ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……..علامہ اقبال او ربا بو کریسی

…………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………
9 نومبر علامہ اقبال ؒ کا یو م ولادت ہے قومی ہیرو کے یوم ولادت کو شا یانِ شان طریقے سے منانے اور مفکر پاکستان ، شاعر مشرق کو یاد کر نے کے لئے اس روز کو قومی تعطیل کا درجہ حاصل تھا پھر یوں ہوا کہ کسی بز ر جمہر نے چھٹی کو منسوخ کر دیا اس کے بعد مختلف ادوار میں چھٹی کو بحال اور منسوخ کیا جاتا رہا علامہ اقبال ؒ کی روح کے ساتھ یہ آنکھ مچولی اب تک چل رہی ہے بد ھ 9 نومبر 2016 کو پھر ایسا ہی ہوا منگل کے دن 4 بجے دفتر ات اور تعلیمی اداروں میں چھٹی ہوگئی تب تک یوم ا قبال کی چھٹی کا کوئی حکمنا مہ جاری نہیں ہوا تھا موبائیل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے چھٹی کی خبر پہلے ہی آگئی تھی اسلام اباد اور پشاور کے معتبر حلقوں سے خبر آگئی تھی کہ چھٹی کا اعلان ہوا ہے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے حکام نے ایک بڑی میٹنگ میں تمام اضلاع کے ایجو کیشن افیسروں کو ہدایت کی تھی کہ چھٹی کروائی جائے لیکن منگل 8 نومبر تک وفاقی حکومت نے حکمنا مہ جاری کیا نہ صوبائی حکومت نے حکمنامہ جاری کیا گُو مگو کی کیفیت رہی 9 نومبر 2016 کو آدھے لوگوں نے چھٹی کی اور آدھے لوگوں نے چھٹی نہیں کی گویا اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان ، ایٹمی قوت ، کشمیر اور فاٹا کی طرح علامہ اقبال کا دن بھی پاکستان میں متنا زعہ حیثیت اختیار کر چکا ہے کچھ لوگ علامہ اقبال کو مانتے ہیں کچھ لوگ نہیں مانتے یہ کس کا قصور ہے؟ ہمارے دوست پروفیسر شمس النظر فاطمی کہتے ہیں کہ قصور نہیں کما ل ہے اور یہ کمال با بو کر یسی کا ہے یہ بابو کریسی کیا چیز ہے؟ فاطمی فرماتے ہیں انگریزوں کی بیوروکریسی ہمارے ہاں آکر بابو کریسی بن چکی ہے بابو کا لفظ انگریز ی لغت میں بلا ئیٹی کہلاتا ہے غلام ملکوں کی چھا ونیوں میں انگریز افیسروں کی مدد کے لئے کالے لوگوں کو نوکر رکھا جاتا تھا یہ ایسے کالے ہوتے تھے جو اردو ، فارسی اور انگریز ی میں شُد بُد رکھتے تھے ان کی مدد سے انگر یز افیسروں کی حکمرانی چلتی تھی بابو کی تربیت اس طرح ہوتی تھی کہ انگریز یا گو را حاکم ہے ، بابو اور کالا غلام ہے اس کو سوچنے کی اجازت نہیں انگر یز سوچے گا پالیسی بنا ئے گا حکم دیگا بابو ’’ یس سر ‘‘ کہے گا اور حکم بجا لا ئے گا اس طرح بابو کی کھو پٹری میں دماغ کی جگہ اخروٹ رکھ دیا گیا پاکستان کے قیام کو 64 سال ہوگئے بابو کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم آزاد ہوگئے ہیں مجھے سوچنے کی اجازت مل چکی ہے بابو کو یہ بھی پتہ نہیں کہ گو را چلا گیا اب حکمران بھی میری طرح کالا ہے بابو کی حیثیت روبوٹ اور کھلونے جیسی ہے اس کو چابی دو اور کام چلاؤ وہ کام کر سکتا ہے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہے پروفیسر فاطمی فرماتے ہیں کہ پاکستان کا جو حال ہوا ہے یہ بابو کریسی نے اس حال کو پہنچا یاہے ابھی انتظا ر کرو ہمیں مزید برے دن بھی دیکھنے ہیں ہم نے کہا چلو مان لیا غلطی بابو کریسی کی ہے پروفیسر فاطمی فرماتے ہیں غلطی نہیں کمال کہو کمال ہم نے کہا چلو مان لیا کما ل بابو کریسی کا ہے مگر یہ تو بتاؤ کالا حکمران کیا کر رہا ہے ؟ اُس نے گورے کی جگہ تولے لی ہے کا م کیوں نہیں کرتا پروفیسر فاطمی نے ’’ زبردست ‘‘ کا ایک نعرہ مستانہ بلند کیا پھر گو یا ہوئے ہمارا حافظہ بہت کمزور ہے ہمارا کا لا حکمران کام کرتا ہے کالے کا لے کام کرتا ہے مثلاً آف شور کمپنی کاکام ، دھرنا ورنا ، کالے لیبل کی انگریزی بوتل میں دیسی شہد کی سمگلنگ وغیر ہ بڑے بڑے کام ہیں جو ہمارا کالا حکمران کرتا ہے وہ تو بابو کریسی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر کمالات دکھا تا ہے ولایتی شراب کو دیسی شہد ثابت کرتا ہے اس کے کمالات کا کوئی جواب نہیں سفید پاؤڈر بھی کالے حکمران کا کمال ہے نا جائز اسلحہ بھی اسی کے کمالات کا حصہ ہے جوں ایلیا نے غزل کے شعر میں بڑی بات کہی ہے
یہ جو کراہتے ہوئے آرہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
ایک زور دار ’’ زبردست ‘‘ کہنے کے بعد پروفیسر فاطمی نے لقمہ دیا جوں ایلیا نے بہت کچھ کہا ہے انہوں نے تو یہ بھی کہا ہے
نہیں بنیاد کی کوئی بنیاد
یہی با با الف کا ہے ارشاد
تفنن برطرف ،مجھے یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ تعلیم اور آگاہی کے اس قیامت خیز دور میں ہم جاہل ہوتے جارہے ہیں 1977 میں علامہ اقبال کا صد سالہ جشن منا یا گیا 9 نومبر 1977 سے دو ہفتے پہلے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اساتذہ ، ما ہرین تعلیم ، ادبی انجمنوں اور مختلف محکموں کے سربراہوں کی میٹنگ بلائی میٹنگ میںیوم اقبال کو شایاں شان طریقے سے منانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا 1988 تک یہ سلسلہ جاری رہا اس کے بعد میٹنگ بلانے کا رواج ختم کیا گیا ایک مراسلے کے ذریعے 2 نومبر کے دن سب کو آگاہ کیا جاتا تھا کہ 9 نومبر کو یوم اقبال منایا جائے گا اس کے بعد یوں ہوا کہ کچھ بھی نہیں ہوا علامہ اقبال کون؟ اس کی تاریخ کیا ؟ اس کا دن کیوں؟ خیبر پختونخوا کی ایک بڑی یونیورسٹی میں اہم سڑک پر کتبہ لگا یا گیا تھا ’’ اقبال خان روڈ‘‘ پروفیسر پر یشان خٹک نے پوچھا یہ اقبال خان کو ن تھا ؟ ایڈمن افیسر (بابو ) نے بتایا ’’ سر سیالکوٹ کا شاعر تھابانگ درا اُس کی کتاب ہے آج پوری دنیا علامہ اقبال کے کام اور اُن کے مقام سے واقف ہے ایران میں علامہ اقبال کے فلسفے کا چر چا ہے بھارت میں علامہ اقبال کے کلام کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے جرمن قوم تو علامہ اقبال کے عشق میں گرفتار ہے افغانستان میں علامہ اقبال کے نام اور ان کے کام کا بڑا چرچا ہے کوئی قوم اگر علامہ اقبال کی قدر کر نا نہیں جانتی تو وہ پاکستانی قوم ہے اور پاکستانی قوم کو علامہ اقبال سے دور کر نے میں بابو کر یسی کے ساتھ ساتھ کالے حکمرانوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے علامہ اقبال اگر کالے حکمرانوں کے کرتوت دیکھتے تو ضرور پچھتا وے کا شکار ہوتے کہ میں نے پاکستان کا خواب کیوں دیکھا کوئی اور خواب کیوں نہیں دیکھا یوم اقبال کے ایک دن بعد ہم بانگ درا کا یہ شعر ہی اقبال کی نذر کرسکتے ہیں۔
میں جنس گراں مایہ ہوں قیمت ہے گراں میری
کم مایہ ہیں سو داگر اس دیس میں ارزاں ہوں
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى