ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……..برا ہمداغ بگتی کی مثال

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……..
برا ہمداغ بگتی کی مثال 1971کے شیخ مجیب الرحمن کی طرح ہے 1971 ؁ ء میں عسکری اور سیاسی قیادت ایک شخص کے ہاتھوں میں تھی اس شخص نے شیخ مجیب الرحمن کو دشمن کی گود میں بیٹھنے کا موقع دیا اس کے بعد دشمن کی گود میں بیٹھ کر شیخ مجیب الرحمن نے دشمن کے لئے جم کر کام کیا اور دشمن کے سارے مقاصد حاصل ہوگئے پاکستان کے حصے میں کچھ بھی نہیں آیا گزشتہ روز خبر آگئی کہ براہمداغ بگتی نے بھارتی حکومت سے سیاسی پناہ کے ساتھ ساتھ شہریت دینے کی با ضابطہ درخواست کی ہے پھر بلوچ ریپبلکن پارٹی کے تر جمان عزیز اللہ بگتی اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان دیا کہ سوئز ر لینڈ میں بی آر اے کا مشاورتی اجلاس ہونے والاہے بھارت میں سیاسی پناہ اور بھارتی شہریت کی درخواست دینے کا معاملہ ایجنڈے پر ہے مشاورت کے بعد سب نے مل کر فیصلہ کیا تو با ضابطہ درخواست دی جائیگی 10سال پہلے 2006نواب محمد اکبر خان بگتی پہاڑوں میں پناہ لی براہمداغ بگتی کا بل چلے گئے کابل سے دوبئی ،لندن اور نیو یارک منتقل ہوئے اب خبرآئی ہے انہوں نے اپنا ہید کوارٹر سوئٹزرلینڈ میں بنایا ہے اور عنقریب بھارت منتقل ہونے والے ہیں ایک زمانے میں ایسے کاموں کو خفیہ رکھا جاتا تھا ایسے الزامات کسی پر لگتے تو انکار کرتا تھا اور محب وطن پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا شیخ مجیب الرحمن نے کبھی پاکستان توڑنے کی بات نہیں کی انہوں نے صوبائی خود مختاری اور صوبے کے وساائل پر مقامی اختیار کے لئے 6نکا ت پیش کئے تھے 6نکات میں سے کوئی بھی نکتہ پاکستان کی سا لمیت کے خلاف نہیں تھا یہاں تک کہ دو کرنسیوں کا مطالبہ بھی پاکستان کی سلامتی کے ساتھ متصادم نہیں تھا مگر ایک مخصوص حلقے نے 6نکات کو پاکستان قرار دیا اور نتیجہ 16دسمبر 1971 ؁ء کو سامنے آیا برا ہمداغ بگتی اور شیخ مجیب الرحمن کے مطالبات مماثلتیں بہت ہیں بلوچستان کے معدنی ذخائر پر صوبے کا حق اور بلوچستان کے گو ا در پورٹ کی آمدن سے صوبے کو حصہ دینے کا مطالبہ بلکل وہی ہے جو شیخ مجیب الرحمن کا مطالبہ تھا اگرا ن مطالبات پر مذاکرات ہو جاتے ایک معاہدہ طے ہو جاتا تو پاکستان ہر گز نہ ٹو ٹتا مارچ 1971 ؁ء سے لیکر دسمبر 1971تک 9مہینوں کے اخبارات کی فائلیں لائبریریوں سے نکالی جائیں اور 260یا 270دنوں کے اخبارات میں کسی ایک اخبار کا انتخاب کر کے اس اخبار میں رپورٹ ہونے والے وا قعات کا تجزیہ کیا جائے تو 3اہم باتیں سامنے آتی ہیں پہلی بات یہ تھی کہ 6نکات کو ملک دشمنی قرار دیا گیا دوسری بات یہ تھی کہ بنگا لیوں کو ملک دشمن قرار دیا گیا تیسری بات یہ تھی کہ جنگ کے ذریعے بنگالیوں کو ختم کر کے ملک کو بچانے پر زور دیا گیا ان باتوں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ حقائق کو قوم سے چھپایا گیا 15دسمبر 1971 ؁ء کے دن 11بجے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ ہو ا دستاویزات کا تبادلہ ہوا آل اندیا ریڈیو نے ڈیڑ ھ بجے اس کی خبر نشر کی بی بی سی رات 8بجے خبر دیدی اس کے باوجود رات 8بجے صدر مملکت جنرل یحیٰ خان نے قوم سے خطاب کر کے اس کی تر دید کی اگلی صبح 6بجے ریڈیو پاکستان نے خبر نشر کی کہ 10بجے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب ہوگی قوم کو حقائق سے بے خبر رکھا گیا آز اد ذرائع سے یا دشمن ملک کی طرف سے آنے والی خبروں کی تردید کی گئی آخر میں وہی ہوا جو دشمن چاہتا تھا فاٹا ،کرا چی اور بلوچستان کے مسائل 1971 ؁ء میں مشرقی پاکستان کے مسائل سے گہری مماثلت رکھتے ہیں فاٹا کے اندر لاوا پک رہا ہے کراچی اور بلوچستان میں لاوا پک چکا ہے آتش فشان سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں 2006تک کراچی پہلے نمبر پر تھا نواب محمد اکبر خان بگتی نے بلوچستان کو پہلے نمبر لایا برا ہمداغ بگتی کا سوئٹز ر لینڈ ہیڈکوارٹر اوربھاورت میں سیاسی پناہ کے ساتھ بھارتی شہریت کی درخواست دینے کا معاملہ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑیاں ہیں قومی سلامتی کے لئے وزیر اعظم کے مشیر لفٹننٹ جنرل (ر)نا صر جنجوعہ پا ک آرمی کی جنوبی کمان کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں آرمی کی وردی میں بھی تقریر کرتے تھے تو یونیورسٹی کے پروفیسر یا دفتر خارجہ کے سفارت کار کی طرح جم کر بولتے تھے حوالے دیتے تھے تاریخ سے مثالیں دیتے تھے دانشوروں کے اقوال دہراتے تھے مفتی لبا س میں ان کا لہجہ اور بھی نکھر گیا ہوگاقومی سلامتی کے مشیر کو علم ہے کہ فاٹا ،کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کوئی مقامی مسلہ نہیں یہ بھی مشرقی پاکستان کی طرح کا مسئلہ ہے یہاں بھارت لڑرہا ہے اس کے بندوق پاکستانیوں کے ہاتھوں میں تھمائی ہوئی ہے اس جنگ کو ہتھیارو ں کے ذریعے جیتنا ممکن نہیں آپ ہتھیار چلاتے ہیں تو دشمن سامنے نہیں پاکستانی شہری سامنے آتا ہے آپ بمباری کرتے ہیں تو رام لعل ،راج گوپال نہیں مرتا ،عبداللہ یا محمد علی مرتا ہے جو پاکستانی بھی ہے اور مسلمان بھی یہ ایک مشکل صورت حال ہے اگر براہمداغ بگتی کو بھارت نے سیاسی پناہ دیدی اور شہریت بھی دیدی ،تو اس کا انجام پاکستان کے لئے بہت برا ہوگا پوائنٹ آف نو انیٹرن پر جانے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے بلوچ قیادت کو قومی سیاست میں واپس لایا جا سکتا ہے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالملک بھی اس سلسلے میں کردار ادا کر سکتے ہیں سردار اختر مینگل بھی مثبت کر دار ادا کر سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری عسکر ی اور سیاسی قیادت بر اہمداغ بگتی اور شیخ مجیب الرحمن کے کرداروں میں عیاں مماثلت کو دیکھ کر پاکستان کی سا لمیت کے لئے مثبت انداز فکر اپنانے پر توجہ دیں۔وقت ہاتھ سے نکلنے کے بعد سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا آج بھی برا ہمداغ بگتی اور ان کے ساتھی پاکستانی ہیں وہ آج بھی محب وطن ہیں کل کا دن آئے گا تو آج والی صورت حال بدل چکی ہوگی ہماری قومی تاریخ ہمارے سامنے ہیں مگر تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ کہ ہم نے تاریخ سے کبھی سبق نہیں لیا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق