صوبیہ کامران

۔۔رُموز قلم۔۔عید کی مہندی عید کی مہندی

……………۔۔صوبیہ کامران۔بکرآباد چترال…


بننا سنورنا ، خوشنما خوبصورت لگنے کی کوشش کرنا انسانی فطرت میں شامل ہیں ۔ خواتین میں ہاتھ پاؤں ، آنکھ، ہونٹ ، رخسار اور بالوں کو رنگنے کا رواج ہر دور میں رہا ہے۔ ابتداء میں انسان چونکہ فطرت سے زیادہ قریب تھا۔ اسلئے فطرتی اور قدرتی چیزوں پر اس کا انحصار تھا۔ پھول درختوں کا چھال اور معدنیات سے جسم پر گل بوٹے بنائے جاتے تھے اور کپڑوں کو رنگا جاتا تھا۔ آج بھی قبائلی لڑکیاں اخروٹ کے سبز چھلکے ، درخت کی چھال اور ساگوں کے پتوں سے اپنے ہونٹوں کو لال کرتی ہیں۔ جسم کو خوشبودار کرنے کیلئے عود، عنبر، مشک، صندل اور زعفران نیز بہت سے خوشبودار پھول استعمال ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو سرمہ کاجل سے سنوارا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں دقیانوسی اور ادنیٰ سمجھی جانی لگی۔ اور ان کی جگہ مصنوعی کیمیائی چیزوں نے لے لی۔
نت نئے انداز کے سامان آرائش خواتین کیلئے ایجاد ہوگئے ۔ سرخی ، پاؤڈر ، بیس ، فاؤنڈیشن، کلینز، مارکر اور رنگی
برنگی لپ اسٹکس آگئے ۔ ان کی فراہمی اور استعمال دونوں آسان تھے ۔ بظاہر ان سے جادؤئی حسن بھی سر چڑھ کر بولتا تھا ۔ بس پھر کچھ یوں ہوا کہ بننے سنورنے کا شوق اور سنگھار دان تو وہی رہا مگر اس کے اندر کی چیزیں بدل گئی۔ آہستہ آہستہ یہ احساس بیدار ہوا کہ یہ کیمیائی چیزیں جلد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسے کھر درا اور بے رونق بنا رہی ہیں، ان کے استعمال سے جلدی امراض حساسیت ، حتیٰ کے سرطان تک پیدا ہورہے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ان چیزوں کے مؤجد خود فکر مند نظر آرہے ہیں۔ اور انسان کو فطرت کی ٹھنڈی سر سبز چھاؤں میں واپس آنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اس پودے کو بال ناخن اور جلد کو رنگنے کیلئے اور انہیں دیدہ زیب ، خوشبودار اور پرکشش بنانے کیلئے استعما ل کی جاتی ہیں ۔ مہندی میں دوائی اور تجارتی دونوں طرح کے فوائد قدرت نے بڑی فیاضی سے جمع کر دیا ہیں۔ مہندی کی مقبولیت کسی ایک ملک و خطہ زمین تک محدود نہیں رہی بلکہ عرب ، امریکہ، چین، بر صغیر و پاک وہند اور بعد میں یورپی ممالک تک پھیلتی چلی گئی۔ مہندی لگانے کا رواج کس قدر قدیم ہیں اس بات کا اندازہ ان حنوط شدہ لاشوں کو دیکھ کر ہوتا ہے جو کہ اہرام مصر میں رکھی ہوئی ہیں ان کے بالوں، ناخنوں، ہتھیلیوں، انگلیوں پر مہندی کا رنگ موجود ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرعون کے زمانہ تک لوگ اپنی خواتین کا مہندی لگانا اور بننا سنورنا پسند کرتے تھے ۔
مہندی کا اصلی وطن شمالی افریقہ اورجنوبی مشرقی ایشیاء بتلائے جاتے ہیں ، یہ بھی شواہد ملتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں جب قافلے سامان تجارت لیکے ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے تھے تو ان کے سامان میں مہندی بھی ہواکرتی تھی۔ آج بھی مہندی کی تجارت و اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہیں۔ پاکستان میں میہڑ ضلع دادو کی مہندی بہت اچھی سمجھی جاتی ہے اور حیدر آباد میں اس کی منڈی ہے ۔
ڈاکٹر امیرسن (Emerason)کی رائے میں ان کی خوشبو سے نیند بہت اچھی آتی ہیں اور اپنی مریضوں کو تکیہ میں مہندی کے پھول بھر کر سونے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ مہندی کے پھول سونگھنے سے درد سر رفع ہو جاتا ہے۔ فالج اور لقوہ کے مریضوں کو بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔ دردوں کو دور کرنے کی صفت بھی موجود ہیں ۔اعصابی دردوں اور پٹھوں کے کچھاؤ پر بھی اسے لگاتے ہیں ،مسلمانوں کو میت کو غسل دینے کے بعد عطر یا حنا لگایا جاتاہیں تاکہ کیڑے مکوڑے قریب نہ آئے ۔ پرانی کتابوں کو دیمک سے بچانے کیلئے مہندی کے پھول و پتے کتابوں میں رکھے جاتے ہیں ۔ مہندی کی چھال بھی دواؤں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ مہندی نے شاعروں اور افسانہ نویسیوں کی بھی بڑی مدد کی ہیں انہیں اس میں حسن ، رنگ، زیبائش کے ساتھ ساتھ افسردگی کا پہلو بھی ملا ہیں جہاں وسعت حنائی کی رنگینی اور خوشنمائی انہیں متا ثر کرتی ہیں وہی یہ بھی کہہ دیا جاتا ہیں کہ ’’ رنگ لاتی ہیں حنا پتھر، پرپس جانے کے بعد‘‘ ۔ویسے مہندی کے بہت سے نام ہیں اسے اردو ، ہندو، گجراتی ، پنجابی، و بنگلہ میں مہندی ہی کہا جاتا ہیں ۔ عربی اور فارسی میں حنا کے نام سے معروف ہیں ۔ انگریزی میں بھی (hina)سمپھائر(samphire)کہا جاتا ہیں۔ فرانسیسی میں (henna)اور کشمیری زبان میں موہز(Mohuz)کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہیں۔ سنسکرت میں میندھی اور رکت گیر بھا ( لال رنگ رکھنے والی) کے ناموں سے پکارا جاتا ہیں۔
بناؤ سنگھار کی قدرتی چیزوں میں جو چیز زمانہ قبل از تاریخ سے استعمال ہوتی چلی آرہی ہیں اور آج بھی اتنی ہی پسند کی جاتی ہیں وہ ’’حنا یا مہندی‘‘ ہیں۔ مہندی لگانا سنت بنی کریمﷺ ہے۔ آپﷺ نہ صرف مہندی لگانا پسند فرماتے تھے بلکہ آپﷺ نے اس کی استعمال کی ہدایت بھی فرمائی ہیں، اور مہندی کو ’’ سید الریحان‘‘ یعنی کے پودوں کا سردار کے لقب سے نوازا ہیں۔ جس کے بعد اس پسندیدہ پودے کی توصیف میں مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔۔۔!!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق