مضامین

شرم وحیا… تحریر:اقبال حیات اف برغذی

اللہ رب العزت نےبنی نوع انسان کو زندگی گزارنے کےاصول اور قواعد وضوابط سے نوازا ہے۔جنہیں عرف عام میں نظام حیات کہا جاتا ہے۔ ان قواعد وضوابط کی پاسداری میں لطف ،سرورچاشنی اور فرحت ہے ۔ اور ان سے انحراف میں گھٹن،پریشانی اور تباہی ہے۔ کائنات کے رنگ کو سنوارنے اور بگاڑنے میں حضرت انسان کے کردار کا بہت بڑا دخل ہے۔ جس طرح قرآن خود اعلان کررہا ہے۔ کہ خشکی اور تری میں فساد کا محرک انسان کا اپنا کردار ہوتا ہے۔

کردار کی تعمیر میں سب سے اہم حصہ عورت کا ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کائنات کی سب سے قیمتی شئے ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے زندگی کا سامان بنایا ۔جس سے نسل چلتی ہے عورت کی گود اگر ہری ہوتی ہے تو سارا جہاں ہرا ہوتا ہے او ر عورت کی گود کا ویرانہ سارے جہان کے ویرانے کا نمونہ ہوتاہے یون جب عورت کی گود میں تربیت کا نظام درہم برہم ہوتاہے تو کیکر پر کانٹے اگنے کی مانند اس گود کے پروردہ
قاتل،شرابی،ذانی ،آوارہ ،عصمت فروش اور انصاف کے قاتل کی شکل میں کائنات کومتعضن کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یوں دل کے پھپھولے جل اٹھنے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
کا مصداق بنتا ہے۔ عورت کے کردار میں پردہ اور شرم وحیا انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسلامی اخلاقیات میں شرم وحیا کا دائرہ نہایت وسیع ہے ۔زندگی کا کوئی شعبہ اس سے خالی نہیں ۔ اور یہ فطری حیا زندگی کے سارے شعبوں میں نگہبانی کے فرائض انجام دیتی ہے اور مختلف قسم کے برائیوں کی راہ میں مانع ہوتی ہے ۔ اس لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تجھ میں حیانہیں تو جو تیرا جی چاہے کر۔
شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسانی سے ہٹانے کے لئے چلی وہ یہ تھی کہ اس نے جذبہ شرم وحیا پر ضرب لگائی ۔کیونکہ یہ جذبہ برائیوں کےلئے رکاوٹ جبکہ بے حیائی برائیوں کی راہ ہے۔
پردہ اور شرم وحیا عورت کا زیور ہوتا ہے جو اس کی خوب صورتی میں نکھار پیدا کرتے ہیں اس حسن سے بڑھ کر دنیا کی کوئی زیور اور بناو سنگھار عورت کو نہیں مل سکتی۔ عورت شرم وحیا کی بند ڈبیہ میں ایک ہیرے کی مانند ہے۔ جب کہ یہ کھلی صورت میں اپنی قدروقیمت کھودیتی ہے۔ عورت کے ساتھ حیا کاتصور اسطرح ابھرتا ہے جس طرح افتاب کے ساتھ روشنی،درخت کے ساتھ پھل اور پھول کے ساتھ خوشبو، تہذیب، شرافت اور شرم وحیا کا ایک نقشہ اسلام پیش کرتا ہے اور دوسرا نقشہ مغرب کی طرف سے عریان تہذیب کی صورت میں پیش کی جاری ہے جس سے نہ صرف برائیوں کےتعفن سے انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔ یہ تہذیب بہ زبان خود فریاد کنان ہے کہ یہ کیسا انقلاب آیا ہوا ہے جسے دیکھو گھبرایا ہوا ہے
شرافت کی جبین پہ سلوٹین چمن غیرت کا مرجھایا ہوا ہے
مختصر یہ کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ کا تصور صرف اس وقت ممکن ہوسکتا ہے۔جب یہ عورت اپنے گھر کی زنیت بنے۔اور اپنی ذات کوسرعام نیلامی سے بچائے بصورت دیگر اس کی ذات انسانیت کے حقیقی رنگ سے دنیا کو خالی کرنے کا باعث ہوگی۔
ہمیں چاہیے کہ محسن انسانیت کے بتائے ہوئے ان اصولوں سے خود کو مزین کریں جن سے انسانیت کی فلاح اور بقا مربوط ہے اور جس میں کائنات کے حسن وجمال کی ضمانت ہے ۔اللہ رب العزت ہمیں خود کو اسلام کے حقیقی رنگ میں رنگین کرے۔ آمین

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock