مضامین

(4) بانگ سے بلتستان

شیرولی خان اسیر

7-10.2013

آج صبح ہم نے پہلے سٹال لگانے میں کافی وقت صرف کیا۔ اس بنا کنونشن مقررہ وقت پر شروع نہ ہوسکا۔ کنونشن کی افتتاحی نشست کے مہمان خصوصی جناب عبدالقمر شہزادؔ کمشنر بلتستان اور صدرمحفل شعیب سلطان خانصاحب ایک ساتھ تشریف لائے۔انہوں نے پہلے سٹالز کا معائنہ کرنا تھا۔ ہم سٹالز پر ہی ان کا انتظار کرنے لگے۔ یہاں پر قمر شہزاد اور شعیب صاحب کو خوش آمدید کہنے اور ملنے کے بعد ہم نے کنونشن ہال میں اپنی اپنی کرسیاں سنبھال لیں۔ سٹیج سکرٹری جناب پروفیسر احسان دانشؔ نے اپنی دلکش زبان اور فی البدیہہ اشعار کی جوئے بہاراں کی روانی اور نغمگی کیساتھ حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے۔جنرل منیجر اے کے آر ایس پی جناب عبدلملک نے استقبالیہ کلمات پیش کیا۔ جناب شعیب سلطان نے اپنی گلگت، بلتستان اور چترال کے ساتھ دوستی اور اے کے آر ایس پی کیساتھ پہاڑوں کے سفر کی لمبی کہانی مختصر الفاظ میں بیان کیا۔ اپنی دل خوش کن مدہم آواز اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ کے ساتھ سامعین کو مسحور کئے رکھا۔ البتہ دو مواقع ایسے بھی آئے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوئے اور ان کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ پہلی دفعہ جب انہوں نے اپنی مرحوم بیگم کا ذکر کیا۔ ( ان کی مرحومہ بیگم کا شعیب کی کردار سازی میں سب سے بڑا ہاتھ تھا) ۔ دوسری مرتبہ اس وقت جذبات پر قابو نہ پا سکے جب رورل سپورٹ پروگرام کی کامیابیوں پر ان کی خدمت میں پیش کی گئی خراج تحسین کا جواب دے رہا تھا۔ انہوں اس کامیابی کا سہرا سماجی رضاکاروں کے سر باندھ کر کہا کہ مجھے اے کے آر ایس پی کے ساتھ کام کرنے کی جو عزت ملی ہے یہ ان ہزاروں لاکھوں رضاکاروں کی مرہون منت ہے جنہوں نے اس تصور کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے اور اسے آگے بڑھانے میں اپنا وقت اور علم خرچ کیا ۔ شعیب سلطان صاحب نے شراکائے کنونشن کو ایل ایس اوز کے استحکام اور کامیابی کے حوالے سے دو زرین مشورے دیے۔ ایک یہ کہ دیہی اور خواتین تنظیمات کے ممبراں ایل ایس اوز کو اپنائیں اور اپنے آپ کو اس کے مالک سمجھیں۔ دوسرا یہ کہ ایل ایس اوز خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی سعی کریں ،دوسروں کی دستنگر نہ بنیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایل ایس اوز کو این جی او یا دیہی تنظیم بنانے کی کوشش نہ کریں۔ شعیب صاحب کی ساری میٹھی اور بیش بہا باتوں کا احاطہ کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔
مہمان خصوصی کمشنر بلتستان جناب عبدالقمر شہزاد نے ایل ایس اوز یوتھ کنونشن کو سراہا کہ جس سے نہ صرف نوجونوں کو با اختیار بنانے میں اس کنونشن کی سفارشات آہم کردار ادا کریں گی بلکہ اس سے گلگت، بلتستان اور چترال کی ثقافتوں کی قربت کو بھی تقویت ملے گی، نیز ان علاقوں کی تنظیمات کو ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کا زرین موقع ملے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قمر شہزاد صاحب اور شعیب سلطان صاحب کی پہلی ملاقات ان کے گاؤں میں اے کے ار ایس پی کی آولین تنظیم سازی کے سلسلے میں ہوئی تھی جب اس وقت شہزاد نائب تحصیلدار تھے اور شعیب جی ایم اے کے ار ایس پی اور آج وہ دونوں سٹیج پر پھر یکجا ہو گئے تھے۔ قمر شہزاد نے وہ کہانی بھی سنائی جب ان کی تنظیم کو رابطہ سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں اے کے ار ایس پی کی طرف سے گرانٹ ملی تھی اور اس کے گاؤں کی تنظیم نے تین چار مہینے کا کام صرف پندرہ دن میں مکمل کر لیا تھا۔
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ نے مائیک سنبھالتے ہی ایک کہانی کے ذریعے شعیب کی شخصیت اور نادرن پاکستان کی عوام کی جوہر شناسی کی خوبصورت پیرائے میں عکاسی کی۔کہانی کچھ یوں تھی۔ ایک بادشاہ کا شہباز کھو گیاجو اتقاق سے ایک بڑھیا کے ہاتھ لگ گیا۔ بڑھیا نے اس کے سامنے دانہ ڈالا۔ اس نے نہیں کھایا تو اسے خیال آیا کہ اس کی چونچ بہت ٹیڑی ہو گئی ہے اس لیے دانہ نہیں کھا پا رہا۔ بڑھیا نے اسکی چونچ کاٹ ڈالی، تب بھی اس نے دانہ نہیں کھایا اور بہت لاغر ہوگیا۔ جب بادشاہ کے کارندے شہباز کو ڈھونتے ڈھونتے آخر بڑھیا کی کٹیا پہنچ گئے۔شہباز تو مل گیا لیکن اس کی چونچ کٹی ہوئی تھی۔اسی حالت میں بادشاہ کے سامنے لایا گیا تو بادشاہ کو بے حد غصہ آیا ۔اس نے بڑھیا کو بلوایا۔بڑھیا نے ساری کہانی سناڈالی۔ بادشاہ نے بڑھیا کی کہانی سن کر نہ صرف اسے معاف کردیا بلکہ انعام سے بھی نوازا کیونکہ بڑھیا نے اپنے علم کے مطابق ہی قدم اٹھایا تھا۔ کہانی کا اگلا حصہ فیضیؔ صاحب گول کر گئے۔البتہ اس کا رخ خوبصورت انداز میں موڑتے ہوئے شعیب صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’ لیکن اس شہباز نے اپنی ناقدری نہ ہونے دی اور اڑ کر گلگت بلتستان اور چترال کے پہاڑوں میں جا اترا جہاں قدردانوں نے اسکی قدروقیمت پہچان لی او رفائدہ اٹھایا‘۔درا صل شعیب صاحب کو شمالی علاقہ جات اور چترال میں دیہی ترقیاتی پروگرام چلانے کی ذمے داری اٹھانے سے پہلے داؤد زئے میں کام کا تجربہ ہو چکا تھا،جہاں ان کے پروگرام کو پذیرائی نہیں ملی تھی۔ جب انہوں نے وہی پروگرام گلگت،بلتستان اور چترال میں متعارف کرایا تو اسے دل سے قبول کیا گیا ،جس کی زندہ تصویر آج کے یہ ترقیوں کے زینے تیزی سے چڑھنے والے پہاڑی اور دور افتادہ علاقے ہیں۔
ایل ایس اوز یوتھ کنونشن کی دوسری نشست میں جناب شعیب سلطان خان مہمان خاص تھے جبکہ ڈاکٹر فیضیؔ کو صدارت کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس نشست میں گلگت،بلتستان اور چترال ریجینز کی ایل ایس اوز کی طرف سے پرزنٹیشن دی گئیں۔ چترال کی طرف سے محکم الدین صاحب سینئر صحافی اور ایون اینڈ ویلی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیر پرسن نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی جسے حاضرین نے سراہا۔ اسی طرح گلگت اور بلتستان کے نمائیندوں نے دلپذیر تفصیلات سے حاضرین کو مستفید کیا۔ اس کے بعد نوجوانوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کی کہانیاں سنا کر دادو تحسین سمیٹے۔ چترال کے ڈسٹرکٹ یوتھ فورم کی طرف سے وسیع الدین آکاش نے پرزنٹیشن دی۔ اپنی تقریر کے دوران اس نے کہا، ’چترال کا یوتھ حوصلہ شکن ہے‘ تو مجھے اچھا نہیں لگا۔ بلتستان سے ڈاکٹر شجاعت، سبین زہرہ، گلگت سے میرزا حسین،زرینہ اور لال بانو نے اپنی جہدو جہد اور کامیابی کی روداد سنائیں جو واقع قابل دادو تقلید تھیں۔ وقت کم پڑگیا اور آج کے کچھ آئٹمز کل پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوں ۵ بجے شام ہم کنونشن ہال اور احسان دانشؔ کے چنگل سے نکل آئے۔ خیال تھا کہ لمبی تان کر سوئیں گے، لیکن کہاں ایسی قسمت؟ شام کا کھانا پھر شگر قلعہ میں ہونا قرار پایا۔ آج کی ضیافت میں کمشنر بلتستان قمر شہزاد، ڈپٹی کمشنر سکردو فضل خالق اور دوسرے افسراں شامل تھے۔ ان کے ساتھ تبادلۂ خیالات کا بڑانایاب موقع ملا۔ کھانے کے بعد چترالی موسیقی کا چھوٹا سا پروگرام بھی پیش ہوا۔ نصف شب گزرنے کے بعد ہم واپس پی ٹی ڈی سی موٹل سکردو میں تھے اور اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے۔ )

8.10.2013
صبح 9بجے ہم کنونشن ہال میں حاضر ہوئے کیونکہ استاد محترم احسان دانشؔ کا  یہی حکم تھا۔ ہمیں بھی ان کی لکھنوی اردو اور برمحل ،فی البدیہہ اشعار کے آبشار سے حس جمالیات کو غسل دینا تھا۔ اس لیے کل رات سے پیٹ میں اٹھنے والے درد کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے بھی بروقت بلکہ بہتوں سے پہلے ہال میں کرسی نشین ہوگئے۔ ہال جب بھر گیا تو احسان دانش کی دلکش آواز گونجی اور اس ناچیز کا نام لے کر کسئ صدارت پر بیٹھنے کا حکم صادر کردیا جو فی الوقت مجھ پر بڑا بھاری گزرا، کیونکہ میں ذہنی اور جسمانی طور پر اس ’آفت ناگہانی‘ کیلیے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق میرے پاس حکم کی تکمیل کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ جب انسان کی طبیعت نا ساز ہو تو تو اس کی ذہنی کیفیت منتشر رہتی ہے اور ایسی حالتوں میں ایک بڑے اجتماع کی صدارت کرنا۔ پیشکشیں سننا، نوٹ لینا اور پھر ان پر تبصرہ کرنا، کم از کم میرے بس کی بات نہیں رہی ہے۔ میں صحتمند جسم اور خوشگوار طبیعت کے ساتھ بھی صدارت اور مہمان خصوصی جیسی آہم ذمے داریوں سے کتراتا ہوں۔ کیونکہ اسیرؔ کو مزید اسیری پسند نہیں۔ تاہم ڈاکٹر فیضیؔ جب موڈریٹر کی کری پر جلوہ افروز ہوئے تو تھوڑا سہارا مل گیا اور اطمنان سا ہوا۔
پروگرام کے مطابق چترال بونی کے نوجواں ماحولیاتی رضاکار، چترال ہیریٹیج اینڈ انوائرنمنٹ پروٹکشن سوسائٹی کے چیر پرسن،مسٹر رحمت علی جعفردوست نے اپنی کارگزاری کی لمبی کہانی مختصر الفاظ اورسلائڈز کے ذریعے پیش کی اور حاضریں کو متاثر کیا۔ رحمت علی نہ درست معنوں میں تعلیم یافتہ ہیں، اور نہ ان کے پاس مالی وسائل ہیں۔ ایک جذبۂ خدمت ہے جسے لے کر اس نے پورے ملک کے اندر کامیاب آگاہی پروگرام کئے ہیں۔ اسی طرح بی بی رشیدہ چترال نے ٹرننگ آف ٹرینرز اور ریحانہ گلگت نے یوتھ انٹرن شپ کے کامیاب تجربات کو ہمارے ساتھ شیئر کیا۔ نشت کا آخری حصہ گروپ ڈسکسشن کا تھا۔ وقت کی مجبوری کے باعث تبادلۂ خیالات کے سیشن کوچائے کے وقفے کے ساتھ منسلک کردیاگیا۔ میں نے چائے بھی نہیں پی اور گروپ ڈسکسشن میں بھی کوئی تیزی نہیں دکھائی۔ سب کچھ ساتھیوں پر چھوڑ کر کسی ایسے فرد کی تلاش میں نکلا جو فوری دوا لاسکے۔ مجھے زیادہ ڈھونٹے کی زحمت سے اے ار ایس پی گلگت کے خوش اخلاق، خدمت گزار ڈرایؤر خوش احمد دین نے بچالیا اور دو منٹ میں دوائی لاکر دیدی۔ زندہ رہو اور خوش رہو، خوش احمد  دین !

اختتامی کلمات کے لیے کوئی تیاری نہیں تھی۔ گروپ پرزنٹشن کا وقت نہ ملا اس لیے اعلامیہ تیار کیا گیا۔ کنونشن کی روح رواں اور منتظم جناب آمین صاحب آکر میرے کان میں سر گوشی کی، سر! ان دو دنوں کی کاروائی کا خلاصہ (کوزے میں بند کرکے) سامعین و ناظرین کے سامنے پیش کریں‘۔ میرا سر چکرا سا گیا۔ میں نے فیضی صاحب کی طرف دیکھا ۔اس نے بھانپ لیا۔ انہوں نے مجھے ٹریک پر ڈالنے کے لیا پہلے جملے کا نصف لکھ ہی لیا تھا کہ دانشؔ کا بلاوا مائیک سے براآمد ہوا کہ آئیے! کلمات صدارت سے نوازئیے۔ ایک نظر فیضیؔ پر اور ایک اچٹتی نطر سامعین پر اور تیسری تھوڑی ناراض نگاہ دانش ؔ پر ڈالتے ہوئے مائیک سنبھال لیا۔ میں نے کیا کہا؟ کس حد تک آمین صاحب کی ہدایت پر عمل کیا؟ یہ تو حاضر ین محفل ہی بتا سکتے تھے۔ البتہ چترالی نوجوان وسیع الدین آکاشؔ کی حوصلہ شکن والی بات جو میرے اعصاب پر سوار تھی، کا جواب دینا نہیں بھولا۔
۸ کنونشن کے دوسرے دن کی دوسری نشست کی صدارت نوجوان اسسٹنٹ کمشنر مستوج، چترال، مسٹر محمدصالحؔ نے کی، جبکہ موڈریٹر کی کرسی پر محترمہ یسمین کریم پروگرام منیجر جینڈر، اے کے ار ایس پی گلگت بیٹھ گئیں۔ مسٹر یاسرحسین ڈپٹی ڈائریکٹر سیاحت،وزیر اعجاز، بلتستان کلچرل ڈویلپمنٹ فورم،دیدار پناہ اسوہ،مہران امتیاز،الزہرہ فاؤنڈیشن، محمد باقر، چپ، فدا حسین اے کے ار ایس پی،اور منظور فرمان (جوبلی لائف صحت حفاظت )نے پرزنٹیشنز دیے اور بحث و مباحثہ میں حصہ لیا۔ محمد صالح نے اپنی صدارتی خطبہ میں نوجوانوں کی ترقی اور با اختیار بنانے کے حوالے سے کئے گئے حکومت پختون خواہ کے اقدامات کی تفصیل پیش کی اور حکومت کی کما حقہہ نمائیندگی کی۔ ان کی تقریر انتہائی مبسوط اور منطقی نظم کی تھی جسے ہم سب نے بے حد سراہا۔
آج کی آخری نشست کے خاص مہمان مسٹر فضل خالق ڈپٹی کمشنر سکردو تھے۔ انہوں نے پہلے ایل ایس اوز کے سٹالز کا معائنہ کیا۔ سٹالز میں گلگت، بلتستان اور چترال کے دستکاری کے نوع بنوع ،زرق برق نمونے رکھے گئے تھے، جن میں اونی پوشاک، کھلونے، سامان آرائش و زیبائش اور خشک میوے شامل تھے۔ یہ مصنوغات مختلف خواتین تنظیمات اور ایل ایس اوز کی مقامی پیداوار تھیں ،جن میں کئی ایک ایسی قدیم ثقافتی چیزیں بھی نظر کی توجہ کا مرکز بنیں جو عرصے سے متروک ہو چکی تھیں، مثال کے طور پر چترالی دلہن کی ٹوپی، سربند، قمیض وغیرہ۔
سٹالز کے چکر کے دوراں مدکلشٹ، چترال کے مشہور اونی سوئیٹر پر نظر پڑی اور خرید ڈالا، لیکن سٹال کا انچارج موجود نہیں تھا۔ ساتھ کھڑے دوستوں نے کہا ، سوئیٹر لے جائیے، قیمت کا فیصلہ بعد میں ہو جائے گا۔ اس کے بعد تو بعد ہی رہا ۔میں بھول گیا کہ کسی کا قرض چکانا تھا اور نہ ان دوستوں نے یاد دلادیا۔  عرصہ بعد قرضہ چکا دیا۔

کنونشن اختتام کی طرف جارہا تھا۔ گلگت، بلتستان اور چترال کے وفود کے قائدین نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ ریجنل پروگرام منیجر گلگت نے اختتامی کلمات پیش کئے۔ آخر میں یوتھ کنونشن کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں اور جیتنے والے افراد میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ مہمان خصوصی ڈی سی سکردو فضل خالق صاحب نے اپنے خطبے میں یوتھ کنونشن کے کامیاب انعقاد پر اے کے آر ایس پی اور ایل ایس اوز کو مبارک باد دی اور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس یوتھ کنونشن کو دور رس نتائج کا حامل اور ہمارے ملک کے مستقبل کے ضامن نوجوانوں کی آگاہی اور ان کو با اختیار بنانے کے حوالے سے ایک سنجیدہ قدم قرار دیدیا۔ آخر میں ڈاکٹر فیضیؔ کے پر معز خطبۂ صدارت اور اے کے ار ایس پی کی طرف سے کلمات تشکر کے بعد کنونشن کی یہ آخری نشت چھ بجے شام اختتام کو پہنچی۔
سکردو یوتھ کنونشن اپنی نوعیت کا پہلا کنونشن تھا جسے اے کے ار ایس پی ور ایل ایس اوز نے منعقد کی۔ اس کنونشن کا اصل مقصد وہ راہیں ڈھونڈنی تھیں جن پر چلتے ہوئے ہم اپنی نوجوان نسل کو با اختیار اور مفید شہری بناسکیں اور اس کاوش میں سرکاری اور نجی ترقیاتی ،مالیاتی، تعلیمی اور دوسرے اداروں کی مشترکہ جدوجہد اور کردار کا تعین کرناتھا۔ کنو نشن کے سرکاری اور نجی اداروں کے نمائیندے اس بات پر ہم خیال تھے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نوجوانوں کی اجتماعی ترقی میں بہتر اور پائیدار کام کیا جاسکتا ہے۔ اس کنونشن نے شرکاء کو دوسرا اہم فائدہ یہ دیا کہ شمالی پاکستان کی ہزاروں سال پرانی ہمشیرو ہمسایہ ثقافتوں کو چند دنوں کے لیے یکجا کیا جہاں ان کو چند دن اکھٹے ہونے اور ایکدوسرے کے اقدار سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تیسری بڑی بات جو میں سمجھتا ہوں یہ تھی کہ مقامی امدادی اداروں کی ترقیاتی سرگرمیوں کی تشہیر ہوئی،نیز ان اداروں کو اپنے تجربات ایک دوسرے سے بانٹنے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک اور قابل قدر تبدیلی جو ہمیں نظر آئی وہ کنونشن کا ماحول تھا جس میں نسل،رنگ اور عقیدے کی بو با لکل بھی نہیں تھی۔ ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ماحول پیدا ہوجائے تو یہ ملک فردوس بر زمین بن سکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى