ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )’’14اگست جشن یا ماتم ‘‘

…………… (ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال )


14اگست 1947کو پاکستان آزاد ہوا اور اسی مناسبت سے ہر سال اس روز آزادی کے حوالے سے جشن منائے جاتے ہیں ۔ مختلف سرکاری تقریبات کے انعقاد سے لیکر عوامی سطح پر بھی جشن جلسے، جلوس، چراغاں اور جھنڈے جھنڈیاں سجائی جاتی ہیں۔ بادی النظر میں یہ عمل کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد بھی ہوئے ہیں یاکہ آزادی کے نام پر ہم ایک اور طوق غلامی کا شکار کئے گئے ہیں۔وطن عزیز جس کو بظاہر ایک آزاد ملک کہا جاتاہے ، دراصل ایک تجربہ گاہ ہے جو 68سال ہونے کو ہیں سیاسی طلع آزماؤں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔68سال کسی قوم کی تشکیل اور ترقی کے بام عروج کو پہنچنے میں ایک بہت بڑا عرصہ ہوتاہے ۔ قوموں کی آزادی کا لازمی نتیجہ اس قوم کی مرضی و منشاء کے مطابق اس ملک کا نظام حکومت تشکیل دینا ہوتاہے۔ وطن عزیز کے قیام کے وقت بتلایا یہ گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان بیک وقت ہندؤں اور انگریزوں سے نجات حاصل کرکے ایک الگ تھلگ اسلامی جمہوری مملکت قائم کرکے ہی اپنی آزادی اور اپنی ملی و قومی وجود بر قرار رکھ سکتے ہیں ۔اس کے لئے پاکستان کا مطلب کیا ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ بھی زبان زد عام کیا گیا اور پھر اس نعرہ کی بنیاد پر بر صغیر کے مسلمانوں سے قربانیاں مانگی گئیں۔ بالا آخر خاک اور خون کا دریا عبور کرکے قیام پاکستان کا خواب پورا کیا گیا مگر قیام پاکستان کے مقاصد جو اس وقت بیان کئے گئے ان میں کوئی ایک بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا بلکہ ہر وہ کام کیا گیا جو قیام پاکستان کے مقاصد کے خلاف تھا ۔ نہ تو ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا گیا بلکہ اسلامی نظام اور اسلامی قوتوں کو بدنام کیا گیا ۔ نہ ہی ملک میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے دیا گیا بلکہ جب بھی برائے نام جمہوریت کی داغ بیل ڈالی گئی تو نادیدہ قوتّوں نے اسکو سرعام رسوا کیا ۔ قیام پاکستان سے پہلے اس ملک پر انگریز مسلط تھے تو قیام پاکستان کے بعد انکی روحانی و معنوی اولاد نے ملک پر مستقل قبضہ جمایا ہوا ہے اور اسی کے پروردہ خاندانوں نے باری باری ملک کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں رکھی۔
68واں یوم آزادی منانے والی قوم جو آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ، سیاسی آزادیاں سلب ہے، غربت خط انتہاتک پہنچی ہے یہاں تک کہ عام آدمی غربت و مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشیاں کر رہا ہے۔ غریب دن بدن غریب اور امیر دن بدن امیر تر ہوتا جارہا ہے۔ شرکت اقتدا ر میں عوام کی شمولیت کو ایک مذاق بنا دیا گیاہے۔ دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے والے بہت سے ممالک ایسے ہیں کہ جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئے ، انہوں نے ترقی و سیاسی استحکام کی بلندیوں کو چھوا اور اقوام عالم میں ایک با وقار مقام حاصل کیا ۔ مگر ایک ہم ہے کہ صرف خالی خولی آزادی کے جشنوں اور چراغاؤں پر لیتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔ ہم کب آزاد ہیں کہ ہم تو ملک کا نظام اپنی مرضی و منشاء ، اپنی نظریات و عقائد اور اپنے قومی اقدار کے مطابق تشکیل دینے کی قوت سے محروم ہیں۔ اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہمیں روزمرّہ ضروریہ اشیاء مثلاََ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا ، دال ، چاول وغیرہ اشیاء کے ریٹس خود نہیں مقرر کر سکتے ، عالمی اداروں کی ٹیمیں بڑی دیدہ دلیری سے ہماری ان اشیاء ضروریہ کے ریٹس مقرر کرتی ہے۔
آزادی کے نام پر قوم کو فحاشی ، عریانی، اخلاقی بے راہ روی او ر حیا سوزی کے ایسے ایسے کلنک لگائے گئے کہ انسانیت کانپ اٹھی، دو قومی نظریے کے بانیوں نے اسکو زندہ دفن کیا۔ قومی لباس شلوار قمیض اور شیر وانی کو طاق نسیان میں رکھ دیا ۔ قومی زبان اردو کو سوتیلی ماں سے بھی بد تر سلوک کا شکار کیا گیا۔ اپنی ثقافت، اپنی کلچر ، مذہب اور اپنی روایات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور غیروں کی زبان ، اور غیروں کی کلچر پر فخر کیا گیا اور اس کو اپنا یا گیا۔
آزادی کے ثمرات لازمی طور پر عوام کی زندگیوں میں پڑتے ہیں جن سے پاکستانی عوام ہمیشہ سے محروم ہیں۔ آزادی کے نام پر پاکستانی عوام کو بہلایا گیاہے، بہکایا گیا ہے۔ لیکن حقیقی آزادی کا خواب تا حال شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ۔ غلامی سے نجات کا فریضہ ابھی باقی ہے ۔68سالوں سے ہم پر مسلط غلامی انگریز کی غلامی سے زیادہ بھیانک اور تباہ کن ہے ، آج ہم سے ہمارا ملک ، ہمارا مذہب اور ہماری اقدار و روایات چھینی جارہی ہیں۔ انکی حفاظت کیلئے ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ جانفشانی سے کام کرنے اور ایک مسلسل تحریک کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
وطن عزیز کی آزادی کا جشن منانے والے در اصل وطن کے خیر خواہ نہیں بلکہ عوام کو اندھیرے میں رکھنے والے ہیں۔ وطن عزیز کی سلامتی ، تحفّظ اور خود مختاری اسی میں ہے کہ ملک پر مسلط ان ٹولوں سے نجات حاصل کی جائے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہی آزادی کا جشن ہے۔ ورنہ جشن نہیں ہمیں آزادی کا مرثیہ اور آزادی کا ماتم منانا چاہیے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق