ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا …..شندور کے حوالے سے غلط فہمی

,…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………….
شندور پولو فیسٹول کا پہلا مقابلہ لاسپور اور غذر کی ٹیموں کے درمیان ہوا لاسپور نے 3 کے مقابلے میں 4 گولوں سے میچ اپنے نام کر لیا خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے انعامات تقسیم کئے اس موقع پر چترال کے ضلع ناظم حاجی معفرت شاہ نے سپا سنامہ پیش کیا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے لاسپور کی ٹیم کو مبارک باد دی اور چترال کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اگلے دو دنوں میں مزید چار میچ کھیلے جائینگے میرے سامنے برادرم محمد شریف شکیب کا کالم ہے جس کا عنوان انہوں نے ’’شندور پر منڈلانے والے خطرات ‘‘رکھ لیا ہے کالم میں خطرات کا ذکر نہیں ہے پہلے ہی شندور کے بارے میں ایک غلط فہمی پیدا کی گئی ہے جو سنئیر صحافی شریف شکیب کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے غلط فہمی یہ ہے کہ شندور پولو فیسٹول کا مقصد گلگت کے کھلاڑیوں کا میچ ہے انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گلگت کے کھلاڑی صرف شندور پولو کے لئے گھوڑے پالتے ہیں اس غلط فہمی کے نتیجے شریف شکیب صاحب نے 20 اپریل 2015 ؁ء کو پرل کا نٹی ننٹیل ہوٹل پشاور میں ہونے والے خفیہ ایم او یو کو بے ضرر کاغذ قرار دیا ہے اور کور کمانڈر الیون کو ر لفٹننٹ جنرل ہدایت الر حمن کی طرف سے دئیے گئے عشائیے کو بطور سند پیش کیا ہے اس طرح ایک غلط فہمی سے چار غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں گلگت سے 15 شخصیات پر مشتمل جرگے نے فروری 2015 ؁ء اور اپریل 2015 ؁ء کے درمیان دوبار پشاور کا دورہ کیا پنچ ستاری ہوٹل میں کئی عشائیے دئیے گئے کور کمارنڈر پشاور نے اگر اپنے گاؤں سے آنے والے مہمانوں کو ضیافت دی تو یہ بُری بات ہرگز نہیں ہم لوگ سکردو گئے تو راجہ فضل خالق کی وہاں پوسٹنگ تھی انہوں نے ہمیں عشائیہ دیا تھا تفصیلات شیر ولی خان اسیر کے سفرنامہ ’’بانگ سے بلتستان تک ‘‘میں صراحت کے ساتھ آگئی ہیں عشائیے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کور کمانڈر پشاور اپنے گاؤں کے لوگوں کی منفی سر گر میوں کو پسند کرتے تھے اور خدانخواستہ امجد آفریدی کے ساتھ خفیہ ایم او یو میں بھی شریک تھے ایسی کوئی بات نہیں ایسا سو چنا کسی کی ضیافت اور اخلاقی مروت کا ناجائزفائدہ اُٹھا نے کے مترادف ہے مذکورہ خفیہ ایم او یو کو خیبر پختونخوا کی حکومت نے مسترد کیا امجد آفریدی کو مُشیر کے عہدے سے ہٹاکر گھر بھیجد یا وجہ یہ تھی کہ ایم یو ایک شرمناک دستاویز کی حیثیت رکھتاتھا یہ 1843 ؁ء کے معاہدہ امر تسر کی طرح قوم ، ملک اور وطن کے خلاف سازش کا نتیجہ تھا اس وجہ سے اس کو لاسپور اور مستوج کے لوگوں سے خفیہ اور پوشیدہ رکھا گیا اُس دن میں خود ٹین گنر لین میں مقیم تھا جو پر ل کانٹیننٹل ہوٹل سے زیادہ دور نہیں ہے پورے سیمیناراور پوری کا روائی کو مجھ سے چھپایا گیا اسی طرح یوسف شہزاد ، امیر اللہ خان یفتالی ، محمد شہاب الدین ایڈوکیٹ ، کرنل (ر) اکرام اللہ خان ، شہزادہ سکندر الملک اورڈاکٹر اسماعیل ولی سے بھی اس پورے سیمیناراور پوری دستاویزکو خفیہ رکھا گیا مجھے ساڑھے تین بجے ریڈ یو آکاش وانی سنکر معلوم ہوا کہ پشاور میں ایم او یو ہواہے شام کو سرینگرریڈیو اور رات کو آل انڈیا ریڈیو نے یہ خبر نشر کی انگریزی اصطلاح میں اس کو لینڈمارک یعنی اہم سنگ میل قرار دیا گیا مئی 2015 ؁ء میں گلگت کے ثقافتی شو کے لئے ہم لوگ گئے تو وہاں وزیر اعلیٰ شیر جہاں میر کی طرف سے دئیے گئے عشائیے میں چلاس اور بگرو ٹ سے تعلق رکھنے والے وزراء عنایت اللہ شمالی اور مولوی نعمت اللہ نے بھی وہی اصطلا ح استعمال کی یعنی اس کو لینڈ مارک ایم او یو قرار دیا انہوں نے کہا کہ اس ایم او یو کے ذریعے ہم نے اپنی زمین کا قبضہ چترال والوں سے چھڑا لیاہے آڈیو اور ویڈیو ٹیپ میں یہ تقریر یں محفوظ ہیں شریف شکیب صاحب کو بخوبی علم ہے کہ 1980 ؁ء میں جنرل ضاء الحق نے شندور میں تقریر کی تو بھارتی حکومت نے پاکستان سے احتجاج کیاتھا اور بھارتی میڈیا نے شندور کو امر تسر معاہدے کی رُو سے کشمیر کا حصہ قرار دیا تھا شریف شکیب صاحب کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ سکردو بلتستان کے قلعہ کھر پچو ، یا سین کے قلعہ ڈور کھن اور قلعہ مڈوری میں ڈوگرہ کے خلاف غذر اور چترال کے لوگوں نے کئی جنگیں لڑی ہیں قلعہ کھرپچو پر چترال باڈی گارڈ کے دستے نے پاکستان کا پر چم لہرایا مشہور دانشور اور ماہر تعلیم لیاقت علی کے والد گرامی بریپ کے گل رکین 2014 ؁ء تک بقید حیات تھے وہ پر چم پارٹی کے سر براہ تھے ڈوگرہ کا جھنڈا اتار کر پاکستان کا جھنڈا انہوں نے لہرایا تھا جب تاریخی قلعوں کو عجائب گھر میں بدلنے کا وقت آیا تو گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت نے کھر پچو ، ڈور کھن اور مڈوری کے قلعوں کے لئے این اوسی نہیں دیا خپلو ، شگر ، التت اور بلتیت کے ایسے قلعوں کے لئے این او سی ملا جن میں ڈوگرہ کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہوئی چنانچہ کھرپچو کا قلعہ گرادیا گیا ہے مڈوری کا قلعہ بھی مخدوش ہو چکا ہے ڈورکھن کے قلعے کی صرف دیواریں سلامت ہیں اگر ان قلعوں کو عجائب گھر یا ہوٹل بنا یا جاتا تو بروشر یا تعارفی کتا بچے میں تاریخ کا ذکر ہوتا ڈوگرہ کی شکست کا حال لکھا جاتا ان قلعوں کا گرایا جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ یہاں کام کر رہا ہے شندور میں پولو صدیوں سے کھیلا جارہا ہے شندور آنے والے سیاح گلگت کے کھلا ڑیوں کے لئے نہیں آتے شندور کی خوبصورتی ، جھیل کا نظارہ ، دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ اور چترال کا فری سٹائل پو لو دیکھنے کے لئے آتے ہیں چترال کے ایک اور پُر فضا مقام لون (Lone) کے چراگاہ میں ’’بیلوں کی لڑائی ‘‘ مشہور ہے اگر کوئی کہد ے کہ دیر یا بنوں کے لوگوں کو یہاں کا انتظام سنبھال کر بیل لڑانے کا اختیار دیا جائے اور اس مقصد کے لئے لون کی چراگاہ کومشترک قرار دیا جا ئے تو لون کے عوام اس بات کو کبھی قبول نہیں کرینگے یہی حال شندور اور لاسپور کے عوام کا ہے اس لئے محمد شہاب الدین ایڈوکیٹ نے شندور کے حوالے سے حقائق نامہ شائع کیا ہے یہ حقائق نامہ نیٹ اور فیس بک پر دستیاب ہے حقائق نامہ تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا ہے شندور پر کوئی اور خطرہ نہیں منڈلاتا ، صرف پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی کا خطرہ منڈلاتا ہے اس کا مقابلہ کرنا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے ہمیں دشمن کے کارندوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق