ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صد ابصحرا ………ہاتھیوں کی لڑائی

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……
پر انا مقو لہ ہے ’’ ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹی کی شامت آتی ہے خیبر پختونخوا کے دفتری نظام میں گذشتہ 3 سالوں سے پاکستان ایڈ منسٹر یٹیو سروس اور پراو نشیل مینجمنٹ سروس کے افیسروں کو دو متحارب گروپ بنا کر آپس میں لڑ ا یا جارہا ہے سیاسی قیادت اور چیف ایگز یکٹیو کا خیال یہ ہے کہ اس لڑائی سے سیاستدانوں اور عوامی نمائیندوں کو فائد ہ ہوگا بیورو کریسی کمزرو ہو جائیگی ادارے ٹو ٹ پھوٹ کا شکا ر ہو جائینگے سب لوگ سیاستدانوں کے محتاج ہونگے قانون کی گرفت ڈھیلی ہو جائیگی اور حالت ایسے نہج پر پہنچ جائینگے کہ بیو رو کریسی کو طعنہ دینا اور مطعون کرنا آسان ہو جائے گا کھیل تماشا ٹھیک ہے اس میں دل لگی بھی ہے وقت بھی گزرتا ہے مگر ہاتھیوں کی لڑائی میں عوا م چیونٹیوں کی طرح پس جاتے ہیں کچل دئے جاتے ہیں یہ مقا م ایسا ہے جہاں میڈیا کاکردار آجاتا ہے عدلیہ کا کردار آجاتا ہے پا ک فوج کا کردار آجاتا ہے مذکورہ بالا دونوں گروپوں کے سروس تمام صوبوں میں کام کرتے ہیں ان کے درمیاں اختیارات ،پوسٹنگ ،ترقی اور مراعات کا جھگڑا دشمنی میں بدل گیا ہے یہ عوام کو کس طرح متاثر کرتا ہے چند مثالوں سے اسکی وضاحت ہو جائیگی ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر ایک گروپ کا ہے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس آفسروں کا تعلق دوسرے گروپ سے ہے عوامی مفاد کے سینکڑوں کام آجاتے ہیں دونوں کی دشمنی اور ضد کی وجہ سے فائلین پھنس جاتی ہیں عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا ہے ضلع ناظم کہتا ہے انتظامیہ کا م نہیں کرتی ایم پی اے کہتا ہے ضلعی انتظامیہ نا اہل لوگوں پر مشتمل ہے آرمی کا سٹیشن کمانڈر گلہ اور شکوہ کرتا ہے کہ سول انتظامہ نالائق ہے حالانکہ دونوں گرپوں کے افیسر اعلی تربیت یا فتہ ہیں اکرام درانی اور امیر حیدر خان ہوتی کے ادوار میں ان لوگوں نے بہتر ین نظم و نسق چلایا ہے کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا 2013 ؁ء کے بعد مسئلہ پیدا ہوا ہے سول سیکرٹریٹ پشاور اور ملحقہ محکموں کا نظم ونسق اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ عوامی مفاد کے ہر کام میں دونوں کا یکساں کردا رہوتا ہے ملحقہ محکمے سے فائل اوپر جاتی ہے سول سیکرٹریٹ میں اوپر سے نیچے تین افیسروں کے دستخط ہونے چاہیں دو ایک گروپ کے ہیں ایک کا تعلق دوسرے گروپ سے ہے اوپر بھی اسی گروپ کا افیسر بیٹھا ہوا ہے چاروں افیسروں کی آپس میں پکی دشمنی ہے فائل اگر دو دنوں میں واپس آنی چاہیے تو 6 مہینوں تک لٹکتی رہتی ہے بلیں ٹری سونامی کے سلسلے کی جو شجر کاری مارچ کے مہینے میں ہونی چاہیے تھی وہ شجر کاری جون اور جولائی کے مہینوں میں ہوگئی ظاہر ہے پشکال میں کوئی پودا نہیں لگتا اس موسم میں پودا لگانے والے کو احمق سمجھا جاتاہے مگر لوگ احمق بننے میں عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ دو گروپوں کے افیسروں کی آپس میں پکی دشمنی ہے اس دشمنی نے حالات میں بگاڑ پیدا کیا ہے اور فائل کو چھ مہینے لٹکایاہے سیلاب اور زلزلہ سے متاثر ہونے والے انفراسٹر کچر کی بحالی کاکام رکا ہوا ہے پی سی ون ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل تک جانے میں سات مہینے لیتا ہے فنڈ ریلیز ہونے کے لئے سیکیموں کی ایڈ منسٹر یٹیو اپرول آنی چاہیے فائل آگے نہیں جاتی اگر وپر بھیجی جائے تو 3 ماہ بعد 20 اعتراضات کے ساتھ واپس آتی ہے کوئی بھی اعتراض معقول نہیں ہوتا پیڈ ونے 2012 ؁ء میں ایک ہزار میگا واٹ کے 10 بجلی گھروں کی فزیبیلیٹی تیار کی تھی 4بجلی گھروں کے لئے زمین خرید ی گئی تھی ٹینڈر ہوچکے تھے 2013 ؁ء سے کام بند ہیں وجہ یہ ہے کہ افیسروں کے دو گروپوں میں دشمنی ہے باہر سے آنے والے خارجی لوگوں کی مداخلت اس پر مستزاد ہے باہر سے آنے والے وہ لوگ ہیں جن کی دونوں گروپوں کے ساتھ دشمنی ہے پیڈومیں تین دشمنیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں محکمہ صحت کا بر احشر ہوا ہے ہسپتالوں کا نظم ونسق برباد ہو چکا ہے وجہ یہ ہے کہ اس محکمے میں بھی تین گروپوں کے درمیاں جھگڑا چل رہا ہے یہ بھی پکی دشمنی والا معاملہ ہے فنانس ، پی اینڈڈی اور لوکل گونمنٹ کا حال بھی قابل رحم ہے دوسال بعد جس کی حکومت آئے گی اس کو ٹو ٹا پھوٹا انتظامی ڈھانچہ ملے گا باہمی دشمنی میں مبتلا انتظا میہ ملے گی اگر چیف ایگر یکٹیو آفتا ب احمد خان شیر پاؤ ، اکرام خان درانی یا امیر حیدر خان ہوتی کی طرح تجربہ کار شخصیت ہوگی تو حالات کو ٹھیک کرنے میں کم از کم دو سال لگینگے دشمنیاں پالنے والوں کو صوبہ بدر کرنا ہوگا دونوں گروپوں کے معتدل ، غیر جابند ار اور پروفیشنل لوگوں کو آگے لانا ہوگا آخری مغل تاجدار اسیربرما بہادر شا ہ ظفر اپنی شاعری ، اپنی خاندانی و جاہت اور اپنی قابلیت کے باوجود اس کام میں بری طرح نا کام ہوئے تھے ایسے ناکام ہوئے کہ قید ہو کر بر ما کے شہر رنگون جانے کے بعد اس کا احساس ہوا جب ’’ دو گز زمین بھی نہ ملی کو ئے یار میں ‘‘ 1857 میں بہادر شاہ ظفر خود ناکام نہیں ہوئے مسلمانو ں کو ناکامی نہیں ہوئی ناکامی صرف انتظامی افیسروں کے درمیان ٹو ٹ پھوٹ سے شروع ہوئی بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے وقت انتظامی افیسروں کے 4 گروپ بن چکے تھے اور وہ سب ہڈیوں کی تلاش میں دم ہلاتے ہوئے دوڑ دھوپ کر رہے تھے 113 سال بعد 1971 میں ڈھاکہ ڈوبتے وقت اس قسم کی صورت حال تھی ڈھاکہ میں افیسرں کے تین بڑے گروپ بنے ہوئے تھے ایک گروپ برملا بھارت کا حامی تھا او ردوسروں کے خلاف بر سر پیکار تھا دوسرا گروپ قوم پرست بنگالی تھا شیخ مجیب الرحمن کا حامی تھا تیسرا گروپ دونوں کا مخالف تھا یہ گروپ کسی تیسرے ملک میں پناہ لینے کے لئے سر تو ڑ کو شش کر رہا تھا اور پہلے دوگروپوں کے ساتھ بر سر پیکار تھا ان میں کچھ قید ہوئے کچھ ٹھکانے لگادئیے گئے کسی بھی حکومت کے افیسروں کا گروپوں میں تقسیم ہو کر آپس میں حسد، بُعض اور دشمنی پالنا ، آپس میں لڑنا کبھی اچھا شگون نہیں ہوتا اس کا اچھا نتیجہ کبھی بر آمد نہیں ہوتا اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ چیف ایگز یکٹیو کی گرفت ڈھیلی ہوچکی ہے چیف ایگزیکٹیو اور اعلیٰ حکام کے درمیان اعتماد کا رشتہ نہیں رہا اگر غیر جانبدار ی سے اس لڑائی کا جائز ہ لیا جائے تو یہ اصولوں کی جنگ نہیں یہ انانیت کا ٹکراؤ ہے اناوں کے بڑے بڑے بُت آپس میں ٹکرا رہے ہیں سماجی اور معاشرتی رویوں کا جائز ہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان پڑھ سرداروں کی لڑائی میں ملک کا اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا نقصان پڑھے لکھے جاہلوں کی باہمی لڑئای سے ہوتا ہے نواب محمد اکبر خان بگتی اور جنرل پرویز مشرف ان پڑھ نہیں تھے جنرل پرویز مشرف اور جسٹس افتخار محمد چوہدری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ان کی لڑائی سے کتنا بڑا نقصان ہوا ؟ اشفاق احمد کے ڈرامے کا ایک کردار کہتا ہے کہ میں نے پاکستان کے لئے جیل کی مشقت کاٹی میرا اکلوتا بیٹا پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا میرا اکلوتا پوتا 12 سال کا ہے سکول نہیں جاتا میں اس کو سکول جانے نہیں دونگا اس ملک کو پڑھے لکھے جاہلوں نے جتنا نقصان پہنچا یا ان پڑھ جاہلوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچا یا اس لئے میرا پوتا نہیں پڑھے گا ، نہیں پڑھے گا نہیں پڑھے گا اشفاق احمد نے دراصل اناؤں کے ٹکراؤ کی طرف اشارہ کیا ہے سول سکر ٹریٹ پشاور سے لیکر ڈویژن اور اضلاع کی سطح تک ہاتھیوں کی لڑائی جاری ہے اس لڑائی میں عوام چیونٹی کی طرف روند ے جارہے ہیں سیاسی قیادت تما شا دیکھ رہی ہے افتخار عارف نے کہا بات کہی !
مٹ جائینگے ہم کیا جب تما شا ختم ہوگا
میر ے معبود ! آخر کب تما شا ختم ہوگا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق