چترال لوئر

ایون,بروز ,گہریت اور کیسو کے باشندے پاکستان کے شہری ہونے کے ناتھے نشنل گرڈ سے بجلی کے حقدار ہیں۔عنایت اللہ اسیر

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر نے ایک اخاری بیان میں کہا ہے کہ ایون,بروز ,گہریت اور کیسو کے باشندے پاکستان کے شہری ھونے کے ناتھے نشنل گرڈ سے بجلی کے حقدار ہیں واپڈا والوں نے مین ٹرانسمیشن لائن بلا وجہ بروز اور ایون کےآبادی اور قلیل باغات اور زرعی زمینات سے گذار کر علاقے کے باشندون کو ڈبل اسٹوری گھر اور بارش میں اس پاور فل لائین کے نیچے چاول کی کاشت کرنے سے محروم کر دیا ھے حالانکہ بروز گرڈ اسٹیشن کے سامنے سے دریاہ چترال کے مغرب کی جانب خالی غیر آباد بنجر زمین ایون بروز پل تک دستیاب تھا پھر ایون بروز پل سے دریا چترال کے مشرق کی جانب گہریت تک بلکل بے آباد,غیر آباد بنجر زمین وافر مقدار میں موجود ھونے کے باوجود بلا وجہ اس مین لائن کو دریاہ سے ایون کی جانب نکال کر کثیر زرعی زمینات کے اوپر سے گزار کر بے حد ذیادتی کی گی ھے علاقے کے باشندوں کو اتنا زیادہ نقصان دیکر ان کے گھروں کے اوپر سے مین ٹرانسمیشن لائن گذار کر ان کو بجلی سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ھے اُنہوں نے واپڈہ والوں سے پور زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کثیر جنگالاتی علاقے کو بجلی وافر مقدار میں جلد از جلد فراھم کرکے ماحول کو بچایا جاے اور مشورہ دیا کہ حاجی محمد خان  کے پورے علاقے میں بچھے ھوے تیار کی سالوں سے کامیاب طور پر چالو تیار ڈسٹری بیوشن لائن کو موجودا پاور فل بجلی کو برداشت کرنے کے قابل بنا کر نشنل گرڈ سے پہلے مرحلے میں ایون ,بروز,گہریت اور کیسو کو بجلی دیا جاے پھر مین لائن ایون سے دو باژ پولیس چوکی پھر رمبور بمبوریت کے آخیری حدود تک بجلی فراھم کرکے جنگلات کے کٹائی کو روک کر ماحول کو آ سانی ذندگی کے لیے قابل رہایش بنایا جاے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى