مضامین

شندور پر قبضہ کی کوشش

…………..قاری فدا محمد………….

 

اطلاعات کے مطابق کل گلگت انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے بلند ترین پولوگراونڈ شندور پر قبضہ جمانے کے لیے کچھ تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش پر اہلیان لاسپور اپنی زمین بچانے شندور کی طرف نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ شندور کی سرزمین ہم سب کے لیے سیر گاہ و تفریح گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، مگریہ  لاسپور کے عوام کے لیے محض سیر گاہ نہیں  بلکہ حقیقی معنوں میں ان کی   چراگاہ ہے۔ سالہاسال سے گرمیوں کے  موسم میں یہ لوگ  نہ صرف اپنی مویشی اس جگہ  چَرانے لے جاتے  ہیں بلکہ خود بھی  یہاں پر کٹیائیں تعمیر کرکے رہتے آئے ہیں۔ جس پر اہل گلگت  کی جانب سے کبھی کوئی اعتراض  اور ملکیت کا دعویٰ سامنے نہیں آیا۔  لہٰذا اس زمین پر گلگت انتظامیہ کی جانب سے  قبضہ کی کوشش در اصل اہل لاسپور کی ملکیتی زمین پر قبضہ کی کوشش ہے ۔  علاقہ لاسپور کی آخری بستی “بلیم” یا “سور لاسپور” سے یہ  مقام (شندور پولو گراونڈ) محض ایک گھنٹہ پیدل کی مسافت پر واقع ہے اور یہ کہ آج تک یہاں منعقد ہونے والے میلوں (فیسٹیولز) میں میزبانی کے فرائض اور جملہ انتظامی امور چترال سکاوٹ یا چترال کی ضلعی انتظامیہ سرانجام دیتی آئی ہے۔  اور گلگت انتظامیہ یا عوام کی جانب سے اس معاملے میں کوئی اعتراض اور شکایت سامنے نہیں آئی ۔

گلگت بلتستان کی جانب سے اس زمین پر ملکیت کا دعویٰ پہلی مرتبہ گزشتہ سال سامنے آیا، جب  چند غیر معروف شخصیات کی کاوشوں  اور ایک  این جی او  کی پر اسرار سعی سے پشاور میں  صوبائی حکومت اور گلگت انتظامیہ کے درمیاں ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے اجلاس کا انعقاد ہوا۔ افسوس کہ چترال سے کچھ نامی گرامی  سیاسی و دیگر شخصیات بھی اس اجلاس میں شریک رہی ہیں،  شاید ان کو اس اجلاس اور طے پانے والا معاہدہ سے متعلق مکمل آگاہی  نہ ہو۔طرفہ تماشا یہ کہ اس اجلاس  میں  صوبائی حکومت کی جانب سے شندور سے متعلق  ماہرانہ رائے زنی  اور حقائق پر روشنی ڈالنے کے لیے چترال کے سابق ڈی سی  رحمت اللہ وزیر کو بلایا گیا تھا۔  یہ بھی واضح رہے کہ اس متنازعہ ایم اویو کا ڈرامہ رچاتے وقت  شندور سے متعلق جملہ سٹیک ہولڈرز کو یکسر بائی پاس کردیا گیا تھا۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ زیادتی ایم پی اے سردار حسین کی طرف سے انتقامی کارروائی کے طور پر ہورہی ہے، جو کہ  2013   کے انتخابات میں لاسپور سے توقع کے مطابق ووٹ حاصل نہ کرسکے تھے۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں لکھ رہے ہیں ، بلکہ گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ ناظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علاقہ لاسپور سے تعلق رکھنے والی ایک مشہور شخصیت نے بھری محفل میں کہی  تھی۔ علاقے کے عوام ایم پی اے موصوف کے گلگت والوں سے مراسم اور باربار یاترا کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس رائے میں کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ شامل ہے، ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں ، البتہ علاقے کے ایم پی اے ہوتے ہوئے اس اہم ایشو سے مسلسل تسامح اور بے اعتنائی کی روش واقعی   شکوک کو جنم دینے والی ہے۔  محترم سردار حسین صاحب یا کسی بھی ذمہ دار شخص کو کھل کر اپنا موقف بیان کرنا چاہیے ، اگر گلگت کے عوام شندور کی ملکیت کے دعویٰ میں سچے ہیں، تو کھل کر ان کا ساتھ دینا چاہیے، اور اگران کی طرف سے زیادتی ہورہی ہے تواپنے حلقے کی زمین پر اہل گلگت کے قبضے کو یوں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کا مطلب  کیاہے؟

گزشتہ سال  جب غیر قانونی ایم آئی یو طے پایا تو جماعت اسلامی چترال نے پریس کلپ چترال میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے اس کی سخت مذمت کی تھی۔اُس موقع پر شندور فیسٹیول کے مشہور سٹیک ہولڈر  اور معروف شخصیت  شہزادہ سکندر الملک نے اس کے پس پردہ محرکات  کی جس انداز میں وضاحت کی تھی ،  ان پر اگر غور کیا جائے تو اس ایشو کے تانے بانے “را” تک جا پہنچتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو اس معاملے کے جملہ پہلووں اور  پس پردہ محرکات   پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ  بعض پُراَسرارتنظیمات کی دلچسپیوں  اور شخصیات کی کاوشوں  کو پرکھتے اور جانچتے ہوئے  کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سب  سےحیران کن بات یہ سننے میں آئی ہے کہ اس بار شندور میں گلگت پولیس اور انتظامی مشینری کو ایف آئی آر کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے،  جو کہ قانونی طور علاقےپر ان کا حق تسلیم کرنا ہی ہے۔ لاسپور کے عوام اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ بعید نہیں کہ اس صورتحال میں شندور فیسٹیول کے موقع پر تفریح کے بجائے تصادم کا سماں ہوں۔اور حکومت کی جانب سے فوری طور پر معاملے کی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سنجیدہ کوشش نہ کرنے پر معاملہ  گلگت اور چترال کے عوام میں تصادم اور طویل منافرت کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ شندور فیسٹیول علاقے کی ترقی، حکومتی نمائندوں  کی آمد کی بنا پر منصوبوں  اور اسکیموں کے اعلانات اور  ٹورازم کے فروغ کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ فیسٹیول  گلگت اور چترال کے عوام کے ایک دوسرے  کے مزیدقریب آنے اور تعلق خاطر قائم اور بحال رہنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ مگر اہل چترال بالخصوص لاسپور کے عوام  اپنی زمین پر قبضہ جمانے کے عوض اس فیسٹیول کے انعقاد کی اجازت ہر گز دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گلگت اور چترال کے عوام کے درمیاں زمانہ قدیم سے تعلق خاطر اور محبت کا رشتہ قائم رہا  ہے  ، دونوں علاقوں کے رہن سہن، زبان و ثقافت  اور بہت ساری چیزوں میں مماثلت و یکسانی پائی جاتی ہے۔ ان شاء اللہ تعلق اور محبت کا یہ رشتہ تا ابد قائم ودائم رہے گا۔ مگراس کے قائم رہنے اور شندور فیسٹیول کے پرامن انعقاد کو  چراہ گاہ کی قربانی اور زمین کی ملکیت سے دستبرداری سے مشروط کرنا ہر گز قرین انصاف نہیں ہے۔ ایسی محبت  اور رشتہ میں پائداری ہوتی ہے اور نہ ہمیں مطلوب و منظورہے۔

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ

تو استعفیٰ میر ا باحسرت و یاس

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى