ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……..لَختِ دل اور اشک تر

……………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …………
خاقانی ہند شیخ محمد ابراہیم ذوق کی غزل کا لاجواب شعر ہے
لخت دل اور اشکِ تر دونوں بہم دونوں جُدا
ہیں رواں دو ہم سفر دونوں بہم دونوں جُدا
یہ شعر آج کل خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل دو اتحادی پارٹیوں پر صادق آتا ہے بلکہ تیسری پارٹی پر بھی صادق آتا ہے کا بینہ میں اتحادی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں باہر آکر ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے ؟ کرپشن فری پاکستان کی ملک گیر تحریک میں پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کو اکیلا چھوڑ دیا ہے گو یا اس تحریک سے پی ٹی آئی کو قطعاً اتفاق نہیں پا نا مہ لیکس میں بھی کرپشن کا ذکر تھا اس کے خلاف پی ٹی آئی جو تحریک چلا رہی ہے اس میں جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہے قومی وطن پارٹی ان کے ساتھ نہیں ہے بقول سہیل وڑائچ ’’ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟‘‘ یہ جملہ ایک سوال بن چکا ہے جو خیبر پختونخوا کے درو دیوار پر لکھا ہے ایک دانشو ر نے بڑے تعلیمی ادارے میں جمہوریت پر لیکچر دیا لیکچر کے بعد طلبہ نے جو سوالات پو چھے وہ اصولوں کے حوالے سے تھے مثلاً مخلوط حکومتیں کن اصولوں پر بنتی ہیں؟ دانشور نے کہا اصول یہ ہے کہ دو یا دوسے زیادہ جماعتیں ہم خیال ہوتی ہیں ملکی مسائل پر اُن کی پالیسی ایک جیسی ہوتی ہے تو وہ مخلوط حکومت بناتی ہیں جس طرح وفاق میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جمعیتہ العلمائے اسلام (ف) اقتدار میں شریک ہے ہر معاملے پر مسلم لیگ کا ساتھ دے رہی ہے یہاں تک کہ پانا مہ لیکس کے حساس اور نازک معاملے پر بھی مولانا فضل الرحمن نے میاں محمد نواز شریف کو اکیلا نہیں چھوڑا حالانکہ اُس وقت مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینا بڑا خطر نا ک فیصلہ تھا انگر یز ی میں ایسے فیصلے کو ’’ ہائی رسک ‘‘ کہا جاتا ہے تاہم اتحادی جماعت نے رسک لے لیا ایک طالب علم کا سوال تھا پی ٹی آئی کا نعرہ کرپشن کے خلاف کھلی جنگ ہے جماعت اسلامی نے جس وقت کر پشن فری پاکستان کے لئے مہم کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی نے اتحادی جماعت کا ساتھ کیوں نہیں دیا ؟ اس سوال کا جواب مشکل تھا اصولوں کی بات ہو اصولوں کی بنیاد پر اتحاد ہو تو دونوں اتحاد ی جماعتوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے جب وہ ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے تو معلوم ہوتا ہے کہ یا اتحاد میں گڑ بڑ ہے یا اصولوں میں گڑ بڑ ہے یا دونوں جگہ بہت بڑا گھپلا اور ناقابل عبور خلا ہے ستمبر 2001 ؁ء میں جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا سانحہ رونما ہوا تو امریکی صدر نے اعلان کیا تھا جو ملک ہمارے ساتھ تعاؤن نہیں کرتا وہ ملک ضرور دشمن کے ساتھ ملا ہوا ہے اس بین لا قوامی اصول کو اگر اتحادی جماعتوں پر آزما یا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے وہ بات یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے پر اتحادی جماعتوں میں اصولی اختلاف ہے کرپشن کا خاتمہ دونوں کا نعرہ ہے مگر دونوں کے ہاں کرپشن کے خاتمے پر اتفاق نہیں اگر تم کرپشن فری پاکستان کی مہم میں میرا ساتھ نہیں دیتے تو اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ تم ’’ کرپشن فل پاکستان ‘‘ کے حامی ہو اور اگر میری اتحاد ی جماعت پانا مہ لیکس کے خلاف تحریک میں میرا ساتھ نہیں دیتی تو ظاہر ہے وہ آف شور کمپنی والوں کے ساتھ متفق ہوگی خیبر پختونخوا میں جمہوریت پر کوئی لیکچر ہو ،اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کی پریس کا نفرنس ہو کوئی سیمینار ہو ، ہر جگہ یہ سوال پوچھا جاتا ہے اس کا ایک ہی جواب ہے ’’ اصول کی بات یہ ہے کہ اصول کی کوئی بات ہی نہیں ‘‘ جس طرح ڈاکٹر طارق رحمن نے پاکستانی انگریزی پر الگ کتاب لکھی ہے اس طرح پاکستانی سیاست اور پاکستانی جمہوریت پر بھی الگ کتاب ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں اتحاد کا مطلب اتحاد نہیں مخلوط کا بینہ کا مطلب مخلوط حکومت نہیں ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتیں ہماری جمہوریت میں الیکشن کمیشن کو تسلیم نہیں کیا جاتاعدالتی فیصلوں کوتسلیم نہیں کیا جاتا پاکستانی جمہوریت اور پاکستانی سیاست کاا پنارنگ ہے جو میکیا ولی اور چانکیہ کے سیاسی اصولوں کا ملغوبہ ہے اس پر الگ کتا ب ہونی چاہیے جمہوریت پر اس وقت جو نصابی اور غیر نصابی کتا بیں دستیاب ہیں ان کتابوں کی کوئی بات ملکی سیاست میں نظر نہیں آتی اس وجہ سے طلباء کو بھی پریشانی ہوتی ہے طالبات کو بھی تشویش ہے کہ ہم جو کچھ پڑھتے ہیں و ہ نظر کیوں نہیںآتا؟ ہم جو کچھ پڑھتے اور پڑ ھاتے ہیں وہ اُس وقت نظر آئے گا جب سیاست اصولوں پرہوگی موجودہ سیاست اور موجودہ جمہوریت اصول سے زیادہ ’’ وصول ‘‘ کی بنیاد پر قائم ہے جس پرذوق کا مصرعہ ہی صادق آتا ہے
ہیں رواں دو ہم سفر دونوں بہم دونوں جُدا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق