شمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(چھوٹے کام بڑے مسلئے )

تحریر: شمس الحق قمر ؔ گلگتزمین کی عمر کتنی ہوگی ؟ ایک عجیب سوال ہے کیوں کہ ایک انسان اپنے بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اُس کی زندگی کا چراغ کب گل ہو سکتا ہے ۔ البتہ یہ تو طے ہے کہ یہی کوئی اسّی یا سو سال تک ایک انسان زندہ رہ سکتا /سکتی ہے ۔ اور زندگی کی یہ مہلت بھی تب ممکن ہے جب ایک انسان اپنی صحت کا خاص خیال رکھتے ہوئے اپنی زندگی حفاظت اور نگہداشت کے ساتھ گزارے ۔
زمین کی عمر کے حوالے سے سائنسدانوں کا یہی خیال ہے کہ اب تک زمین کی عمر 4.6 ارب سال ہو چکی ہے اور 10ارب سال باقی ہیں ۔ انسانی زندگی سے اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ ایک انسان ابھی اسکی عمر 30 سال ہے اگر وہ کسی بے وقت حادثے کا شکار نہ ہو تو اُس کے لئے 90 سال تک زندہ رہنے کے امکانات واضح ہو جاتے ہیں۔ ہمارے کرۂارض کے بارے میں سائنسدانوں کا یہ خیا ل ہے کہ زمین کی عمر 10ارب سال مزید ہے ۔ یہ اپنی جگہ درست ہے کہ کرۂ ارض ابھی عفوان شباب کے مراحل سے گزر رہاہے لیکن جو عریضے ، بیماریوں اور امراض اس کو لاحق ہیں اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ اگر ہم نے ان بیماریوں کی روک تھام اور سد باب نہیں کی تو یہ کرۂ ارض کسی بھی موڑ پر بھیانک حادثے کا شکار ہو سکتی ہے
مجھے سورہ الحجرات کی ایک آیت کریمہ کا مفہوم یاد آتا ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی ٰ انسانوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں ( مفہوم) اے انسانو! میں نے تمہارے لیے یہ آسمان بنایا اور یہ زمین بنائی اور بڑے بڑے پہاڑوں کو زمیں پر موجود عظیم سمندروں میں لنگر انداز کیا تا کہ تم حدود اور قیود سے عاری فضاؤں کی بے کنار وسعتوں ، سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں، لق و دق صحراؤں اور بلندو بالا پہاڑوں پر تحقیق کرکے اپنے لیے جینے کا بہترین سامان حاصل کرسکو اور یاد رکھو! ان نعمتوں کو تم بے جا استعمال نہ کرو کیوں کہ یہ خزانے صرف تمہارے لئے نہیں بلکہ تمہارے بعد کی نسل کے لئے بھی ہیں اور یہ بھی یاد رکھنا کہ ہم ا نہی خزانوں سے اُ ن مخلوق کو بھی روزی دیتے ہیں جنہیں تم روزی نہیں دے سکتے ۔ یعنی کررہ ارض پر رہنے والی تمام مخلوقات کی روزی اسی کرہ ارض کے اوپر موجود ہے ۔ کررہ ارض ہم تمام مخلوقات کا ایک مشترکہ گاؤں ہے اور اس گاؤں میں رہنے والی تمام مخلوق کو اسی زمین سے فائدہ اُٹھانے اور زندہ رہنے کا برابر حق حاصل ہے ۔ اور جب بھی ہم ان نعمتوں کا بے دریغ استعمال شروع کرتے ہیں تو گویا ہم دوسری تمام مخلوق سے اُن کی زندگی کا حق چھین لیتے ہیں ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ دنیا میں کسی بھی شے کا وجود بے معنی نہیں ۔ دنیا کی مثال ایک مشین کی ہے اور یہاں کی ہر جاندار اور بے جان چیز اس مشین کے پرزے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پرزے میں بھی خدا ناخواستہ کوکئی خرابی آجائے تو مشین میں گڑ بڑی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے ۔
دنیا کے نقشے میں موجود وہ تمام ممالک جن کے پاس کوئی الہامی کتاب موجود نہیں لیکن کام میں ایسے مصروف عمل ہیں جیسے قران کریم اُن کا ہے ۔ اب آپ سب سوچئے کہ کیا ہم نے مذکورہ آیت مبارکہ میں مذکور کسی ایک حکم پر بھی کما حقہ عمل کیا ہے ؟ ہم انتہائی تن آسان مسلمان ہیں بس من و سلوی کا ہی انتظار رہتا ہے ۔ اللہ کی نعمتوں میں سے جو نعمت بیٹھے بٹھائے مل گئی خوب سیر ہوکے کھائے اور اتنے کھائے کہ آنے والی نسل کا خیال ہی نہیں رہا اور جہاں محنت کر کے کچھ حاصل کرنے کی باری آئی وہاں ہماری کمر ٹوٹ گئی اور ہم نے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اوپر رکھدیا ہم نے بو لا کہ اُس کا منشأ تھا اور اُس کی مرضی تھی ۔ ہم پر غربت آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ کی مرضی ہے حالانکہ ہم یہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ غربت اُس وقت آجاتی ہے جب ہم محنت سے جی چراتے ہیں ۔ کوئی آفت آتی ہے تو ہم اُس آفت کا نام بھی اللہ سے منسوب کرکے قدرتی آفت کہتے ہیں اور اُس آفت کی وجوہات پرمزید سوچ بچار پر قفل لگا لیتے ہیں ۔ عجیب بات ہے جب کوئی بہت بڑی آفت آجاتی ہے تو مجھ جیسا گناہ گار کاہلِ نماز آدمی بھی مسجد کی طرف دوڑتا ہے ۔ ہمارے دنیاوی مسئلے کا حل دائیں طرف ہے اور ہم بائیں طرف دوڑ رہے ہوتے ہیں ۔ اصل مسئلہ اپنی جگہے پر جوں کا توں ہے اور وہ مسئلہ ہے مسائل پر غور کرنے اور انہیں حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کا فقدان ۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ہماری دھرتی ماں نے ہمارے ساتھ سوتیلی ماؤں کا سلوک روا رکھا ہے ۔ وقت بے وقت تیز بارشیں ، سیلاب آنا اور اندرونِ زمین خوفناک شکست و ریخت سے بھونچال آنا وغیرہ کرۂ ارض کی بربادی کی وجوہات ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ بربادی کی ان وجوہات کے پیچھے کون سا عمل کار فرما ہے ؟ وہ کون ہیں جو اس کرۂ ارض کو اس گھمبیر نتیجے تک پہنچانے کے زمہ دار ہیں ؟ انسان کے علاوہ اس کررۂ ارض پر رہنے والی کونسی مخلوق ایسی ہے جو اپنی حیات کے لئے زمین کو نوچتی ہے کھرجتی ہے اور غیر فطری طور پر روزی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ؟ ۔ انسان کے علاوہ اس زمین کے اوپر رہنے والی تمام مخلوق اپنی ضرورت کے مطابق زمین میں موجود خزانوں اور نعمتوں کو استعمال کرتی ہیں۔ ایک انسان ہے کہ اشرف المخلوقات کا لیبل ماتھے پر لگا کے وہی کچھ کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے برخلاف ہے ۔ انسان یہاں تک پہنچا ہے کہ اس کرۂ ارض پر موجود دوسری مخلوق کا حق بھی چھین کر اپنی نکمی سے نکمی عیاشی اور دلجمعی کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ کیا ہم میں سے کوئی وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایک بھی ایسی چیز یا مخلوق ہے جسکا کوئی مصرف نہیں یا اُس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ دنیامیں کوئی بھی چیز بغیر مقصد کے پیدا نہیں کی گئی اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ تمام اشیأ انسان کی بہتری کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم یہ قطعی طور پر جاننے یا سوچنے سے قاضر ہیں کہ ان اشیأ کے بہتر اور سودمند استعمال کا طریقۂکار کیا ہے ؟ یہی ہماری نااہلی کی جڑ ہے ، ہمارے تما م مسئلے یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہم نے کونسا ایسا کام کیا جس کی وجہ سے ہماری دھرتی ماں کو طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوئیں؟ ہم نے دانستہ یا نادانستہ طور پر اس دھرتی کو تباہی کے جس مہیب دھانے پر کھڑا کیا ہے اُسے ما حولیاتی الودگی کا نام دیا گیا ہے ۔ اس آلودگی کے زمہ دار ہم میں سے کوئی خاص افراد یا کوئی خا ص ملک اور علاقہ نہیں بلکہ اس کرۂ پر صدیوں سے آبادہر فر د ہے جس نے اس زمین کو اپنے فائدے کے لئے جائزو ناجائز انداز سے نوچتا رہا ۔ہم میں سے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس ماحولیاتی آلودگی میں ترقیافتہ اقوام کا ہاتھ ہے بڑی بڑی صنعتیں اور ان سے نکلنے والا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ ہے ۔ اگر غور سے سوچیں تو یہ امر کئی ایک وجوہات میں سے ایک ہے ۔ ہم اگر چہ بڑی بڑی فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے دھواں کے زمہ دار نہیں ہیں تو یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن کیا سر سبز و شاداب درختوں کو بے دریغ کاٹنے والے اور طرح طرح کے ماحول دوست آبی اور جنگلی جانوروں کے قاتل ہم نہیں ہیں؟ ۔ ہمارے پہاڑی علاقوںpic Shikar (1) خاص کر چترال میں جنگلی درختوں کو کاٹنے اور جنگلی جانوروں کے بے دریغ شکار کا رواج عام ہے ۔ سردیوں کے موسم میں مہاجر آبی پرندے جب چترال کا رخ کرتے ہیں تو ہمارے بے رحم شکاری بھائی دریاؤں میں بڑی لاگت سے بند باندہ کر مہمان پرندوں کی نسل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں ۔ موسم بہار میں فاختے امن کا پیغام لیکر چترال کی سیاحت کے لئے آتے ہیں اور ہم میں سے اکثر لوگ اُن بے زبان پرندوں کے ساتھ جانی دشمنوں کاسلوک کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ جب ہمارے لوگ بندوق کلچر سے پاک تھے تو طرح طرح کے پرندے ہمارے یہاں آتے تھے یہاں تک کہ پہاڑوں سے مارخور بھی بکریوں کے ساتھ چرتے چرتے دیہات میں اُتر آتے تھے لیکن آج چترال میں ہمارے بچے مارخور کی تصویر اپنی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔ بے شمار پرندوں کی نسلیں مفقود اور اُن کے نام ہماری زبان سے متروک ہو چکے ہیں ۔ ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوچنے کی اشد ضروورت ہے کیوں کہ چھوٹی باتیں بڑے مسائل میں تبدیل ہوتی ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق