محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..’’خیر البشر مرحوم‘‘

……محمد جاوید حیات …..


میں خیرالبشر کی تربت پہ گیا۔۔اور قریب گیا۔کیوں کہ اس کا چہرہ خیالوں میں میرے سامنے تھا ۔۔اور بے وفا دنیا کی چکا چوند بھی ۔۔اس کی بائیک،اس کی بے اختیاطی سے بائیک چلانا،دنیا کی زندگی کو اہمیت نہ دینا ،ہنسی خوشی گذارنا ،اثرو رسوخ پہ نہ اٹھلانا ،دوست احباب کی عزت کرنا ،دل کھلا رکھنا ،اپنوں بے گانوں میں فرق نہ کرنا ،سب سکرین پہ آگیا ۔۔بے اختیار کہا خیرالبشر ۔۔’’آج پھر تم پہ پیار آیا ہے۔۔بے حد بے شمار آیا ہے۔۔‘‘خیر البشر ایک بانکا نوجواں تھا ۔۔اسودہ خاندان کا چشم و چراغ تھا ۔اس کو زندگی کی تلخیوں کا اندازہ نہ تھا ۔مگر زندگی کی تلخیاں محسوس کرتا ۔اس وجہ سے اس کے دوست احباب اسکی محبت سے فیض یاب ہوتے ۔۔ایسا لگتا کہ اس نے بہت پہلے زندگی کی حقیقت سمجھ لی تھی ۔۔اس کو پتہ تھا کہ دنیا دو دن کی ہے ۔۔اس کی کوئی گیرنٹی نہیں اس کاکوئی اعتبار نہیں ۔۔موت و حیات میں کوئی فاصلہ نہیں ۔پھول کو مرجھانے میں ،چاند کو ڈوبنے میں ،سورج کو عروب ہونے میں ،رات کی تاریکیاں چھٹنے میں ،دن کی روشنی کم ہونے میں ،بہار کے آنے میں ،خزان کے جانے میں کوئی وقت نہیں لگتا،بس پل کی بات ہے۔۔اور پل پل کا قصہ ۔۔اگر یہ گیرنٹی لازمی ہوتی تو انسان گھٹ گھٹ کے مر جاتا ۔۔خیر البشر کے بھی خواب تھے ۔عمر کے ڈھلنے کا خواب ،اپنے سامنے بچوں کی جوانی کا خواب ،ان کی تعلیم و تربیت کے خواب ،ان کی کامیابیاں ،ان کی مسکراہٹیں ،اور ان کے اپنے خواب،زندگی کی ساتھی کی معیت،مشترکہ خواب بننا،ان کو حقیقت بنانے کی کوشش کرنا ،وہ خیالات ،دلائل ،ہلکی تنقید ،پھر تائید و تاکید ،پھر ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوب جانا ،اپنے حصے کا پیار بچوں کو دینا ،ان پھولون کی خوشبو میں مست مست ہونا ۔۔خیرالبشر کے یقیناًخواب تھے ۔ادھوری زندگی کے لمبے لمبے خواب۔۔۔خیرالبشر یہ خوابوں بھری زندگی ادھوری چھوڑ گیا ۔بس چند لمحوں میں وہاں پہنچ گیا جہاں پہنچنا ہر انسان کے لئے لازم ہے۔پھول پیچھے رہ گئے۔ساری عمر ساتھ نبھانے والی ساتھی اکیلی رہ گئی۔اب اس کی تنہائی میں صرف یادیں رہ گئیں ۔صرف وہ لمحے جو بیتے،جو گذرے اور ساعقے کی رفتار سے گذرے۔وہ یادوں کی خوبصورت پہلیاں حسرت بھری داستان بن گئیں ۔اُن کو دہرانا رہ گیا۔اور سننے والے کی تلاش رہ گئی۔حسرت ویاس کا وہ لا متناہی سلسلہ رہ گیا جو زندگی سے خوشیاں اچک لیتا ہے۔انسان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر جدائی کے کاٹنے والی لمحات برداشت کرنا مشکل ہے۔اس سمے ہمت ہی وہ ہتھیار ہے جو انسان کی ڈھارس بندھاتا ہے۔اور تعلیم یافتہ انسان اُس مرحلے پر اپنے آپ کو سنبھال سکتا ہے۔اور اسی صبر برداشت اور ہمت کا نام زندگی ہے۔خیرالبشر سے دو چار ملاقاتیں ہوئی تھیں ۔اُن ملاقاتوں میں اُن پہ بے حد پیار آیا تھا۔آج وہ پیا ر یاد بن کر قلم اُٹھانے پر مجبور کررہا ہے۔ایک ملاقات میں خیر البشر نے گھر کا پوچھا محفل میں موجود کسی منچلے نے کہا ’’تمہارے سر کا گھر اس دھرتی پر کہیں نہیں،ہواؤں میں کہیں ہوگا‘‘اُس نے کہا جس کو ہم نے دل میں گھر دیا ہے اُس کو خاک کے تکڑے پر گھر دینا کونسی مشکل ہے۔مجھے عجیب لگا کہ اتنے پُرخلوص اور پیارے جملے بھی کسی کی زبان سے ادا ہوتے ہیں ۔یہ اُس کے بہترین اخلاق کی نمائندگی تھی۔مجھے بعض لوگوں کی معصومیت اور بے ساختہ پن اچھا لگتا ہے۔خیرالبشر کی زات میں کوئی کشش تھی جو اس سے محبت کرنے پہ مجبور کرتی تھی۔اُس کے اکھیوں میں غضب کا خلوص تھا وہ مسکرا کر بات کرتا،چہرہ گلاب کی طرح کھل جاتا۔۔۔۔زندگی پھلجڑی ہے،چنگاری اُٹھی بجی غائب ہوگئی۔نظر نظر کی بات ہے نظر جب اُٹھتی ہے تو دعابن جاتی ہے اور جب جھکتی ہے تو ادا بن جاتی ہے۔زندگی بھی انہی مثالوں سے عبارت ہوتی ہے۔یہ اداؤں اور دعاؤں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔ہمارے پاس ادائیں کاہے کو ہیں بس دعائیں ہیں ۔اللہ خیرالبشر کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اُس کے پھول جیسے بچوں اور فیملی کو متبادل خوشیاں عطا فرمائیں۔امین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق