مضامین

مستوج کالج اور طالبات کا احتجاج: چند معروضات۔ تلخ و شیریں ۔ نثار احمد   

  مستوج ہفتہ فیس بک کے چترال سرکل میں زیرِ بحث رہا۔ مستوج کالج اور جی ایچ ایس ایس کی طالبات کے احتجاج کو لے کر خوب ہلاگلا ہوا، باتیں ہوئیں، تو تو میں میں ہوا اور اس تکرار کی گونج سے ہنوز بھی فضا خالی نہیں ہے۔ اس پوسٹا پوسٹی اور کمنٹا کمنٹی میں بالخصوص طالبات کے ایک معقول مطالبے کا مذاق بھی اڑایا گیا اور اس مطالبے کے بطن سے زبردستی ایک سازش بھی برآمد کرلی گئی۔ یہی نہیں کچھ نوجوانوں نے اپنے ذوق کے مطابق جگتیں بھی لگائیں۔

امید تھی کہ مستوج کے معتبرات، سیاسی وابستگیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، جب مل بیٹھ کر ایک متفقہ موقف سامنے لائیں گے تو نہ صرف شور کی گرد بیٹھ جائے گی بلکہ مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہو جائے گا۔ معتبرات کی رائے تاحال سامنے نہیں آسکی، البتہ ہائر سیکنڈری اسکول مستوج کی پی ٹی سی کونسل کے چیئرمین نے ایک تفصیلی ویڈیو جاری کی۔

انہوں نے بھی حقائق کے نام پر کچھ ادھوری باتیں کہنے اور کچھ نامکمل کہانیاں سنانے پر اکتفا کیا۔ گو کہ وہ اس بات پر مصر نظر آئے کہ یہ کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہے، لیکن تحت اللفظ بہت سی سیاسی باتیں کہہ گئے۔

فرمایا کہ طالبات کا کوئی ایشو نہیں، ان کے لیے اسکول کا دروازہ کھلا ہے۔ بات ہمارے پلے نہیں پڑی۔ جب دروازہ کھلا ہے تو پھر طالبات کو اپنے اسکول میں داخلے سے کون روک رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق طالبات اپنے اسکول کے گیٹ کے باہر احتجاج کر رہی ہیں۔

چیئرمین صاحب نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر کالج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ واللہ اعلم، ہمیں تو کالج کی مخالفت نظر نہیں آئی۔ مستوج سے نہیں، کسی اور علاقے سے بھی ایسی آواز سماعت سے نہیں ٹکرائی کہ کالج نہیں ہونا چاہیے۔

چیئرمین کے مطابق نئے شروع ہونے والے کالج کی انرولمنٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ احتجاج کرنے والی طالبات اپنے اسکول ہی میں اپنی تعلیم جاری رکھیں گی۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اتنے دنوں سے اتنی ہنگامہ خیزی کیوں ہے؟ ڈی سی وغیرہ کے ساتھ ان کی ملاقاتیں کیوں اور کس لیے ہو رہی ہیں؟ طالبات جب اسکول میں پڑھنا چاہتی ہیں تو انہیں تنگ کیوں کیا جا رہا ہے؟

چئیرمین صاحب نے فرمایا کہ اس معاملے کو پرنسپل سے جوڑا جا رہا ہے۔ جب کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے تو پھر اس مسئلے کو پرنسپل سے جوڑ کر ان پر دباؤ کون ڈال رہا ہے؟

چیئرمین صاحب کی گفتگو کے بعد مسئلہ مزید مبہم اور غیر واضح ہوگیا ہے۔

مستوج کے معتبرات کو چاہیے کہ پارٹی وابستگیوں سے ہٹ کر اس ایشو پر والدین اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بیٹھیں اور اپنا واضح موقف سامنے لائیں، تاکہ جو بے چینی کی فضا قائم ہے، وہ ختم ہو اور معاملہ کسی منطقی انجام تک پہنچ سکے۔

چونکہ ہم کوئی بڑے رائٹر نہیں، چھوٹے درجے کے موسمی لکھاری ہیں، اس لیے فیس بک پر نظر آنے والی چھوٹی چھوٹی باتوں ہی کو بنیاد بنا کر اپنے معروضات پیش کریں گے، تاکہ مسئلے کے حوالے سے جو ابہام کی فضا ہے، وہ ختم ہو اور صورتِ حال کی درست تصویر ان حضرات کے سامنے آسکے جو واقعی صورتِ حال جاننا بھی چاہتے ہیں اور مسئلے کا حل بھی۔

پہلی بات: مستوج کالج کی تعمیر اور جی ایچ ایس ایس کی طالبات کے مطالبات دو الگ الگ ایشوز ہیں۔ ان دونوں مسائل کو ایک دوسرے میں پیوست کرکے، باہم گڈمڈ کرکے دیکھنے سے معاملہ مزید بگڑ چکا ہے۔

طالبات کے جو مطالبات ہیں، وہ کالج سے متعلق نہیں ہیں اور نہ ہی کالج کے وجود و بقا کا پورا انحصار ان چند طالبات کے داخلہ لینے یا نہ لینے پر ہے۔ ان کا یہ مطالبہ غیر معقول نہیں ہے کہ انہیں جی ایچ ایس مستوج ہی میں اپنی تعلیم، یعنی ایف اے، کرنے دی جائے۔ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ کرائے کی بلڈنگ پر قائم ہونے والے نوزائیدہ ادارہ ان کے لیے دور پڑ رہا ہے یا کسی اور وجہ سے وہ اپنی تعلیم ہائر سیکنڈری سکول میں پوری کرنا چاہ رہی ہیں تو ان کی اور ان کے والدین کی مرضی کی خواہش پر ہم کیوں اعتراض کر سکتے ہیں؟

ان کے اس مطالبے کے بطن سے ناقدین نے پتہ نہیں کہاں سے اور کیسے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ یہ طالبات کالج کو ناکام کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔ حالانکہ ان کے مطالبے میں کالج سے متعلق سرے سے کوئی بات ہی نہیں ہے۔

پھر مزید نشیب میں اتر کر یہ کہنا کہ ’’وہاں کیوں نہیں جا رہی ہیں؟ یہاں کیوں پڑھنا چاہتی ہیں؟‘‘، اور اس کے ساتھ “فلاں ” “یہ” وہ ، “چوں” “چنانچہ” ’’لڑکے، “سازش”، “استعمال‘‘ وغیرہ جیسی چھوٹی چھوٹی سطحی باتیں جوڑ دینا، نہ صرف کمزور استدلال ہے بلکہ شاید محروم ذہنوں کی اختراعات بھی ہیں۔

ان سطحی باتوں کی وجہ سے طالبات کے والدین کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر علاقے میں طالبات کے لیے کوئی اسٹبلشڈ تعلیمی ادارہ، مثلاً ہائر سیکنڈری اسکول فار گرلز یا انٹر کالج برائے طالبات، موجود ہوتا تو پھر یہ کہنا بنتا تھا کہ چونکہ طالبات کے لیے الگ اسٹبلشڈ ادارہ موجود ہے، اس لیے انہیں اپنے ادارے میں پڑھنا چاہیے۔ وہاں ہم بھی انہیں اسی ادارے میں جانے کا مشورہ دیتے۔ اااب بھی اس کالج کے کامیاب ہونے کی صورت میں مستوج اور قرب و جوار کی طالبات خود یہاں جائیں گی کسی کو انہیں مشورہ دینا نہیں پڑے گا ۔

دوسری بات: مستوج میں کالج کا آغاز ثریا کائی کی طرف سے اہلِ مستوج کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دعا ہے کہ واقعی یہ کالج بن بھی جائے اور اپنے مقصد کے مطابق علاقے کی طالبات کے لیے تعلیم کا مضبوط مرکز ثابت ہو۔ شاید کوئی اس خدمت کو مائنس بھی نہیں کر رہا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کالج ایک کرائے کی عمارت میں شروع ہورہا ہے۔ یہاں پڑھانے کے لیے اساتذہ بھی مستوج اور آس پاس کے دیہات سے ہی لیے جائیں گے۔ پرنسپل کے علاوہ ایک آدھ مستقل لیکچرر اگر ثریا کائی کی جدوجہد سے یہاں آئے تو آئے، ورنہ فی الحال اسے چلانے کی ذمہ داری عارضی اسٹاف ہی کی مرہونِ منت ہوگی۔

مجھے اس کا اسٹیٹس معلوم نہیں، بظاہر یہ ڈگری کالج ہی ہوگا، کیونکہ جب سے ہائر سیکنڈری اسکول متعارف ہوئے ہیں، تب سے انٹر کالجز کی ضرورت تقریباً نہیں رہی۔ اور ڈگری کالج کے لیے مطلوب ضروریات اور سہولیات کیا ہوتی ہیں، یہ آپ سے شاید مخفی نہیں۔

تیسری بات: کالج ایک بڑا پراجیکٹ ہوتا ہے۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ فنڈ سے بھی پہلے کالج کی زمین کی موزونیت دیکھی جاتی ہے، متعلقہ اتھارٹیز سے منظوری لی جاتی ہے، پی سی ون بنایا جاتا ہے، بجٹ میں اس کے لیے رقم مختص کروائی جاتی ہے، تعمیرات کا آغاز ہوتا ہے، بلڈنگ تیار ہوتی ہے، پوسٹیں منظور کروائی جاتی ہیں، فرنیچر سمیت دیگر متعلقہ سازوسامان کی دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے اور آخر میں داخلے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

پھر کسی کو پکڑ کر زبردستی لانا نہیں پڑتا، اسٹوڈنٹس خود بخود کشاں کشاں چلے آتے ہیں اور یوں درس گاہیں آباد ہوتی ہیں۔

گو کہ صوبے، بالخصوص چترال کے حالات کو دیکھتے ہوئے مستوج میں باقاعدہ کالج کی تعمیر ایک مشکل ٹاسک لگ رہی ہے، تاہم علاقے کی بیٹی ثریا کائی کی کمٹمنٹ، سیاسی اثر و رسوخ اور فرزندِ چترال محترم عبد الاکرم سمیت دیگر چترالی افسران کی سیکریٹریٹ میں موجودگی سے یہ امید یقین میں بدل جاتی ہے کہ ان کی کوششوں سے شاید یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے گا۔

شاید میرے بعض قارئین کو میری یہ مایوسی چِڑا رہی ہو ۔ اس مایوسی کی وجہ گراؤنڈ پر موجود صورتِ حال ہے۔ عرصہ ہوا کہ چترال میں ہائر سیکنڈری اسکول نہیں بن رہے۔ سابق ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کے دور میں جن دو اسکولوں کی تعمیر شروع ہوئی تھی، ہنوز مکمل نہیں ہوسکی۔ ایون میں فوزیہ کائی کی کوششوں سے کالج کے لیے پرچیز کی گئی زمین کو بھی بارہ، تیرہ سال گزر گئے، مگر معاملہ آگے بڑھتا نظر نہیں آتا۔ بونی میں بوائز کالج کو اسٹاف کی قلت کا سامنا ہے پورے کالج میں تقریباً 25 آسامیاں ہیں ٹیچنگ کی۔ ایک دو سبجیکٹ کے علاوہ کسی بھی سبجیکٹ میں بی ایس پروگرام شروع نہیں کر پا رہے ۔ جن ایک صاحب نے اپنی دلچسپی سے اپنے سبجیکٹ میں بی ایس پروگرام شروع کیا ہے اللہ کے فضل سے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں وہ اکلوتے لیکچرار ہیں۔

چوتھی اور آخری بات: کم از کم یونیورسٹیوں سے گریجویٹ ہونے والے نوجوانوں کو ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ کمنٹس پاس کرنے چاہییں۔ ظاہر ہے، ہر چیز پر سیاست نہیں کی جاتی اور نہ ہی ہر معاملے کو منفیت کی نذر کیا جانا چاہیے۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اصل معاملہ و ماجرا سمجھ کر، میرٹ کی بنیاد پر رائے قائم کرنی چاہیے۔ جذباتیت اور سطحیت سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی مسئلے کو سمجھے بغیر اس پر رائی زنی کرنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔ الجھن نیگیٹو رویہ ہے جبکہ سلجھن پازیٹیو جی مثبت رویہ ۔ منفی رویہ نقصان کا باعث بنتا ہے جب کہ مثبت فائدے کا ۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔