ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …………..چائنیز کنسوریشم اور اتصالات

………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …………
دوست ملک چین کے کنسو ریشم کی طرف سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو خریدنے کی خبر کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ اس سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور ملک کے اندر کیپیٹل مارکیٹ کو فروغ ملے گا 10 سال پہلے حکومت نے پاکستان ٹیلیفون کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کے شیئر ز بمعہ انتظامیہ دوبئی سرمایہ کار کمپنی اتصالات کو فروخت کئے تو اس کا بھی خیر مقدم کیا گیا تھا لیکن اب اتصالات نے معاہدے کے مطابق 80 ارب روپے پاکستان کو ادا کرنے سے صاف انکار کیا ہے اور پاکستان کے پاس کوئی قانونی گارنٹی نہیں جس کی رو سے بیرونی کمپنی کو بقایا جا ت کی ادائیگی پر امادہ کیا جا سکے تفصیلات کے مطابق پی ٹی سی ایل کے جو شیر ز عرب کمپنی کو فروخت کئے گئے ان کی مالیت 180 ارب روپے تھی اس میں 100 ارب روپے اداکرکے باقی رقم کو اتصالات نے دبا یا ہوا ہے ایک اندازے کے مطابق دوبئی کی سرمایہ کار کمپنی کو گذشتہ 10 سالوں میں 200 ارب روپے کا خالص منافع ملا ہے یعنی سونے کا انڈہ دینے والی چڑیا ہا تھ آگئی ہے اس کے باوجود اتصالات نے پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عملد رآمد سے صاف انکار کیا ہے کمپنی چاہتی ہے کہ اصل معاہدے کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے شہروں اور دیگر علاقوں میں پی ٹی سی ایل کی ملکیتی زمین اس کمپنی کے نام منتقل کی جائے یہ زمین 10 کھرب روپے ملکیت رکھتی ہے گویا 80 ارب روپے کے بقایاجات وصول کرنے کیلئے ہماری حکومت 10 کھرب روپے کی زمین دوست ملک کی سرمایہ کار کمپنی کو حوالہ کرے گی ورنہ 180 ارب روپے بھی نہیں میلنگے اور نجکاری کے معاہدے پر بھی عمل نہیں ہوگا یہ ہمار ا دوست اور یہ دوست کا یہ رویہ ہے دوسری طرف پاکستان کی حکومت اب بھی انفر انسٹرکچر پر پیسہ لگا رہی ہے مگر اتصالات اس انفرانسٹرکچر سے کام لیکر صارفین کو سہولیت نہیں دیتی 2012 میں اُس وقت کے کور کمانڈر لفٹننٹ جنرل غلام ربانی کی مداخلت پر ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع چترال کیلئے آپٹک فائبر سسٹم (OPS) کا پیکچ منظور ہوا ہے 2014 میں کام مکمل ہوا دو سال گزر گئے عوام کو DSL کی سہولت نہیں ملی 2 لاکھ صارفین کو صرف 200 لائنوں کی سہولت دی گئی تھی جس پر اب 1400 لائنوں کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے جس کی سپیڈ نہ ہونے کے برابر ہے ایک بڑے ادارے سٹیلائیٹ سسٹم سے کام لے رہے ہیں باقی صارفین آپٹک فائبر سسٹم کو چلانے کے لئے انتظار میں بیٹھے ہیں اگر موجودہ کور کمانڈر لفٹننٹ جنر ل نذیر بٹ اور جی اوسی میجر جنرل آصف غفور نے اس طرف توجہ دی تو حساس سرحدی ضلع میں DSL کی سہولت مل سکتی ہے ورنہ اتصالات نے حکومت پاکستان کو سرخ جھنڈی دکھائی ہوئی ہے جب کوئی مسئلہ ہوتا تو پتہ لگتا ہے اتصالات کے پاس ٹیکنکل سٹاف کی شدید کمی ہے پرانے لوگ چلے گئے نئے لوگوں کی بھرتی نہیں ہورہی اور جن لوگوں کی بھرتی ہوئی تھی ان کو تنخواہ کا پرکشش پیکج نہیں دیا گیا اس لئے وہ بھی کمپنی کو چھوڑ کر چلے گئے ایک انجنیئر کو مارکیٹ میں کم از کم دو لاکھ روپے ماہانہ کا پیکج ملتاہے ۔ اتصالات والے اس کو 40 ہزار روپے پر راضی کرنا چا ہتے ہیں۔ جو اس دور میں نا ممکن بات ہے۔ چائینز کنسورشیم بھی اتصالات کی طرح دوست ملک کی کمپنی ہے ۔ دوست ملک سے آنے والا سر مایہ کار یا انوسٹر ہے۔ دوستی کے پردے میں جو کچھ اتصالات نے ہمارے ساتھ کیا چائنیز کنسورشیم وہ تو نہیں کر ے گی؟ یہ بڑا سوال ہے۔ اور اس سوال کا جواب آج کسی کے پاس نہیں ہے۔ ایک سنئیر اخبار نویس نے دور کی کوڑی لاتے ہو ئے رائے دی ہے کہ دوبئی اور بیجنگ یا شنگھائی میں فرق ہے۔ دوبئی پاکستان کا دوسرا دارالخلافہ کہلاتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں ، حکمرانوں اور جر نیلوں نے اپنی حق حلال کی جمع پونجی دوبئی میں پراپرٹی خرید نے پر لگا ئی ہو تی ہے۔ ہر حکمران نے دوبئی میں محل خرید ا ہوا ہے سردرد اور زکام کے علاج کے لئے بھی یہ لوگ دوبئی کا رخ کرتے ہیں ۔ وہاں امریکیوں کے کسی بڑے ہسپتال سے اپنا علاج کروانے کے بعد امریکہ یا بر طانیہ چلے جا تے ہیں۔
ہم ہو ئے تم ہو ئے میر ہو ئے
سب اس کی زلف کے اسیر ہو ئے
ظاہر ہے اتصالات دوبئی میں سب کی خدمت کر تی ہے اس لئے پاکستان میں ٹیلیفون اور ڈی ایس ایل صارفین کی خدمت کو چنداں اہمیت نہیں دیتی۔ مشرف اور زارداری سے لیکر اسحاق ڈار اور چوہدری نثار تک سب لوگ شیخ کی مٹھی میں ہیں۔پھر شیخ پاکستان کی حکومت ، پاکستان کی عوام اور پاکستانی صارفین کی پروا کیوں کرے گا؟ چینی سر مایہ کاروں کا ایسا مسئلہ نہیں ۔ نواز شریف اوور شہباز شریف جتنا زور لگائیں ،بیجنگ یا شنگھائی میں 3 مرلہ پلاٹ نہیں خرید سکینگے۔ کسی بازار کے کونے میں ایک چھوٹا کھوکا ان کو نہیں ملے گا۔چین کی حکومت یہ کام نہیں کری اس لئے پاکستان سٹاک ایکسچیج کا معاملہ پی ٹی سی ایل کی طرح اندھے کنوئیں کی نذر نہیں ہو گا۔ اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس ڈیل سے ہم اچھی امید رکھینگے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى