ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد….. …….ہلکے پھُلکے بیانات

……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ
پوری دنیا میں سیاسی لیڈر اپنے کار ناموں کی وجہ سے ، اپنی خدمات اور اپنی اچھی صفات کی وجہ سے زندہ رہتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں سیاسی لیڈر صرف بیانات کی وجہ سے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس لئے ہر وقت اور ہر موقع پر بے تُکے ، بے محل بیانات دیتا رہتا ہے۔ بعض بیانات بے معنی ہوتے ہیں۔مثلا مجرموں کو کیفر کر دارتک پہنچایا جائے گایا دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں۔ اس طرح کبھی تر نگ میں آکر کہا جاتا ہے دہشت گردی بزدلانہ فعل ہے یا بعض موقع پر کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو بے معنی ہیں۔ لیکن سیاسی لیڈر کی مجبوری ہے کہ اخبار میں اس کا نام آنا چاہیے ۔ چاہے بات بے معنی اور بے تُکی ہی کیوں نہ ہو۔ آج میرے سامنے چار اخبارات ہیں اور چارہلکی پھلکی چیختی چلاتی سرخیاں ہیں۔ان سرخیوں کے نیچے لیڈروں کے ایسے بیانات ہیں جن کے ایک لفظ کو آگے پیچھے کرنے سے اصل بات کھل کر سامنے آتی ہے۔ ورنہ بیان بے تُکا لگتا ہے۔ میرے سامنے ایک بڑے لیڈر کا بیان ہے” ہم کسی کو کرپشن کرنے نہیں دینگے” , یہ بے تُکا بیان ہے، بے معنی ہے ، حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔اس بیان میں لفظ “کسی” کے بعد”اور”کا اضافہ کریں تو حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ موصوف فرمارہے ہیں ہم کسی اور کوکرپشن کرنے نہیں دینگے۔ یہ ہوئی نا بات! حقیقت میں موصوف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کرپشن پر صرف ہمارا حق ہے کسی اور کو اس میدان میں آکر ہمارا مقابلہ کر نے کی جرات کیسے ہوئی ۔ہم اس میدان کے بے تاج بادشاہ ہی رہیں گے۔ بڑے آئے کرپشن کے میدان میں ہمارا مقابلہ کرنے والے۔ہم نے اس میدان میں پے درپے کامیا بیوں اورکا مرا نیوں کے جھنڈے گا ڑھے ہیں۔ میرے سامنے ایک اور ہلکی پھلکی سرخی ہے۔ یہ بھی ایک بڑے لیڈر کے تازہ ترین بیان کی سرخی ہے۔ “ہماری پارٹی میں کالی بھیٹروں کے لئے کوئی جگہ نہیں”۔بیان کے ساتھ لیڈر کی تصویر اور ان کا نام نامی دیکھ کرمیں حیران ہوا کہ موصوف ہوش حواس کی حالت میں یہ بات کہہ رہے ہیں یا دال میں کچھ کالا ہے۔یا پھر بالائی منزل میں گڑ بڑہے! آپ کی پارٹی اس لئے بنائی گئی تھی کہ اس میں کالی بھیڑوں کو جگہ ملے۔ آپ کی ذات گرامی کو نامی گرامی کالی بھیڑ کا درجہ حاصل ہے ۔پارٹی میں اب تک جتنی آبادی اورخوشحالی ہے وہ محض کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہے ۔کالی بھیڑوں کی گنجائش نہ رہی تو پارٹی کا کیا بنے گا؟آپ کا کیابنے گا!حکیم مومن خان مومن نے کہا :
تو کہا ں جائے گا کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہونگے
بیان اور سرخی سے حقیقت کاتعلق جوڑنے کے لئے “کالی بھیڑوں” سے پہلے مزید لگانا پڑے گا۔نیا بیان یوں بنے گا” ہماری پارٹی میں مزید کالی بھیڑوں کی گنجائش نہیں” ۔یعنی جتنی کالی بھیڑوں نے اس کشتی میں قدم رکھا ہے ان کی وجہ سے کشتی ڈوبنے والی ہے۔ بیان کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اب پارٹی میں سفید بھیڑیں آئیں گی۔ نیک نامی کمانے والے لوگ آئیں گے، یہ مطلب ہر گز نہیں ۔ پارٹی میں کالی بھیڑیں ہی رہیں گی۔صرف”مزید”کی گنجائش پیدا کرنے پر توجہ دی جارہی ہے اور یہی بیان کا مدعاہے۔
میں بھی منہ میں زبان رکھتاہوں
کاش پوچھو مدعا کیا ہے
اس طرح ایک اور بیان اخبار میں آیا ہے یہ بھی سنہرے حرف میں لکھنے کے لائق ہے ۔ہمارے محبوب لیڈر نے رات بھر کی خاموشی کو توڑ تے ہوئے صبح سویرے بسترسے اُٹھ کر بیان دیاہے۔آپ فرماتے ہیں”خدمت ہمارا مشن ہے” ۔بیان کے ساتھ موصوف کا نام پڑھ کر آدمی سرپیٹ لیتاہے کہ صاحب کس ترنگ میںیہ بات کہہ رہے ہیں ۔کیسی خدمت ؟کا ہے کی خدمت؟اور کیسا مشن؟اگر صاحب موصوف کہتے کہ سوداگری ہمارا مشن ہے، سمگلری ہمارا مشن ہے، دو نمبر ی ہمارا مشن ہے تو بات سمجھنے کے قابل ہوتی ۔خدمت کسے کہتے ہیں، خدمت کس چڑیا کا نام ہے۔ اگر خدمت مشن ہوتا توصاحب موصوف اپنی سیاسی جماعت کیوں بناتے ؟اس پر غور کرنے کے بعد بیان کو نیا رُخ دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نیابیان یوں ہوگا “اپنی خدمت ہمارا مشن ہے”دیکھا آپ نے؟ اس بیان کا آغاز اپنی خدمت سے ہو تو بیان کس قدر بامعنی اور حقیقت سے قریب تر نظر آتا ہے۔ پارٹی اپنی خدمت کے لئے بنائی جاتی ہے۔ سیاست بھی اپنی خدمت کیلئے کی جاتی ہے۔ اسمبلیوں میں لوگ اپنی خدمت کے لئے جاتے ہیں اور وزارتیں بھی اپنی ہی خدمت کیلئے لی جاتی ہیں۔ یہ بیان حقیقت کے قریب تر ہی نہیں، حقیقت پر مبنی بھی ہے۔ اخبارات ایسی سرخیوں اور ایسے بیانات سے بھری پڑی ہیں۔ کس کس کو شمار میں لایا جائے اور کس کس کا حساب لیا جائے “گل چین بہار تو زتنگی داماں گلہ دارد” ۔ان الٹے سیدھے بیانات میں صرف ایک بیان مجھے ملا ہے جو حقیقت ہے اور بالکل سچاہے۔ایک بڑے سیاستدان کا بیان ان کی تصویر کے ساتھ لگاہواہے۔موصوف کا ارشاد عالی ہے”نوجوان قوم کا اثاثہ ہیں”تیری آواز مکے اور مدینے۔ ہمارے سیاستدان واقعی نوجوانوں کو قوم کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ جس طرح کا سلوک قوم کے دیگر اثاثوں کے ساتھ کرتے ہیں وہی سلوک ہمارے رہنماؤں نے نوجوانوں کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے۔ خزانہ بھی اثاثہ تھا لوٹ لیا گیا۔واپڈا ایک قومی اثاثہ تھا، برباد کردیا گیا۔ پاکستان سٹیل ملز اثاثہ تھا، اس کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔ ریلوے قوم کا اثاثہ تھا، اس کاستیاناس کردیا گیا۔ کراچی ہمارا قومی اثاثہ تھا، دہشت گردی کی نذر کر دیا گیا۔ اب نوجوانوں کو اثاثہ کادرجہ دے کر ان کے ہاتھوں میں زندہ باد مردہ باد کے پرچم تھمادیے گئے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے سسٹم کو تہہ وبالا کرکے نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کردیا۔ ٹیکنیکل تعلیم کے دروازے بند کر کے نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا گیا۔ انتظامیہ اور اور پو لیس کی ناک کے نیچے منشیات کے اڈے قائم کرکے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا گیا۔ ان اقدامات سے لگتا ہے کہ واقعی ہمارے سیاستدانوں نے نوجوانوں کو قوم کا اثاثہ قرار دیا ہے۔ چناچہ دیگر قومی اثاثوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے وہی سلوک نوجوانوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔ اخبار بند کرتے کرتے میری نظر ایک اھم سرخی پر بھی پڑگئی۔ مشہور سیاستدان کا بیان ہے “ہماری خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں” ز بردست بیان ہے ۔اگر خدمت کا لفظ نکال کراس کی جگہ کر تو ت لکھ دیا جائے تو دنیا غش غش کر اٹھے گی۔ نیا بیان یوں پڑھا جائے گا۔ ہمارے کرتوت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر چہ ہم نے پوشیدہ رکھنے کی حتی ا لا مکان کوشش کی۔ پھر بھی وکی لیکس اور پانامہ لیکس نے ہمارا کچا چٹھا کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا۔ جون ایلیاکا لا جواب شعرہے۔
جوکوئی تم پہ معرض ہو اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق