی اتہ پَتہ ہو تا، انتظامیہ ہو تی، سی اینڈ ڈبلیو کا کو ئی سب انجینئر ہو تاتو کو شٹ کے پُل پر گاڑیوں کی ٹر یفک 4ماہ پہلے بند ہو چکی ہو تی۔مگر اندھیر نگری میں کو ئی ذمہ افیسر مو قع پر نہیں ہے ۔اس لئے لوگ حادثے کا انتظار کر رہے تھے ۔یہ معلوم نہیں تھا کہ کس کی باری ہے ۔ اجل کس کو کھینچ کر پل پر لے آتا ہے؟ “واقعہ سخت ہے اور جان عزیز ” اجل نے بلبل خان ایوبی اور ان کے تین سا تھیوں کو خونی پل پر حادثے سے دوچار کر دیا۔یہ 23مئی 2016کی شام کا واقعہ ہے اگلے دن کے خبارات میں اس اندوہناک حادثے کی خبریں شائع ہوئیں ۔کوشٹ ضلع چترال کا بہت بڑا قصبہ ہے یہ الگ یونین کونسل ہے اور اس کی آبادی 25ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔کوشٹ چترال گلگت روڈپر کوراغ کے مقام پر دریا کے پار دور دور تک نظر آتاہے۔ یہ قصبہ زرخیز بھی ہے مردم خیز بھی ۔کوشٹ کا پل 21جولائی2015کو سیلاب میں بہہ گیا تھا۔اور علاقے کا را بط باقی دنیا سے کٹ گیا تھا۔سول انتظامہ نے راستہ بحال کر نے میں کوتاہی کی توعوام نے پاک فوج سے اپیل کی ۔پاک فوج نے عارضی پل تعمیر کیا ۔فروری کی بارشوں کے دوران پل میں شگاف پڑگیا اور پل قابل استعمال نہیں رہا۔ پھر بھی مجبوری تھی۔ لوگ پل پر گاڑیوں میں سفر کرتے تھے ۔پل کی تعمیر کے لیے لوگوں نے میں جلسے کئے ، روڈ بلاک کیا، ریلیاں نکالیں، بھوک ہڑتال اور خودسوزی کی دھمکیاں دیں مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ بلکہ” الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے “کے مترادف اپنے جائز مطالبے کے لئے آواز اٹھانے والوں کے خلاف تحصیل انتظامیہ مستوج نے ایف آئی آر درج کئے۔ گیارہ مہینے گزر گئے ۔گیارہ مہینوں میں حکومت کو ایک بھی رپورٹ نہیں ملی حکومت کے کسی عہد یدار کو اس پل کے ٹوٹنے کا علم نہیں ہوا۔لوگوں کے جلسوں جلو سوں کا علم نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ گیارہ ماہ بعد دوسرا حادثہ ہوا 3 قیمتی جانیں گاڑی کے ساتھ دریابردہوگئیں ۔فیض احمد فیض نے کہا ہے :

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

کوشٹ پل کے حادثے پر چترال کے عوام اور خواص کو ماضی کے دواہم واقعات یاد آگئے ہیں ۔ان واقعات کی صدائے باز گشت سنائی دیتی ہے۔ مینجمنٹ سائنسز ، سول سروس اکیڈیمی اور نیشنل ڈیفنس یو نیورسٹی کے لئے ان کی کیس سٹڈیز تیار کی جاسکتی ہیں کہ اچھی حکمرانی کیا ہے۔ ناکام حکومت کس کو کہتے ہیں یہ 20فروری 1976ء کا واقعہ ہے۔ چترال میں برف باری ہوئی ، افعان سرحد سے ملحق 14000فٹ کی بلندی پر واقع وادی بروغیل کے 13دیہات میں 6ہزار نفوس کی آبادی برفباری میں محصور ہوگئی۔ انسانوں اور مال مویشیوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ 12فٹ برف میں دھنس کر پہنچ سے باہر ہوگیا ۔ 20فروری کی شام 5بجے چترال کے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ ملی۔رات 8بجے یہ رپورٹ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی میز پر تھی ۔بھٹو نے ڈپٹی کمشنر سے فون پر بات کی ۔ قومی اسمبلی کے ممبراتالیق جعفر علی شاہ کو فون کیا اور دو گھنٹوں کے اندر ممکنہ امداد کی ضرورت اور طریقہ کار پر تفصیلی رپورٹ دینے کو کہا۔کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور آئی جی ایف سی کو ہائی الرٹ کا حکم ملا۔ رات 11بجے وزیراعظم نے ساری معلومات جمع کرکے حکم دیا کہ زمینی راستے بند ہیں۔ صبح 10بجے سے سی ون تھرٹی (C-130)جہا زوں کے ذریعے خوراک اورچارہ بروغیل پہنچانے کا انتظام کیا جا ئے اور اگلے 7دنوں میںآپریشن بلیوسٹار مکمل ہوا۔ لوگ اب بھی اس واقعے کو یاد کرتے ہیں۔ پا کستان تحریک انصاف کے ایک لیڈر رستم شاہ مہمند ڈپٹی کمشنر چترال اور دوسرے رہنما رحمت غازی خان ڈسٹرکٹ کونسل کے چیف آفیسر تھے۔ 6گھنٹوں میں وزیراعلیٰ سے وزیرا عظم تک رپورٹ گئی۔ تفصیلات مانگی گئیں۔ جواب دیا گیا اور احکامات جاری کئے گئے۔چکلالہ ائیر بیس سے بروغیل کے لئے C-130 کی پروازوں کا انتظام ہوگیا۔ یہ 40سال پرانی بات تھی۔ہوسکتاہے کوئی کہہ دے کہ 40سال پہلے رسل ورسائل، خط ، ڈاک، فون ،تار ، ٹیلیگراف وغیرہ کا انتظام 2016سے بہتر تھا۔ممکن ہے ایسا ہی ہوگا۔ فیکس اورای میل کا نام اس زما نے نے سُنابھی نہیں تھا۔ تھورایا وغیرہ کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ پھر بھی بارڈ ر محرر مرزا رفیعنے260کلو میٹر دور سے تار بھیجا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید 660کلو میٹر آگے اطلاع دیدی ۔ 6گھنٹوں کے اندر کام ہو گیا۔ فریاد سنی گئی۔دوسری مثال زمانہ قریب کی ہے یہ 30جو لائی 2007کا وا قعہ ہے ۔محمد اکرم خان درانی خیبر پختو نخوا کے وزیر اعلیٰ تھے ۔چترال گلگت روڈ پر مستوج کا پل ٹوٹ گیا ۔شام کے 8بجے ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ وزیراعلیٰ کی میز پر رکھ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے ایم پی اے مولانا جہانگیر کو بلایا ۔سی اینڈ ڈبلیو کے سیکریٹری اور چیف انجینئر کو بلایا ۔سیکریٹری خزانہ کو بلایا ۔ڈپٹی کمشنر ، ضلع نا ظم ،تحصیل نا ظم اور ایگزیکٹیو انجینئر کو چترال سے ٹیلفون کال پر لے لیا۔ رات ایک بجے تک مختلف آپشنز پر غور ہوا ۔رات ایک بجے فیصلہ کیا گیا کہ دو عارضی پلوں کے لئے 30 لاکھ روپے اور مستقل پل کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کئے جا ئینگے ۔اگلے دن 31 جو لائی کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ریلیز کر دئیے گئے ۔تحصیل ناظم شہزادہ سکندر الملک نے عارضی پلوں کا فوری انتظام کر کے دو ہفتو ں کے اندر ٹریفک کو بحال کیا ۔مستقل پل کی تعمیر پر فوری طور پر کام شروع ہوا ۔خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق ؓ نے اپنے دور خلافت میں حکم جاری کیا تھا کہ دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے ۔قیامت کے دن مجھ سے پو چھا جائے گا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ذوالفقار علی بھٹو اور محمد اکرم خان درانی خلیفہ دوم کے اس فرمان پر عمل کر نے والے حکمران تھے ۔وہ عوام کا مسئلہ حل کر نے سے پہلے اپنے بستر کا رخ نہیں کرتے تھے ۔جنرل پر ویز مشرف کا بھی یہی دستور تھا ۔کو شٹ کا پرانا پل 21جو لائی 2015 کو سیلاب میں بہہ گیا ۔23 مئی 2016 تک گیارہ مہینوں میں حکو مت کو اس کی اطلاع نہیں ملی ۔پاک فوج کے مہیا کئے ہو ئے عا رضی پل میں چار ماہ پہلے شگاف پڑگیا ۔120 دنوں تک حکومت کے کسی افیسر کو اس کی اطلاع نہیں ملی ۔بلبل خان ایوبی علاقے کے سماجی ورکر اور سا بق نائب نا ظم رہ چکے تھے ۔کوشٹ کے لئے مستقل پل کی فراہمی کے لئے حکومت سے مطالبہ کرنے میں وہ پیش پیش تھے۔حادثے سے قبل بھی وہ کئی بار پل کی خستہ حالی کی رپورٹ کرنے تحصیل انتظامیہ مستوج اور سی اینڈ ڈبلیو بونی کے دفتر گئے تھے۔ لیکن انتظامیہ کی بے حسی کے پیش نظر اہل علاقہ کی مدد سے پل کی مرمت کے دوران اپنے 3 سا تھیوں کے ہمراہ حادثے کا شکار ہو گئے اور دریا کی بے رحم موجوں نے3 افراد کو نگل لیا ۔حکو مت کی بے رحم نظروں نے گیارہ مہینوں میں ایک بار بھی ٹوٹے ہو ئے پلوں اور ٹوٹی ہو ئی سڑکوں کی طرف نہیں دیکھا ۔لو گ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور اکرم خان درانی کو یاد کر تے ہیں ۔جنرل مشرف اور امیر حیدر خان ہو تی کو یاد کر تے ہیں تو اس کی بے شمار وجو ہات ہیں ۔بلبل خان ایوبی نے کو شٹ پل پر اپنی جان کانذرانہ دیکر حکو مت کی بے حسی کا پردہ چاک کیا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق