اقبال حیات آف برغزی

شیطان کا رقص

………تحریر : اقبال حیاتؔ اف بر غذی ……….



ایک گاؤں میں دو فریق باہم گتھم گتھا تھے ۔ کوئی پتھراٹھایا تھا ۔ بعض کے ہاتھ ایک دوسروں کے گریبان پر تھے ۔ کسی کے چہرے پر خراشیں آئی تھیں ۔ اور کسی کا منہ پھو لا تھا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی بوچھاڑ تھی ۔ اور غلیظ الفاظ کے گولے برسائے جارہے تھے ۔ یوں جہالت اور حماقت کادنگل برپا تھا ۔ اور شیطان رقصان تھا۔ اس موقع پر ایک دوسرے کے خلاف ہونے والی ہر زہ سرائیاں حقیقت پر مبنی ہونے کی صورت میں دونوں معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتے ۔ اور حقیقت کے بر عکس غصے کا شاخسانہ ہونے کی صورت میں دونوں فریق قابل تعزیر جرم کا ارتکاب کر رہے تھے ۔ جو از روئے شرع تہمت کی سزا کے حقدار ٹھیرتے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ غصے کی حالت میں گالی گلوج منافق کی علامت کے زمرے میں شامل کر تا ہے ۔ بہر حال چیخ و پکار دھمکیوں اور ایک دوسرے سے بدلہ لینے کے عزم کے ساتھ دوسرے لوگوں کی مداخلت سے یہ معرکہ اختتام کو پہنچا ایسے مواقع پر بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ جو اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرنے کی قرآنی ہدایت کے برعکس فریقین کو ہوا دے کر جلتی میں تیل ڈالنے کا کردار ادا کر کے خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ بہرحال اس تنازعے کے محرکات کے بارے میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ بچوں کی لڑائی میں بڑوں کے کودنے کا منظر تھا۔ جو عقل و خرو سے عاری حماقت اور کم ظرفی کی علامت ہے ۔اس قسم کے واقعات جانی نقصانات پر منتج ہونے کے حالات سے دوچار کرنے کے بعد لاشوں کو دفنانے کے لئے جاتے وقت باہمی مخاصمت کے سبب بننے والے بچوں کو پھر آپس میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ یوں انکی کسی بات کا نوٹس لینے میں شرافت اور اخلاق کے زمرے سے اخراج کا رنگ نظر آتا ہے ۔ کیونکہ بچے معصوم ہوتے ہیں ۔ ان کے اندر دنیائی امور سے دلچسپی کا فقدان ہوتا ہے ۔ ان کے بعض کاموں کوسرکار دو عالم ﷺ فطرت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں ۔ دن بھر کھیلتے ہوئے بڑے طمطراق سے گھر بناتے ہیں اور اس سلسلے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر تے ہیں ۔ شام ڈھلے گھر لوٹتے ہوئے ان تعمیرات کو مسمار کر کے زندگی کی بے وقعتی کا عندیہ دیتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے جھگڑنے کے تھوڑی دیر بعد ہی دل سے ایک دوسرے کے خلاف کدورت نکال کر باہم شیر و شکر ہو کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ بعض و عناد انسانیت کے خلاف عمل ہے ۔ اگر ایک بچے کے ہاتھ میں کوئی کھانے کی چیز آجاتی ہے ۔ تو وہ اسے اکیلا کھانے کی بجائے ہمجولیوں میں تقسیم کر کے مل جل کرزندگی گزارنے کے اسلوب کا رنگ پیش کر تے ہیں ۔ اور بچہ اپنی مطلب براری کے لئے رونے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر تا ہے ۔ اسی طرح اگر ایک بندہ بھی اپنے خالق کے سامنے گڑگڑا کراستدعا کرے گا تو قبولیت کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔
ایسے نازک اور دنیا کی اندیشوں سے پاک مخلوق خدا کو وجہ نزاع بنا کر باہمی دشمنی کے رنگ میں بدلنے والوں کو انسانیت کی فہرست میں شامل کرنا بھی حماقت سے کم معلوم نہیں ہوتا اور ایسے عقل و خرد سے عاری افراد کا علاج دنیا میں شاید کسی طبیب کے پاس مل جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق