سرور کمال

شندور پاکستان کی پہچان ؟؟؟

۔۔۔۔۔۔۔سرور کمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے پاکستان کے بعض علاقوں کو اپنی فیاضی سے ایسا نوازا ہے کہ ان کے قدرتی حسن و جمال کے چرچوں کی باز گشت ہمیں دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے ۔ان علاقوں میں سوات ، ابیٹ آباد ، مری ، زیارت اور چترال کی جنت نظیر وادیاں قابل ذکر ہیں۔دنیا بھر میں سیاحت نے ایک باقاعدہ انڈسٹری کی درجہ حاصل کی ہے ۔ٹوریزم انڈسٹری آج کل بہت سے ممالک کی معیشتوں میں اربوں ڈالر کے اضافے کا مو جب بن رہا ہے ۔ آگے یہ بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ٹوریزم انڈسٹری آج کل بین الا قوامی تعلقات میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ۔آج سے چند عرصہ پہلے روس اور ترکی کے درمیان حکومتی سطح پرتعلقات انتہائی کشیدہ تھے ۔ ترکی نے شام کے سرحد کے قریب روسی جنگی جہاز کو مار گرایا تھا ۔روس کا اصرار تھا ۔ کہ روسی جہاز نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی ، جبکہ ترکی مسلسل اپنے اس اقدم کا دفا ع کر رہا تھا کہ روسی جہاز کو ترک فضائی حددود کی خلاف ورزی پر متعدد بار خبر دار کرنے کے باوجود مار گرایا گیاتھا۔ اس کے رد عمل میں روس نے ترکی سے غیر مشروط معافی کے ساتھ زرتلافی کا بھی مطالبہ کیا ۔ ترکی کی جانب سے جب مثبت جواب نہ ملا تو روس نے ترکی پر اقتصادی پابندیوں کے ساتھ روسی سیاحوں کو بھی ترکی جانے سے منع کیا ۔ اس کے نتیجے میں استمبول اور انقرہ کی ہوٹل انڈسٹری تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے کیونکہ ہر سال صرف روس سے 45 لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے ترکی کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردگان نے ٹیلی فو ن کرکے روسی صدر کو جہاز کو مار ے گرائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا بلکہ اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سیاحت کی انڈسٹری کو کتنی اہمیت حاصل کے ۔ بد قسمتی سے ارض پاک میں غیر سنجیدہ طرز عمل اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہمارے ہاں یہ صنعت زبوں حالی کا شکار ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنی بقاکی جنگ لڑرہا ہے ۔ ہم اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ دنیا بھر میں گرین پاسپورٹ کو شک اور حقارت امیز نظروں سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ہم پا کستان کی اصلی حقیقی تشخص، سافٹ امیج اور اپنی ثقافت کو صرف سیاحت کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک بہتریں انداز میں پیش کرسکتے ہیں ۔
ضلع چترال کے پی کارقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے ۔ چترال کئی عوامل اور دیگر خصوصیات کی وجہ سے پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات سے ایک منفرد اور ممتاز مقا م رکھتا ہے ۔اس بات کی دلیل میں چند حقایق اپنے معزز قارعین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرتا ہو ں۔چترال میں بادشاہوں کا کھیل یعنی پولو اپنی اصل شکل یعنی وائیلڈ پولو کی شکل میں کھیلی جاتی ہے ۔ اس فری سٹائل پولو میں آپ کو جوان مردی ،پھرتی،بہادری اور کھلاڑیوں کے شاندار مہارت کو دیکھنے کا مو قع ملتا ہے۔ جب کبھی بھی میں فرسی سٹائل پولو کا میچ دیکھتا ہوں تو میں اکثر صدیوں پرانے تایخ کے وادیوں میں گم ہو جاتا ہوں ۔اس وقت میرے نظروں کے سامنے قدیم یونانی دیو ملائی کردار آجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں کیلاش قبیلے کے لوگ زندگی گزارتے ہیں ۔ان کی لباس ،ثقافت ، اور زبان عالمی سطح پر تاریخ دانو ں اور ماہر ین لسانیات کے لئے انتہائی کشش رکھتے ہیں ۔ہمارے پہاڑوں پر دنیا کا نیاب ترین مخلوق یعنی سنو لیپرڈ بسیر کرتے ہیں۔ جب بی بی سی پر اس ڈکومنٹری کو دکھایا گیا تو دنیا بھر سے رکارڈ تعداد میں ناظرین اس سے لطف اندوز ہوئے ۔ ترچ میر کی چوٹی اپنی خوبصورتی اور کشش کی وجہ سے چترال کے ماتھے پرجھومر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ترچ میر کی چوٹی کو تقریباً پورے چترال سے نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔قدرت کی طرف سے کوپہمائی اور مہم جوئی کرنے والے افراد کے لئے یہ ایک بہترین تحفہ ہے ۔ لٹکوہ کے مقام پر گرم چشمہ بھی سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتا ہے ۔ امریکا ، روس اور کینیڈا میں بھی اس طرح کے گرم چشمے پائے جاتے ہیں ۔وہاں اس طرح کے گرم چشموں سے بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ چترال شہر سے صرف بیس منٹ کی مسافت پر شہرشام کے مقام پر دریائے گرم چشمہ کے کنارے غروب افتاب کے وقت مار خور اپنے بچوں سمیت ایک جھنڈ کی صورت میں زمانے اور وقت کے ستم سے بے پرواہ اپنی پیاس بجھانے آتے ہیں ۔یہ منظر بھی انتہائی قابل دید ہوتا ہے۔
میں کافی عرصے سے سوچ بچار کر رہا تھا کہ بحیثت فر زند چترال اپنی قلم کے ذریعے چند حقائق اور چترال کے لوگوں کے جذبات ارباب اختیار تک پہنچانے کی کوشش کروں ۔اللہ تعالی سے اُمید ہے کہ اس ناچیز کی یہ حقیر کو شش ضرور رنگ لائے گی ۔ میرے اکثر معزز قارعین کے علم میں ہوگا کہ دنیا بھر میں چند ایسے مشہور سیاحتی مقامات ہیں جو نہ صرف وہاں کے مقامی لوگوں کے لئے فخر کا باعث ہے بلکہ درحقیقت یہ اقوام عالم میں ان مما لک کو ایک منفرد شناخت مہیا کرتی ہیں ۔ مثلااحرام مصر کو دیکھتے ہی مصر یاد آجاتا ہے اسی طرح مجسمہ آزادی کو دیکھ کر امریکا یاد آجاتا ہے ۔دیوار چین کاذکر چھیڑتے ہی چین کا تصور ذہن میں آجاتا ہے ۔نیاگرافال کو دیکھ کر کینیڈا کا خیال دل میں تازہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح تاج محل بھارت کی پہچان ہے ۔ خطہ لازوال شندور سطح سمندر سے12 ہزار فٹ کی بلندی پرواقع ایک خطہ بے نظیر اورجنت کا ٹکڑا ہے جسے کسی بھی تعارف کی ضرورت نہیں ۔ خوبصورت برف پوش پہاڑوں میں گھیرا سر سبز و شاداب میدان اور پس منظر میں انتہائی شاندار اور صاف و شفاف جھیل کا منظر شاید ہی دنیا میں اس سے زیادہ طلسماتی اور رومانوی منظر ہو ۔ شندور میلہ واحد بین الاقوامی ایونٹ ہے جو پاکستان کے اصلی حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔یہ نہ صر ف چترال بلکہ پاکستان کی شناخت ہے ۔شندورہمیشہ چترال کا حصہ رہا ہے ۔ اور اس کو لاسپور کے باسی صدیوں چراگاہ کے طور پر استعمال کرکے آرہے ہیں ۔لیکن بد قسمتی اس خوبصورت ایونٹ کو بھی متنازعہ اور ناکام بنانے کی مذموم کو شیش جاری ہیں ۔ پہلے گلگت بلتستان والے ایونٹ کی میزبانی کے لئے اپنے خواہش کا اظہار چند عرصے سے کرتے آرہے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے حالات ا ب اس نہچ پر پنچ چکے ہیں کہ وہ نہ صرف شندور پر حق ملکیت کا دعوی کر رہے ۔بلکے انہوں نے ٹورنمنٹ سے بائی کاٹ کرنے کے علاوہ چترال اسکاوٹس کو بھی کھلی دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی تعمیرات کو مسمار کریں ۔ یہ حالات و واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چترا ل کے پر امن لوگوں کو اشتعال پر اکسایا جارہا ہے ۔ان حالات کے زمہ دار میرے نزدیک ہمارے منتخب عوامی نمائیندے ہیں انہوں نے ہمارے کیس کو صحیح انداز میں پیش نہیں کیا ۔انہیں دو ٹوک اور اوصولی موف کا اظہار کرنا چاہئے تھا۔ میں عوامی نیشنل پارٹی کو انکی طرز حکمرانی کی وجہ سے میں انکا کبھی بھی مداح نہیں رہا ہوں۔لیکن کم ازکم شندور کے سلسلے میں انہیں کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دو ٹوک اور واشگاف الفاظ میں شندور کو اون کیا ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت کے نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر کھیل سیدعقیل شاہ نے جب چترال کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہماری حکومت شندور سمیت کے پی کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گی ۔اس سلسلے میں پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر ہے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انکی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔انکی غیر ضروری خاموشی،غیر ضروری مصلحت پسندی اور غیر ضروری لچک کی وجہ سے حالات آج اس نہچ پر پہنچ چکے ہیں ۔میرے نزدیک ان حالات و واقعات کی کئی احداف اور مقاصد ہوسکتے ہیں ۔ہمارا زلی دشمن بھارت ہمیشہ پاکستان پر کاری ظرب لگانے کے لئے بے چین رہتا ہے ۔ پاک چائینہ اقتصادی راہداری منصوبہ اسکے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ ہمارے قومی سلامتی کے ادارو کو دیکھنا ہو گا کہ کہی اس منصوبے کو سبو تاژ کرنے کی کو شش تو نہیں کی جارہی ہے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کا ہمیشہ سے یہ اصرار رہا ہے کہ انکو باقاعدہ طور پر پاکستان میں ظم کیا جائے۔یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ کشمیر کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ لیکن انتظامی طور پر وہاں کے لوگوں کو با اختیار کرنے کے لئے ان کو ایک ڈیفیکٹو صوبے کا درجہ دیا گیا ہے ۔انکا اپنا اسمبلی ہے وہ اپنا وزیر اعلی اور گورنر منتخب کرتے ہیں ۔پچھلے سال 32 ارب روپے کا خطیر بجٹ انکے لئے منظور ہوا ۔ اسطرح شندور پر حق ملکیت کا دعوی چترال جیسے پسماندہ ترین دور افتادہ علاقے کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے ۔ہم صوبائی حکومت منتخب اور منتخب عوامی نمائیندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ شندور کے سلسلے میں غیر ضروری لچک کا مظاہرہ نہ کیا جائے ۔شندور کے تقدیر کا فیصلہ وہ اکیلے نہیں کر سکتے ۔شندور کے اسٹیک ہولڈر لواری ٹاپ سے لیکر شندور ٹاپ تک چترال کا بچہ بچہ ہے ۔حال ہی میں پی ٹی ائی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر محترمہ سمینہ عابد نے چترال کا دورہ کیا ۔ مجھے بزاد خود انکوسننے کا موقع ملا ۔ ایسا محسوس ہو ا کہ انکے دل میں چترال کے لئے واقعی درد ہے اور وہ چترال کے مشکلات کو کم کرنے کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔اس موقعے پر انہوں نے ایک معصومانہ خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ سینیٹ میں چترال کے مسائل کو اجاگر کرائیں گے ۔ اسی طرح چترال کے لوگوں کو بھی ا ن کو اون کرنا چاہئے ۔اگر وہ چترال کے مسائل کو اجاگر کرائیں تو یقیناًچترال کے عوام ان کو اون کریں گے ۔آج کل ارسون میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے چترال کی فضا ویسے ہی سوگوارہے ۔ ان حالا ت میں شندور ایونٹ کا انعقادکرانے کا مطلب شہدا کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ایونٹ پر جتنا پھی سرکاری خرچہ آتا ہے ۔اس کو مساویانہ طور پر ارسون کے متاثرین میں تقسیم کی جائے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى