شمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ’’بائی سکوپ‘‘ نام ہی کافی ہے )

………..شمس الحق قمر ؔ بونی ، حال گلگت………
چھٹیوں میں عجیب قسم کی بوریت ہو تی ہے اِس بار دو دنوں کی مسلسل چھٹیاں ہوئیں تو سوچا کہ کیوں نہ فارغ وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کے عظیم کارناموں پر روشنی ڈالی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے میری زندگی کے واقعات مشعل راہ بن جائیں ۔ سوچتا رہا کہ بحیثیت انسان میں نے کونسا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو کہ میرے مرنے کے بعد میری زندگی کی تاریخ میں انمٹ نقوش کے طور پر لوگوں کو نظر آتے رہیں ۔ حافظے پر زور لگانے سے اس وقت صرف ایک ہی عظیم کارنامہ یاد آرہا ہے ۔ یہ کارنامہ ایک ایسا کار خیر تھا کہ جو آج تک کوئی دوسرا شخص انجام نہیں دے سکا ۔ ہوا یوں کہ ہم بچپن میں جماعت خانہ جایا کرتے تھے اسماعیلی مکتبہ فکر کے لوگوں کا ایک بہترین طریقہ خیرات مہمانی کا ہوتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ زکوۃ کے علاوہ ہے ۔اسماعیلی فرقیکے لوگ اپنی کوئی بھی پیاری چیز امام کے نام پر نذارانہ دیتے ہیں۔ اس نذرانے کو مہمانی کہتے ہیں ۔ نذرانے پر بولی لگتی ہے اور جمع شدہ رقم قطرہ قطرہ دریا کی مانند جمع ہوتی ہے اور یہی رقم انسانی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہوتی ہے جیسے ہسپتال ، سکول اور دوسرے قسم کے فلاحی اور رفاہی اداروں کی تعمیر و تشکیل۔
میں نے سوچا کہ میں ایک ایسی نادر چیز کی مہمانی کروں گا جو آج تک کسی نے نہ کی ہو ۔ چنانچہ میں نے گھر سے تھوڑا سے گندم کا اناج چرایا اور سیدھا سردار حسین کی الماری والی دکان کی طرف روانہ ہوا ( گاؤں کی گلی کے ایک نکڑ پر سردرحسین نے ایک الماری میں دکان ڈالی تھی جس کا مفصل ذکر سردرحسین پر لکھے گئے ایک خاکے میں موجود ہے )۔ دکان میں اُس زمانے کے حوالے سے بڑی عجیب اشیا بکتی تھیں ۔ مثال کے طور پر ربڑ کے غلیل کے علاوہ کئی ایک قسم کی چیزیں دستیاب ہوا کرتیں ۔ میں نے سردار بھائی سے کوئی نایاب چیز خرید کر نذرانہ رکھنے کے حوالے سے مشورہ کیا تو سردار بھائی نے بہت ہی فخر سے کہا ’’ ایک ایسی اعلیٰ قسم کی جدید مشین دوں گا جو کہ آج تک کسی نے نہیں دیکھی ہے ۔ اسے بائی سکوپ کہتے ہیں‘‘ میں نے بائی سکوپ کا معائنہ کیا ۔ جوکہ ایک چھوٹی سی چوکور پیالے کی مانند تھی جس کے تہ میں کوئی ایکسرا نما کاغذ رکھا ہوا تھا اور سیدھا اوپر دوربین کا جیسا عدسہ لگا ہوا تھا۔ عدسے کو آنکھ سے لگا کر دیکھنے سے نیچے رکھے ہوئے کاغذ میں موجود مدہم تصویر بہت بڑی اور اصلی صورت میں معلوم ہوتی تھی۔ پہلی بار دیکھنے سے مجھے ایسا لگا جیسے میں ایک کھڑکی سے پوری کائینات کی جانب دیکھ رہا ہوں ۔میں نے کئی ایک بائی سکوپوں کا معائنہ کیا جن میں سے ہر ایک کا الگ لطف تھا ۔ ان میں سے ایک میں خانہ کعبہ دکھایا گیا تھا جس میں ایک حاجی صاحب شیطان کو کنکر مارتا ہوا نظر آرہا تھا ۔ دوسرا میں نے اٹھا کے آنکھ سے لگایا تو ایک خونخوار شیر ہرن کے بچے کو تہس نہس کرکے کھا رہا تھا ۔ تیسرا اُٹھا یا کیا دیکھتا ہوں کہ لباس سے آدھی عاری دوشیزہ محو رقص ہے ۔ میں ان میں سے سب سے اچھا تو خانہ کعبہ والا ہی تھا ۔ پھر بھی فیصلہ نہیں کر سکا کہ کونسا لے لوں ۔ چنانچہ مجھے تجربہ کار دوکاندار سے اُن کے زریں مشورے لینے پڑے ۔ بہترین مشورہ آخر الذکر ہی کا ملا۔ یہ وہی تھا جس کے اندر ایک دوشیزہ کی زندہ صورت نظر آرہی تھی ۔ اناج جو میں گھر سے چرا کے لے گیا تھا اُسے ترازو میں ڈالا گیا بد قسمتی سے تول میں اناج کی قیمت بائی سکوپ کی قیمت سے کچھ کم نکلی تاہم دوکاندار نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بائی سکوپ میرے حوالہ کر ہی دیا ۔ عجیب مشین تھی بستیز روشنی دکھانے کی دیر ہوتی تھی۔ جتنی روشنی دکھاؤ تصویر اُتنی شاندار اور صاف و شفاف نظر آتی تھی ۔ دکان سے اپنے گھر کے بیرونی دروازے تک میں مسلسل طور پر اُس مشین کو آنکھوں سے لگائے رکھا ۔ جتنی مرتبہ دیکھو اُتنی مرتبہ اس جدید مشین کے موجد سائنسدان کی عقلِ عظیم کودل کی گہرائیوں سے داد دینے کو من کرتا ۔ گھر کے بیرونی دروازے تک پہنچتے پہنچتے میں نے بائی اسکوپ اپنی ملیشیا شلوار کے نیفے کے اندر محفوظ کرلیا ۔ اُس زمانے کا نیفہ بھی اپنی جگہ ایک اسٹور ہوا کرتا تھا ہم ہر قیمتی شئے شلوار کے نیفے میں رکھتے تھے روکھی سوکھی روٹی سے لیکر غلیل تک ۔ نیفے میں اشیائے خورد و نوش سے لیکر سامان تعیش تک سب بھرے ہوتے تھے ۔مجھے خوب یاد ہے جب میں نے بائی سکوپ نیفے میں ڈالا تو اخروٹ کے ایک دو دانے بھی میرے نیفے سے نکل کر زمیں پر گرے تھے۔ ہمارے نیفے صرف اہم اشیاء رکھنے کیلئے ہی استعمال نہیں ہوا کرتے بلکہ ہمارے نیفوں میں تہہ در تہہ جوؤں کی بہت بڑی آبادی بھی بستی ہوتی جن میں رنگ برنگی جوئیں ہر حال میں مستعد رہتیں اور اُن کی نسل کشی کا مستقل سلسلہ بھی ہمارے نیفوں ہی میں اپنے منطقی نتیجے کو پہنچتا رہتا ۔ ہمارے زمانے کے بوڑھے بھی سردیوں میں جب کھبی دھوپ تیز ہوتی تو دیواروں کے ساتھ ٹیک لگا لگا کر اپنے نیفوں کی خوب چھان بین کرتے اور جوؤں کو گن گن کر ناخنوں سے صفحہ ہستی سے مٹاتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور فاتحانہ انداز سے مسکرا کر اپنے کامیاب حملوں کا جشن منایا کرتے ۔
میں عین نماز مغرب کے وقت اذان کے ساتھ ہی جاکے نمازیوں کے راستے میں کھڑا ہوا ۔ میرا منشا یہ تھا کہ میں پہلے یہ مشین اپنے مکھی صاحب کو دکھاؤں تاکہ مہمانی سے پہلے مکھی صاحب میرے نذرانے پر اظہار خیال فرمائے اور میری شہرت چہار دانگِ عالم پھیل جائے ۔ مکھی صاحب اور بھی بہت سارے نمازیوں کے ساتھ آرہے تھے ( مکھی صاحب اتنا متعصب مسلمان تھا کہ کئی مرتبہ لوگوں کو ٹوکا کہ مجھے مکھی صاحب بول کر نہ پکارو بلکہ صائب بول کر پکاروکیوں کہ لفظ ’’ صاب ‘‘ انگریزوں کی زبان ہے جواور انگریزوں کی زبان ہم پر حرام ہے ) ۔ بہر حال میں نے سلام کیا ۔ مکھی صاحب نے مجھ سے شام کے وقت راستے میں کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی تو میں نے مکھی صاحب کے کان میں یہ خوشخبری سنائی کہ میں آج ایک ایسی چیز نذر کرنا چاہتا ہوں جو آج تک شایدکسی نے سوچا بھی نہ ہو ۔ مکھی صاحب چونک گئے اور بولے ’’ زرا دکھا تو دو کہ آخر تم نے وہ کونسی چیز لائی ہے ‘‘ میں نے جھٹ سے نیفے میں ہاتھ ڈالا اور بائی سکوپ آگے کر کے ’’ دیکھئے یہ بائی سکوپ ہے اس میں تصویر نظر آتی ہے ‘‘ مکھی صاحب نے بائی سکوپ کا عدسہ آنکھ سے لگا تو دیا لیکن اُسے نظر کچھ نہ آیا ۔ میں نے کہا ’’ ایک آنکھ بند کرو اور آسمان کی طرف اُٹھا کے دیکھو‘‘ مکھی صاحب نے میرے بتائے ہوئے طریقے پر کما حقہُ عمل کیابائی سکوپ کیا دیکھا مکھی صاحب پاگل ہوگئے ۔ بائی سکوپ سامنے پتھر پر تڑاخ سے دے مارا مکھی صاحب کے بازو میں زور اتنا آیا تھا کہ اُس کے ٹکڑے بھی نظر نہ آئے ۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ مجھے پکڑ کے پیٹھ کے بل گراکے سینے پر اپنے پلاسٹک کے ( ۵۵۵) مارکہ بوٹ جما کر بولے’’ پھلید ، نجس شیطان میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ‘‘ مجھے فوری طور پر ایک مذہبی کہانی یاد آئی میں نے سوچا کاش! مکھی صاحب بول اُٹھے ’’ اب بول تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ‘‘ اور میں بولتا ’’ اب میراا للہ مجھے بچائے گا ‘‘ لیکن مکھی صاحب انتہائی بد حواسی کے عالم میں مجھے مارے جا رہا تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ اب شیطان کا کام تمام کر کرے مکھی صاحب جنت کے حقدار ہوں گے ۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہاتھ پاؤں مارتا رہا اور آخر کار مکھی صاحب کے نیچے سے نکل کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوا ۔ پیچھے سے پتھروں کی بارش ہوتی رہی ۔ اُس وقت اور آج کا وقت بائی سکوپ نام سن کے رنگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق