
مرحوم منظور احمد ایڈووکیٹ کی پہلی برسی۔۔بشیر حسین آزاد
خدمتِ خلق، شرافت اور وفاداری کا ایک روشن باب
آسان نہیں مٹنا نام و نشانِ وفا
کچھ لوگ دلوں پر حکومت کر کے جایا کرتے ہیں
29 ستمبر 2025ء کو ہمارے نہایت مخلص، ہردلعزیز اور ہر دل میں جگہ بنانے والے دوست منظور احمد ایڈووکیٹ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آج ان کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوگئی ہے۔ ان کی جدائی کو ایک سال گزر گیا، مگر ان کی محبت، خلوص، خوش اخلاقی اور خدمتِ خلق کی یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
منظور احمد مرحوم نے
قانون کی تعلیم حاصل کرکے وکالت کے پیشے سے وابستگی اختیار کی، لیکن ان کے لیے وکالت محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا وسیلہ تھی۔ غریب، مظلوم اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنا ان کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔ وہ ذاتی مفاد کے بجائے لوگوں کی دعاؤں اور محبتوں کو اصل سرمایہ سمجھتے تھے۔
عوامی خدمت کے میدان میں بھی مرحوم کا کردار نمایاں رہا۔ اہلیانِ علاقہ نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں دو مرتبہ نائبرہُڈ چیئرمین منتخب کیا۔ وہ علاقے کے اجتماعی مسائل ہوں یا کسی فرد کا ذاتی کام، ہر معاملے کو اپنا فرض سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کا دروازہ ہر شخص کے لیے بلاامتیاز کھلا رہتا تھا۔
مرحوم منظور احمد کی ایک نمایاں خوبی باہمی مشاورت اور شوریٰ پر یقین تھا۔ کسی اہم معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اہلیانِ علاقہ کو اعتماد میں لیتے اور اجتماعی مشورے کو ترجیح دیتے۔ ان کا یہی انداز علاقے کے لوگوں میں اتحاد، اتفاق اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کا سبب بنتا تھا۔
وہ سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے بھی شاندار کھلاڑی تھے۔ کرکٹ اور فٹ بال میں اپنے علاقے زرگراندہ اور مختلف مقامی کلبوں کی نمائندگی کی۔ کھیل کے میدان میں بھی ان کا جذبہ، صلاحیت اور ٹیم کے ساتھ وابستگی نمایاں تھی۔
منظور احمد مرحوم کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کی خوش اخلاقی، ہنس مکھ طبیعت اور شفیق مزاجی تھی۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے خلوص اور محبت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ ان کی مسکراہٹ، نرم گفتگو اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی عادت آج بھی ان سے وابستہ لوگوں کی یادوں کا حصہ ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آج ان کی پہلی برسی پر اہلِ علاقہ اور ان کے دوست انہیں محبت، احترام اور عقیدت سے یاد کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن بعض شخصیات وقت گزرنے کے ساتھ بھلائی نہیں جاتیں بلکہ ان کی خدمات اور یادیں مزید نمایاں ہوتی جاتی ہیں۔ منظور احمد ایڈووکیٹ بھی ایسی ہی شخصیات میں سے تھے، جنہوں نے اپنے کردار، خلوص اور خدمت سے لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ مرحوم کی تمام انسانی، سماجی اور دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
