عطاءحسین اطہر

اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے

باادب
تحریر: عطاء حسین اطہر


آج سوشل میڈیا خاص کر فیس بک میں وزیر اعظم کا دورہ اعلانات کے حوالے سے اتنا زیر بحث نہیں رہاجتنا جلسہ گاہ میں اردو کے حوالے سے کلاس لینے پر رہا۔وزیر اعظم پہلے ایک دفعہ آکے ریاضی کی کلاس لی تھی ۔آج اردو زبان کے حوالے سے چترالیوں سے پوچھ گچھ کی اور چترال کو پاکستان کے دیگر شہروں کے پڑھے لکھے شہروں میں شامل کرنےکا وعدہ کیا ۔ان پڑھے لکھے شہروں میں سے ان کے اپنے صوبے پنجاب کی صورت حال ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق کچھ اس طرح ہے ۔
پنجاب بھر میں 46 ہزار سے زائد سکول پرائمری اورمڈل سکول ہو نے کے باوجود شرح خواند گی 61 فیصد سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ رقم بجٹ میں مختص کرنے والا صوبہ بھی اپنے بجٹ میں خا طرخواہ اضافہ نہ کر سکا۔ گزشتہ ایک برس کے دوران سہولیات کی عدم فراہمی، بہتر اقدامات نہ ہونے کے باعث پاکستان میں مزید 30لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہو ئے ۔اس وقت صوبہ پنجاب میں سکول نہ جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ 60 فیصد ہے ، بلوچستان 53 فیصد ، خیبرپختونخوا 49 اور سندھ میں 47فیصد بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ اس کے مقابلے میں چترال کی تعلیمی حالت کہیں بہتر ہے۔ اس لیے گزارش یہ ہے کہ ہمیں پڑھے لکھے شہروں میں شامل نہ ہی کریں تو بہتر رہے گا۔اور جو اعلانات ہوئے ان میں سے بھی زیادہ تر وہ منصوبے تھے جو پہلے سے جاری ہیں۔ ان کا اعلان پولوگراؤنڈ نہ بھی کیا جاتا منصوبے مکمل تو ہونے ہیں ۔یونیورسٹی کا اعلان پچھلے دو سالوں سے مختلف لیڈروں کے زبانی سن سن کے کان پک چکے ہیں۔ بہر حال میرے اس پوسٹ کا مقصد دورہ چترال کے حوالے سے اپنے کچھ پسندیدہ پوسٹوں کو ایک جگہے مین جمع کرکے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔ خاص کر اردو کے حوالے سے کچھ پوسٹ بہت دلچسپ ہیں۔ آپ بھی پڑھیئے۔۔۔

وہ کہتے ہیں…
ماشا اللہ ! اب چترال والے اردو سمجھنا شروع کرچکے ہیں۔۔۔جو اردو سمجھتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔۔۔
میں نے کہا۔۔۔
اے دنیا کے عقلمند تریں انسان تول کر بولنا سیکھو اب تو۔۔۔
شمسیؔ

یونیورسٹی کا اعلان مختلف رہنما کوئی 20 دفعہ کرچکے ہیں۔ نواز شریف بھی انہی میں شامل ہوگئے۔ ہاں اگر وہ اس لیے کچھ پیسوں کا اعلان کرتے تو کوئی بات تھی۔ رہا لواری ٹنل اور گولین گول پروجیکٹ، یہ تو چل رہے ہیں۔ جب مکمل ہونگے تب ہونگے۔ اعلان سے کیا ہوتا ہے :
پروفیسر ممتازحسین

ِIt is very unfortunate that this PM is repeatedly insulting Chitralis in his speeches while standing in the land of Chitral. Being a PM of the country he should update his knowledge about the place where he is visiting. I am also surprised for the silence of the so called leadership of Chitral. Afsar Jam

“آپ میں سے کتنے لوگ اردو سمجھتے ہیں؟
چترالی پہلے اردو نہیں جانتے تھے اب شکر ہے کہ اردو جاننے والے بن گئے ہیں۔۔
یونیورسٹی کی تعمیر سے آپ بھی بڑے شہروں کے لوگوں کی طرح تعلیم یافتہ بن جائیں گے”
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے تاریخ دہرا کر ایک مرتبہ پھر چترالی عوام کا مذاق اڑایا۔۔ فدا محمد

“hostan usnaur kosten ki urdu goyan!”
our PM (who has been prominent and noble with his words is his every visit to Chitral) while addressing a community of +415,000 having literacy rate of +73%. someone should tell him that roads and holes don’t seize hearts, giving respect does. Huzaifa Bin Shah

چترال شرح خواندگی کے حساب سے پورے ملک میں دوسرے نمبرپر ہے۔ وزیراعظم عوام سے مزاح ضرورکریں لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ لوگوں کو دکھ پہنچے۔ میں نے خود لاہور کے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جنہیں اردو نہیں آتی۔ اب بھی کچھ لوگ مجھ پر غصہ کررہے ہیں تو بھائی کیا کروں ۔ یہ بھی نہ لکھوں۔ نثار احمد

سوچا تھا کہ اب شاید نون لیگ کے مقامی رہنماؤں نے حساس طبیعت رکھنے والے چترالیوں سے خطاب کرنے کا طریقہ سکھایا ہوگا لیکن اے بسا ارزو کہ خاک شد (طاہر شادان)

“آپ کو خوشخبری سناتا ہوں
ابھی 2016 ہے اس کے بعد 2017 ھوگا
مجھے خوشی ھے آپ 2016 میں #چترالیوں کو اردو آتی ہے.. آپ میں سے کس کس کو اردو آتی ہے ہاتھ کھڑا کرے ”
اس سے پہلے نواز شریف صاحب کی چترالیوں کے ساتھ بے عزتی کے قصے دوسروں سے سنے تھے لیکن آج اپنے کانوں سے خود بے عزتی کرتے سنا.
جاگو جاگو چترالیو اب اور بے عزتی برداشت نہیں ۔۔عماد بیگ

Nawaz Sharif knew neither the educated people nor those who know Urdu would attend his rally in Chitral! And according to statistics, the difference in literacy rates of Chitral and Lahore is only 6%, Chitral 72% whereas Lahore 78%! Thank you, NS Chitral doesn’t need your help to prosper! Such is the vision of the prime minister, yet people brag about his fake promises. Someone who belongs to the patwari, contractor, blacksmith and scrap dealer cadre, raising a question about people’s intellectual abilities shouldn’t be a shocking revelation! Gohar Ali

میاں صاحب کا چترال میں لکھنوی اردو میں خطاب۔۔ سجاد پُرتوی

Prime minister Sb. Even you don’t know that in Chitral 99% population is educated. Just you learn the history before said any arguments. It’s not your village of Punjab. Hussain Safdar

افسوس میاں صاحب چترال کیلیے بہت کچھ کرنے کے باوجود عوام کا دل نہ جیت سکے.اس پوسٹ پہ صرف وہی لوگ کمنٹ کر سکتے ہیں جن کو اردو آتی ہے. اقرار الدین خسرو

Mia sab: Yehan moujod kinty log urdu samjty hen?
Darbari: Sarkar urdu samjnay walay log ap k jalsay may kahan aty hen!
Zia Ibne Habib

اگر گلگت بلتستان کے علاقے گانچھے اور استور تیس اور چالیس هزار آبادی هونے کے باوجود ضلعے بن سکتے هیں تو چترال جس کی آبادی تقریبٱ پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ھے دو ضلعے کیوں نهیں بں سکتا_ هم وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف سے اپیل کرتے ھیں که چترال کو دو انتظامی یونٹ میں تقسیم کرنے کا اعلاں کریں_
نوید کوہکن

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق