
ہم اپنے اسلاف کے آئینے میں
…………..تحریر : اقبال حیات ؔ آف بر غذی ……
نماز سے فراعت کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف بڑھا تو وہاں پر اپنے معصوم بچوں کو زمین پر لیٹائے ۔ان کے پیٹ کی آگ بجھا نے اور علاج معالجے کے لئے بھیگ مانگنے والی بدحالی کا شکار خواتین کی درد بھر ی فریاد سن کر ایک لمحے کے لئے کھڑا ہوا تو عین اسی وقت اوپر فضاء میں شندور جانے والے ہیلی کاپٹروں کی گڑ گراہٹ اور نیچے زمین کی سڑکوں پر حکومتی اہلکاروں کی حفاظت پر مامور گاڑیوں کی سائیرنوں کی آوازوں میں ان بھکاریوں کی چیخ و پکار دب کر رہ گئیں ۔ ان تینوں آوازوں کی نوعیت حالات کے اعتبار سے قابل غور ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے اس وطن عزیز کو موسوم کر کے ہم استراحت کا اظہار تو کر رہے ہیں ۔ مگر امور مملکت کی انجام دہی میں اسلام کے ارفع اصو لوں اور تقاضوں کا کوئی رنگ نظر نہیں آتا ۔ حالانکہ تاریخ اس حقیقت کا شاہد ہے کہ جب حکمرانوں نے اس اکمل نظام کی پاسداری کی اور اس کے تقاضو ں کے لاج رکھے تو رحمت خداوندی کے فیوض و برکات کی بر سات سے تمام رعایا مستفید ہوئے ہیں ۔ جب حکمران انسانی حفاظت کے حصاروں سے نا آشنا برسر عام درخت کے سائے میں بے خوف و خطر سوتے تھے اور راتوں کو جھاگ کر مخلوق خدا کے حالات معلوم کر نے کے لئے گلی کو چوں میں پھیرتے تھے اور دریائے فرات کے کنارے بھوک سے کتے کی موت کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتے تھے تو کسی کو سوالی بن کر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑتی تھی ۔ جب خلیفہ اور غلام سفر کے دوران باری باری اونٹ پر سواری کرتے تھے ۔ مال غنیمت کی تقسیم میں اپنے اور بیٹے کے حصے میں آنے والے کپڑے کوسی کر ذیب تن کر کے خطبے کے لئے کھڑے ہونے پر ایک مقتدی کی طرف سے مکمل جوڑے کے بارے میں امام وقت سے باز پر س کی جاتی تھی تو نا انصافی اور حق تلفی لفظ سے پوری معاشرتی زندگی نا آشنا تھی ۔ جب خلیفہ وقت اپنے کپڑوں کے لئے کانٹوں کو بٹن کے طور استعمال کرتے تھے تو آسمان پر فرشتے اس طرز کو اپنا تے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ ایک دفعہ صوبوں کے گور نروں کو خط لکھ کر تمام نا بینا ، لولے لنگڑے اور شدید بیمار افراد کی فہرست مانگتے ہیں۔ جب یہ فہر ستیں آپ تک پہنچتی ہیں تو آپ ہر نا بینا فرد کی روز مر ہ کاموں میں معاونت کے لئے سر کاری خرچ پر ایک شخص کو مامور کر تے ہیں اور اسی طرح ہر معذور اور شدید بیمار کے لئے بھی ایک سرکاری ملازم کی خدمات تفویض کر تے ہیں ۔ اس قسم کے حکمرانوں کی طرف سے خط لکھنے پر خشک نالوں میں پانی فر اوان ہوتے تھے اور بھونچال آنے پر پاؤں مارنے سے زمین ساکت ہو تی تھی ۔ مگر آج نظام حیات کا جو نقشہ ہمیں مذہب کی طرف سے دیا گیا ہے عمل کی دنیا میں و ہ نقشہ کہیں بھی نظر نہیں آتا ۔ ہم نے وہ اسلوب اور اطوار ہی بدل ڈالے ہیں جو مذکورہ دنیا کی ذینت تصور کئے جاتے ہیں ۔ ان حقائق کی روشنی میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روٹی کے نوالے کے لئے تڑپتے اور تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے کو ترستے خداوند قدوس کے گھر کے دروازوں پر انسانوں سے سوال بنکر ہاتھ پھیلانے اور اکیسویں صدی کی روشن دنیا میں رات کی تاریکیوں کو موم بتی سے پاٹنے والے رعایا کے ارباب اختیار کو مختلف میلوں کے اہتمام کی صورت میں کروڑوں روپئے لٹانا ذیب دیتا ہے ۔ یقیناًجواب نفی میں ہوگا۔ مگر نہ خوف خداہے اور نہ شر م و حیا ۔
شرم با کو شرم ہوئی
در محا لو کیہ بغائ
