ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …..جنرل راحیل شریف شند ور میں

……….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے 31 جولائی کو چترال کے پُر فضا سیاحتی مقام شندور میں فری سٹائل پولو کا فائنل میچ دیکھا کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے اور 30 ہزار کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پیغام دیا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ضرب غضب آخری دہشت گرد کو ٹھکانے لگانے اور دشمن کے نا پاک عزائم کو خاک میں ملانے تک جاری رہے گا انہوں نے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے وطن کی حفاظت کے لئے لا زوال قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں کے نتیجے میں امن بحال ہوا ہے ملکی اور غیر ملکی سیاح چترال اور شندور جیسے پُر فضا مقامات کی سیر کو آتے ہیں انہوں نے چترال کی ونر ٹیم کے کپتان شہز ادہ سکندر الملک کو مبارک باد ی اور گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جنرل راحیل شریف کا دورہ چترال اور شندور کے پو لو میج میں مہمان خصوصی ہونا ہمارے دشمنوں کے لئے سفارتی اور دفاعی زبان میں اہم پیغام ہے شندور ضلع چترال کا اہم سطح مر تفع ہے جہاں دُنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ اور خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جھیل واقع ہے اس جھیل کی لمبائی 5 کلو میٹر اور چوڑائی 3 کلو میٹر ہے یہ جھیل سیف الملوک سے 10 گنا اور مہو ڈنڈ جھیل سے 8 گنا بڑی ہے اس کے اردگرد بلند پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں کے ساتھ ساتھ حد نظر تک پھیلے ہوئے سبزہ زار اور مرغز ار ہیں سطح سمندر سے 12305 فٹ کی بلندی پر اتنا خوش نما نظارہ سیاحوں کے لئے بڑ ی کشش رکھتا ہے چترال کا فری سٹائل پولو میج اور پیرا گلائڈنگ ، ثقافتی شو و دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلے ان کے علاوہ ہیں شندور جھیل اور پولو گراؤنڈ سے کئی دیو مالائی داستا نیں وابستہ ہیں لند ن کے برٹش میوزیم میں لا کہارٹ پیپرز کا ریکارڈ محفوظ ہے نیشنل لائبر یری اسلام آباد میں اس کی ما ئیکر وفلم دستیاب ہے کرنل لا کہارٹ اور میجر بڈ الف نے 1876 ؁ء میں گلگت کے راستے چترال آتے ہوئے شندور میں قیام کیا انہوں نے دن کیوقت پولو اور رات کے وقت چترال کے فنکاروں کو لیکر سردار نظام الملک کے ساتھ ثقافتی محفل کا تفصیلی ذکر کیا ہے 1906 ؁ء اور 1914 ؁ء میں ہونے والے اہم پولو میجوں کا حال مہتر چترال کے ریکارڈ میں موجود ہے مشہور شاعر معظم خان اعظم نے 1906 ؁ء کے میچ پر فارسی نظم لکھی ہے کھلاڑیوں کی لاف زنی اور کھیل کا حال بیاں کیا ہے 100 سے زیادہ اشعار پر مشتمل نظم ایک ادبی شہ پارہ ہے خیبر پختونخوا ٹورزم کارپوریشن شندور میں سالانہ پولو فیسٹول تاریخی روایت کو زندہ رکھنے کے لئے منعقد کرتی ہے چترال کی ضلعی انتظامیہ ، چترال سکاؤٹس ، چترال پولیس اور صوبائی حکومت کی پوری ٹیم اس میلے کو کامیاب کرنے کے لئے مستعدی کیساتھ کام کرتی ہے شندور پولو فیسٹول 2016 ؁ء میں چترال کی چار ٹیموں کے ساتھ گلگت بلتستان کی چار مہمان ٹیموں نے بھی حصہ لیا 29 جولائی کو افتتاحی میچ کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک تھے سپیکر اسد قیصر ، سینئر وزیر عنا یت اللہ، ثقافت اور کھیلوں کے لئے وزیر اعلیٰ کے مشیر عبد المنعم خان اور کابینہ کے دوسرے وزراء بھی ہمراہ تھے چترال کے ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے سپا سنامہ پیش کر کے چترال کی تاریخی روایات اور ثقافتی میلوں پر روشنی ڈالی وزیراعلیٰ نے اپنی مختصر تقریر میں قدیم ثقافتی روایات کو زندہ رکھنے پر چترال کے عوام اور پولو کے کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ نے چترال کے لئے ایک ارب روپے کے ترقیاتی پیکچ کا اعلان کیا انہوں نے پہلے میچ کی فاتح لاسپور ٹیم کے کپتان سردار احمد خان کو ونر ٹرافی دی جنہوں نے غذر کی پولو ٹیم کو 3 کے مقابلے میں 4 گولوں سے شکست دی اس طرح چترال کی ڈی او رسی ٹیموں نے اپنے اپنے میجوں میں گلگت بلتستان کو شکست دی بی ٹیم کا میج گلگت بلتستان نے جیتا دوسرے روز کے میجوں میں گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ مہمان خصوصی تھے اپنی تقریر میں انہوں نے چترال اور گلگت بلتستان کے عوام کی حب الوطنی ،امن اور رواداری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت اور قدیم روایات کی پاسداری کو مثالی قرار دیا یو نیورسٹی آف قطر دوحہ کے پروفیسر ڈاکٹر طارق اللہ خان نے گلگت بلتستان کے پولو کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ بائیکاٹ کی جگہ کھیل پر توجہ دیکر دلجمعی کے ساتھ تیاری کرنیگے تو ان کو جیتنے کے بہتر مواقع ملینگے پاکستانی امریکن محمد ظفر نے جار جیا سے تجویز پیش کی ہے کہ شندور پولو فیسٹول میں ہرسال گلگت بلتستان کی ٹیموں کو بلانے کے بجائے خیبر رائفلز،شول رائفلز ، پاکستان رینجرز اور دیگر فورسز کی ٹیموں کی دعوت دی جائے نیز بیرون ملک سے ملا ئشیا ، منگو لیا ، تاجکستان اور ازبکستان کے گھرڑ سواری، فری سٹائل پولو اور بزکشی کے ماہرین کو بلایا جائے تاکہ شندور پولو صرف چترال تک محدور د نہ ہو بلکہ اس کا دائر ہ وسیع ہو کر بین لاقوامی حیثیت اختیار کر ے کیونکہ پولو کو رڈیارڈ کپلنگ نے اپنی نظم میں بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ قرار دیا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق