اقبال حیات آف برغزی

اولاد کی ابتدائی تربیت

…..تحریر :اقبال حیات آف برغذی


ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد ایک دکان کے سامنے اپنے ایک ساتھی کے انتظار میں کھڑاتھا۔قریب ہی ایک موٹر سائیکل کھڑی تھی جس کی سیٹ پر دونوں ٹانگیں ایک طرف کر کے پینٹ شرٹ میں ملبوس آنکھوں میں چشمے لگائے ایک نوجوان بیٹھا تھا اس کے ایک ہاتھ میں کوک کا بوتل تھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا اس کی زبان سے نکلتے ہوئے ہر ہر لفظ پر انسانیت اور شرافت ماتم کر رہی تھی اس دوران ایک اور نوجوان ہیلو ہیلو کرتے ہوئے اس کے قریب آیا اور حال احوال پوچھنے پر اس نے جواباً ہا ’’یا رمزہ نہیں بس دن گزرہے ہیں ‘‘اس نے پوچھا کہ تمہار اس کا کیا حال ہے نوجوان سر د آہ بھرنے کے بعد کہا ’’یا ر اس ظالم کا کیا پوچھتے ہو میری راتوں کی نیندیں اور دن کا سکو ن اس کی وجہ سے غارت ہو ا ہے اس موضوع پر چند غیر اخلاقی باتیں کرنے کے بعد نوجوان نے موضوع کو بدل کر پڑھائی کے بارے میں جب سوال کیا تو اس نے کرخت اور ہتک آمیرز انداز میں کہا ‘‘کہ گولی مار یار پڑھائی کو اس میں کیا رکھا ہے ڈگریاں بغل میں دبائے ہزاروں نوجوان گلی کوچوں میں پھرتے ہیں ان چند جملوں پر اگر توجہ دی جائے تونوجوان نسل کی بے راہروی اور قوم کی تاریک مستقبل کا نقشہ اُبھر کر سامنے آتا ہے زبان سے نکلنے والا ہر لفظ غیر اسلامی ،غیراخلاقی اور غیرا نسانی فعل کی غلازت کا حامل تھا سواری کے لئے موٹر سائیکل ،پینے کے لئے ہاتھ میں کوک کا بوتل اور لٖغوایات بکنے کے لئے کان میں موبائل (جو شاید والیاں چترال کو بھی نصیب نہ تھے )ہونے کے باوجود زبان پر جاری زندگی کے لطف سے محرومی کے الفاظ ڈنکے کی چوٹ پر ناشکری اور خداناترسی کے آئینہ دار ہیں اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کی بے وقعتی کا برملا اظہار اور خیالات فاسدہ سے گہری وابستی اخلاقیات کی دنیا کے منہ پر تھوکنے کے مترادف ہیں اس نقشے کا دوسرا رخ عین اس وقت سامنے آیا جب پانی پینے کے لئے دکان کے باہر گلاس لئے کولر کے پاس گیا پانی بھر رہا تھا کہ ایک اٹھ دس سال کی عمر کا بچہ سلام کر کے میرے سر پر کھڑا پانی کی طر ف دیکھنے لگا میں نے بھرا گلاس اس کی طرف بڑھایا تو اس نے مجھے پہلے پینے کا کہا میں زور سے گلاس اس کے ہاتھ میں تھما دی وہ لڑکا شکریہ کہتے ہوئے قریب پڑے ہوئے ایک بینج پر بیٹھ گئے اور پہلے گلاس میں جھانک کر پانی کاجائزہ لیا پھر بسم اللہ پڑھتے ہوئے تین بار سانس لیکر پانی پینے کے بعد الحمداللہ کہتے ہوئے میرے لیے گلاس پانی بھرنے کیلئے کولر کی طرف بڑھا میں اس بچے کی کم سنی میں اسلامی اقدار کی پاسداری پر متحیر ہوا اور اس کی آنکھوں کو چوم کر گلاس اس کے ہاتھ سے لے لیا وہ شکریہ اور سلام کہتے ہوئے چلے گئے اگر تجزیہ کیا جائے تو اولاد کی ابتدائی تربیت کے اثرات پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ پتھر پر لکیر کی اہمیت کے حامل ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اولاد کی پرورش کے دوران والدین کی طرف سے ان کو فراہم کی جانے والی رزق کی نوعیت کی تاثیر بھی مسلمہ ہے ان دونوں عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے ہر کوئی اپنی اولاد کی بے راہروی کے اسباب سے شناسائی حاصل کرسکتا ہے اس کی صداقت پر یہ واقعہ دلالت کر تا ہے کہ ایک نوجوان مرد اور عورت رشتہ ازدواج میں جڑنے کے بعد شب عروسی میں حلفیہ طور پر پہلی اولاد ہونے تک کسی قسم کی بھی حرام خوراک سے اجتناب کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یوں اس حلف کی لاج رکھتے ہوئے ان کی زندگی کے شب و روز جب اولاد لذت کے حدود میں داخل ہوئے ہیں اور بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا ہے تو گھر کے قریب دکان پر جا کر کھجور کے چند دانوں کو چرا کر جیب میں ڈالا ہے دکان دار اسکی حرکت پر اس کی سرزنش کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعے کا تذکرہ اس والدین کے سامنے کرتا ہے دونوں میاں بیوی بچے کی اس بے راہروی کے اسباب ڈھونڈنے کے لئے اس کی ولادت سے قبل اور بعد کے اپنے کردار کا جائزہ لیتے ہیں اسی دوران عورت نے اعتراف کی کہ حمل کے دوران ایک دن پڑوسی کے کھجو ر کے درخت سے اس کی صحن پر گرے ہوئے چند دانوں کو پڑوسی کی اجازت کے بغیر کھائی تھی یقینی طور پر بچے کی یہ حرکت اس گناہ کا شاخسانہ ہوگا یوں جب تک ہمارے معاشرے میں بھی سادگی اور حرام خوری سے نا آشنائی تھی تو رشتوں ناتوں اور اولاد سے آشنائی تھی باپ دو دن بعد سفر سے واپس گھر آنے پر اولاد تین چار میل کے فاصلے پر استقبال کے لئے جایا کرتے تھے مگر جب معاشرے کو مفاد پرستی اور حرام وحلال میں تمیز ختم ہونے کا مرض لاحق ہوا تو اپنے بھی بیگانے ہوگئے اور نوجوان نسل میں اخلاق تمیرز اور ادب و احترام کے ساتھ جملہ انسانی صفات مٹ گئے اور بے راہروی کے مہیب سائے پوری معاشرتی زندگی پر چھاگئے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق