ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیدا د …..سول انتظامیہ کا مسئلہ

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …….
ایک جرمن انجینئر نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا اس کو جگہ جگہ لوہے کے نٹ بولڈ والے منقولہ پل نظر آئے اُس نے پوچھا یہ پُل کس نے بنائے میزبان نے کہا پاک فوج کے ذیلی ادارہ فرنیٹر ورکس ارگنا ئز یشن (FWO) نے بنائے جرمن انجینئر نے کہا جی ہاں! یہ آرمی کے انجینئر ز بناتے ہیں اُس نے پوچھا پُل کو یہاں بچھا ئے کتنا عرصہ ہوا ؟ میزبان نے کہا اسکو 2 سال ہوگئے جرمن انجینئر نے اپنا سرپیٹ لیا اس نے کہا ’’ مائی گُڈنیس ‘‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ کہ نٹ بولڈوالا منقولہ پُل 2 سال تک ایک جگہ رکھی جائے ؟ اس کے بعد جرمن انجینئر نے بتا یا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران کئی مقامات پر دشمن نے پلوں کو تباہ کیا، کئی جگہوں پر دشمن کے خلاف پیش قدمی کے دوران دریاؤں اور ندی نالوں پر پُلوں کی ضرورت محسوس ہوئی اوربڑے پیمانے پر ایسے پُلوں کی ضرورت محسوس ہوئی جس کو آناً فاناً توڑا اور جوڑا جاسکتا ہو لاریوں میں ڈال کر آسانی سے اُٹھا یا جاسکتا ہو اور کم سے کم وقت میں ضرورت کی جگہ پر پہنچایا جاسکتا ہو فوج کے اندر ایسے پلوں کو 2 ماہ ، 3 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 4 ماہ ایک جگہ رکھا جاتاہے اس کے بعد اُٹھا یا جاتاہے میزبان نے جرمن انجینئر کو بتا یا کہ ملاکنڈ کے پہاڑی اضلاع چترال وغیر ہ میں اس طرح کے فوجی پل 4 سالوں سے کا م دے رہے ہیں ایک ایسا پُل بھی ہے جو 31 سالوں سے کام دے رہا ہے جر من انجینئر نے پھر سرپیٹ لیا اُس نے پھر کہا ’’ مائی گُڈ نیس ‘‘ اُس نے کہا یہ ایمر جنسی ریلیف ہے ہنگامی حالتوں کے لئے ہے ہفتہ ’دو ہفتے ،مہینہ ، دو مہینے کے لئے ہے پاکستانی میزبان نے کہاسیلاب آکر پُل کو بہالے گیا فوج نے لوہے کا پل لاکر بچھا دیا پھر یہ پل سالوں تک کام دیتا رہا جرمن انجینئر نے پوچھا تمہارے ہاں سول انتظامیہ کیا کرتی ہے؟ پاکستانی میزبان کے پاس جواب تھا مگر ملک اور قوم کی عزت کا معاملہ تھا اُس نے مصلحت انگیز خاموشی اختیار کرلی مینجمنٹ سائنسز کا یہ اہم موضوع ہے کہ سول انتظامیہ کب ناکام ہوتی ہے؟ یہاں مرغی پہلے یا انڈا والا سوال بھی سامنے آتا ہے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز(LUMS) اور انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈ منسٹریشن (IBA) میں اس موضوع پر کیس سٹڈیزموجود ہیں ایک رائے یہ ہے کہ فوج آکر سو ل انتظامیہ کی جگہ لے لیتی ہے دوسری رائے یہ ہے کہ سول انتظامیہ ناکام ہونے کے بعد فوج کو بلالیتی ہے جب تک سول انتظامیہ دوبارہ اپنا کام شروع نہ کرے فوج تب تک معاملات کو سنبھالے رکھتی ہے ڈیڑھ سال پہلے آرمی چیف جنر ل راحیل شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈکو پیش کش کی کہ کھلاڑیوں کی ورزش ، پر یکٹس ، تربیت اور انٹر نیشنل کرکٹ کا کام فوج کو دیدو۔شہر یار خان نے یہ پیش کش حقارت سے ٹھکرادی ڈیڑھ سال میں 10 بار ناکامی اور رسوائی سے دوچار ہونے کے بعد آرمی چیف سے درخواست کی گئی کہ پی ایم اے کا کول میں کرکٹ ٹیم کے لئے کیمپ لگا یا جائے جو آرمی چیف نے منظور کرلی۔ سیلاب آتا ہے زلزلہ آتا ہے کوئی ڈیزاسٹر ہوتا ہے تو سول انتظامیہ اپنی ناکامی کے بعد پاک فوج سے مدد کی درخواست کرتی ہے پاک فوج کی طرف سے یہ مددایمر جنسی کے لئے ہوتی ہے اگر یک ماہ بعد، دوباہ بعد سول انتظامیہ اپنا کام سنبھال لے تو فوج واپس چلی جاتی ہے اپنا بوریا بستر اُٹھا کر لے جاتی ہے اپنا پُل بھی اُٹھا کر لے جاتی ہے مگر سول انتظامیہ اپنا کام سنبھا لنے کے قابل نہ ہو تو فوج کو اپنا پُل بھی رکھنا پڑتا ہے خود بھی رہنا پڑتا ہے ملاکنڈ ڈویژن میں 2010 ؁ء کے سیلاب ، 2012 ؁ء کے سیلاب اور 2015 ؁ء کے سیلاب میں بچھائے گئے منقولہ پل movable Bridge) (چار سالوں سے کیوں پڑے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ سول انتظامیہ نے 31 سالوں میں اپنا پُل نہیں بنایا 6 سال بعد بھی نہیں بنایا 4 سال بعد بھی نہیں بنایا 2 سال بعد بھی نہیں بنایا چترال میں دنین کے مقام پر سیشن ہاؤس ، افیسرز کالونی اور سرکاری ریسٹ ہاؤس کے سامنے ندی پر 2012 ؁ء میں ایف ڈبلیو نے لوہے کا پل لاکر جو ڑدیا اور بچھا یا یہ ایمر جنسی کے لئے تھا سول انتظامیہ کو سال بعد نیا پُل بنا نا تھا دوسال بعد بنا نا تھا 3سال بعد بنا نا تھا 4 سال بعد بنا نا تھا 4 سال گذرنے کے باو جود پُل کا ٹینڈر بھی جاری نہیں ہوا جب ٹینڈر جاری ہوگا تب بھی پل کے بننے میں 3 سال یا 4 سال لگینگے یہ بڑی شاہر اہ ہے اس پر 100 ٹن وزن والے ٹرک گذرتے ہیں گولین گول ہائیڈل پاور ہاؤس کی ساری مشینری اس راستے سے ہوکر جاتی ہے یہ میگا پراجیکٹ ہے اس کے باوجود سول انتظامیہ 4 سالوں سے خاموش بیٹھی ہے ایک سہانی شام کو یہ پل اپنی عمر پوری کر کے گر جائے گا بڑا حادثہ ہوگا تو این ایچ اے کا نام نہیںآئے گا سی انیڈ ڈبلیو کا نام نہیںآئے گا میڈیا میں ایف ڈبلیو او (FWO) کا نام آئے گا اگر ایف ڈبلیو اونے کل فیصلہ کر لیا کہ آئیندہ ہم سول انتظامیہ کی درخواست پر اپنا کوئی پُل ان کو نہیں دینگے اگر کل ایف ڈبلیو او نے فیصلہ کر لیا کہ ہم اپنے پل توڑ کر لا ریوں میں ڈالینگے اور واپس لے جائینگے تو سول انتظامیہ کیا کرے گی؟ بنیادی طور پر انفراسٹرکچر یا بنیادی ڈھانچہ سول انتظامیہ کا مسئلہ ہے سول انتظامیہ کے پاس فنڈ ہے بجٹ ہے نظم و نسق نہیں ہے پراجیکٹ سائیکل مینجمنٹ کی صلاحیت نہیں ہے جولائی 2012 ؁ء میں سیلاب آیا پل کو بہالے گیا نئے پل کا ڈایزائن ، نقشہ اور پی سی ون ستمبر تک تیار ہوناچا ہیے تھا اکتوبر میں کام کا ٹینڈر ہونا تھا نومبر میں لے آؤٹ Lay out دے کر کام کو شروع کرنا تھا یہ چار مہینوں کا کام ہے اگلے 6 مہینوں میں نیا پل تیار ہونا چاہیے تھا اس حساب سے 2015 ؁ء کے سیلاب میں تباہ ہونے والے بروز ، ریشن اور کوشٹ کے تین پل بھی مئی 2016 ؁ء تک مکمل ہوسکتے تھے 10 مہینے بڑا وقت ہے پنجاب حکومت نے گیارہ مہینوں میں لاہور میٹروبس کا پورا ٹریک 10 پلوں کے ساتھ تیار کر لیا اسلام اباد کا میٹروبس کا منصوبہ 18 پلوں کے ساتھ 16 مہینوں میں مکمل ہوا یہ ناممکن نہیں ہے پنجاب کاایک اور ہیڈ برچ 6 مہینوں میں تیار ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں تخت بھائی کا اور ہیڈ برچ بارہ سالوں میں مکمل نہ ہوسکا یہ سول انتظامیہ کے کردار پر سوالیہ نشان ہے بہت بڑا سوالیہ نشان کہلانے کے قابل ہے عالمی ریڈ کراس اور پاکستان کی انجمن ہلال احمر نے ملاکنڈ ڈویژن کے بعض اضلاع خصوصاً چترال کو گلو بل وار منگ ، کلا ئمیٹ ،چینج اور گلیشیر پگھلنے کے عمل کی وجہ سے قدرتی آفت کے لئے خطرانک علاقہ قرار دیا ہے ماضی کے تجربات اور خاص کر گذشتہ 6 سالوں کے تجربات کو سامنے رکھ کر تین تجاویز قابل عمل ہیں پہلی تجویز یہ ہے کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے ناکام ہوگئی ہیں دونوں کو تحلیل کیا جائے ان ادارون کے وسائل مقامی سطح پر کسی اور ادارے کو دیدیے جائیں دوسری تجویز یہ ہے کہ اصولی فیصلہ کرکے ضلع کی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا کام ذمہ داری کے ساتھ سٹیشن کمانڈر یا سول انتظامیہ کو دیا جائے اس عمل میں نصف کام کسی ایک کو دیکر بقیہ کام کسی اور کو دینے سے کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہوتا جرمن انجینئر کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ایمرجنسی کا ریلیف پُل 4 سال تک کسطرح کا م کرتا ہے 4 سالوں تک نیا پُل کیوں تعمیر نہیں ہوتا؟اور جس صوبے میں قدرتی آفات کا خطرہ ہو اُس صوبے کی سول انتظامیہ کو سب سے زیادہ فعال اور مستعدہونا چاہیے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق