حافظ نصیر اللہ مننصور

وزیر اعظم کا دورہ چترال اور افتخار الدین کی شخصیت و سیاست …… (تیسری قسط)….

…… حافظ نصیراللہ منصور
ہمارے محترم دوست محکم الدین آیونی صاحب نے چترال ٹاؤن ہال میں منعقد ہونے والے ایک کانفرنس (گندھارا لینگویج کانفرنس)کے بارے میں ہمیں اگاہ کرتے ہوئے شرکت کرنے کی دعوت دی۔ محکم الدین صاحب چترال کے ان ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کھوار زبان کی ترقی کے لئے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔کھوار کلچر کو انہوں نے پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ اس حوالے سے کئی کانفرنسیں منعقد کرانے میں بلند پایہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کھوار کی ترقی میں آپ کی خدمات خراج تحسین کے قابل ہیں ۔اُس وقت میں اور میرے چنددوست ایک مختصر دورے پر چترال میں تھے ۔ کھوار زبان کی ترقی کے حوالے سے یہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ ملک کے دیگر حصوں سے بڑے بڑے معروف دانشور مدعو کئے گئے تھے ۔آیونی صاحب کی دعوت پر ہم بھی مقررہ وقت سے تاخیر سے ہال پہنچے۔ چترال کے ادیبوں اور اہل قلم کی ایک کثیر تعداد دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا ۔ بڑے احترام او رتعظیم کے ساتھ اسٹیج پر بٹھایا گیا ۔ناظرین و سامعین سے ہال بھر ا ہوا تھا ۔ چترال کے تعلیم یافتہ خواتین کی بھی ایک جم عفیر ہال میں موجود تھیں ۔بیک نظر میں نے محسوس کیا کہ انتہائی ادیبانہ،محققانہ کانفرنس جاری ہے۔ سامعین و ناظرین سب چترال کے اعلی تعلیم یافتہ حضرات ہیں جو آج محکم الدین اور شہزادہ تنویر الملک صاحب کی انتھک کوششوں اور محنت کے نتیجے میں اکھٹے ہوئے ہیں ۔ممتاز کالم نگار اور ادب کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہر دلعزیز شخصیت جاوید حیات اسٹیچ کے فرائض انجام دیتے ہوئے موتی بکھیر رہے تھے ۔اسٹیچ پر گندھارا لینگویج کے آفسران کے علاوہ محترم کرنل (ر) افتخار الملک کی خوبصورت ہستی بھی تشریف فرما تھی ۔پروگرام کے چیف آرگینائزر جناب شہزادہ تنویر الملک بھی اسٹیج پر براجمان تھے ۔شاید عہدے کے پیش نظر مہمان خصوصی کی سیٹ پر ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین بھی جلوہ گر تھے ۔میرے ذہن میں ایک خلجان پیدا ہوا ،تردد کی کیفیت پیدا ہوئی کہ مہمان خصوصی کے خطاب کے بعد گندھارا لینگویج کے اعلی تعلیم یافتہ افسران کو یہ کہنا نہ پڑ جائے کہ ’’چترالیو : تمہیں اردو آتی ہے ‘‘ مولانگاہ نگاہ اورمحمد عرفان عرفان کا مقالہ سننے کے بعد میری دل کی دنیا بدل گئی یہ سب خلجان اورتردد دور ہوگئے ۔ تحقیقی مقالے سننے کے بعد میں خوشی سے جھوم اٹھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ کوئی روشن خیال چہرہ بھی آج کے بعد نواز شریف صاحب کے جملے دہرانے کی جسارت نہیں کریگا۔پہلے سیشن کے اختتام پر محترم جاوید حیات کی دعوت خطاب کو لبیک کہتے ہوئے ایم این اے چترال اسٹیچ پر تشریف فرما ہوئے ۔موقع محل ،ادب کی مجلس اور دیگر ہزاروں قواعدو قیود کو پس پشت ڈال کر اردو ،انگریزی ،پشتو اور کھوار زبان کے حسین امتزاج کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا ۔ سیاست کے روایتی کلمات دہرانے شروع کئے ۔ادب کی مجلس کے سٹارز لینگوئچ کی باتیں کرتے ہیں وہاں الیکٹریسٹی،سائیبر آپٹیکس ،غلہ گودام ،انفراس ٹیکچر اور پلوں کی اردو ،پشتو ،انگریزی اور کھوار زبان میں باتیں شروع ہونے لگیں ۔کچھ ایسی باتیں ہوئی جن کا حقیقت کے ساتھ کھلا تضاد تھا۔اس سے ایک دن قبل مجھے ریشن کے عوام کی طرف بجلی گھر کی بحالی کے لئے بھوک ہڑتال کی خبر موصول ہوئی تھی۔ تو میں میڈیا جرنلسٹ کے طور پر ریشن پہنچا ،عوام سڑکوں پر نکلی ہوئی تھی بچے ،بوڑھے ،جوان ،حتی کہ خواتین بھی سراپا احتجاج تھے ۔ انہوں نے میرا والہانہ استقبال کیا ۔زندباد کے نعروں کی گونچ میں وہ تما م مسائل میڈیا کے سپرد کر دئے۔ان کاکہنا تھا ’’کہ حکومت صرف پندرہ لاکھ روپے دے باقی پیسے ہم ملائیں گے اور رضا کارانہ طور پر بجلی کو بحال کرینگے‘‘ یہ مسئلہ صرف ریشن کے لوگوں کا نہیں پورے سب ڈویژن کا تھا ۔میں نے تما م باتیں ریکارڈ کرکے چترال واپس آکر ایم این اے کوفون کر کے بتا یا تو کہنے لگے اس وقت میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہے ۔ضلع اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔ لوگ اجالے کو ترس رہے ہیں جبکہ ایم این اے یہاں سائیبر آپٹکس کی باتیں کررہے ہیں ۔کانفرنس میں میری طرح شاید دوسرے لوگوں کا بھی سر چکرا یا ہوگا اور یہ احساس کانفرنس کے انتظامیہ کو بھی ہو چکا ہوگا ۔بہرحال اردو،پشتو ،انگریزی اور کھوار کی حسین امتزاج کی تقریر کے بعد کانفرنس کے پہلے سیشن کا اختتام ہوا ،میر اغصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ ریفریشمنٹ کی ٹیبل پر میں نے شہزادہ صاحب سے ملتمس ہو اکہ کل آپ کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں تھا آج آپ اربوں روپے کی خوشخبری سنائی ہے۔ آپ آج ہمیں وقت دے دیجئے ؟ہم آپ کا انٹر یو کریں گے اور یہ سب باتیں آپ دلیل کے ساتھ عوام کے سامنے رکھےئے آپ کی سیاست بھی چمکے گی ہمیں بھی اعتماد ہوگا ہمارے ابہام اور تشوش میں کمی آئے گی تب فیصلہ عوام کریگی ۔شہزادہ صاحب فورا جان گئے کہ حالات کچھ اور رخ اختیار کر گئے ہیں ۔اب بچنا ممکن نہیں ہے ۔حالت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہنے لگے ’’بڑی مشکل سے وقت نکال کر یہاں آیا ہوں ،آج پنجاب سے کچھ ٹھیکیدار آرہے ہیں ان کے ساتھ میٹنگ ہے کل مجھے اسلام آباد جانا ہے پھر کسی دن بیٹھیں گے ‘‘ میری اطلاع کے مطابق نہ ٹھیکیدار آئے ،نہ اسلام آباد گئے،ہمیں موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق اسمبلی کی اجلاسوں میں اکثر غیر حاضر رہتے ہیں، اگلے دن مستوج کی طرف چل دئیے۔میں اپنے دوست محکم الدین آیونی او رشہزادہ تنویر الملک کی اجازت سے دوسرے سیشن کا انتظار نہیں کیا اور میں اپنے سفر پہ روانہ ہو گیا۔ میرے معزّز قائیں ! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں کی سیاست جھوٹ کاپلندہ ہوتا ہے ۔اہلیت و قابلیت کی بجائے مالیت کے بل بوتے پر قوم کی نمائندگی ہوتی رہی ہے۔ ان کا تعلق نت نئے کاروبار اور ٹھیکیداروں سے ہوتا ہے اپنے کاروبار کو پروموٹ کرتے ہیں اور تحفظ دیتے ہیں جھوٹ بولتے ہوئے جھوٹ کی ممانعت کا احساس نہیں کرتے ۔یہ حقیقت ہے کہ قوم کا نمائندہ قوم کی آواز ہوتی ہے ۔بایں وجہ عین ممکن ہے کہ نواز شریف صاحب نے بھی شہزادے کی اردو بولنے کو قوم کی آواز قرار دیاہے ۔(جاری ہے)
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق