کاوشات اقبال

پانی کے استعمال میں احتیاط کیجیۓ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر

پانی اللہ کی دی ہوٸی نعمتوں میں سے ضروری اور اہم نعمت ہے جو اللہ نے وافر مقدار میں انسانوں اور دوسرے جانداروں کی بقا کیلے پیدا کی ہے ۔صاف اور پینے کا پانی عطیہ خداوندی ہے جس کی حفاظت اور استعمال میں احتیاط ہم سب پر فرض ہے صاف پینے کے پانی کی مقدار روز بروز کم ہو رہی ہے جس کی وجہ کثرت آبادی اور پانی کا بے دریغ استعمال ہے اس لیۓ اس کی اسےاستعمال میں احتیاط اور اس کو ضاٸع ہونے سے بچانا نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ مذہبی طور پر بھی اس کا ضیاغ ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے ایک مرتبہ آپ صلى الله عليه واله وسلم نے ایک صحابی کو وضو کرتے ہوۓ دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ اسراف نہ کرو آپ صلى الله عليه واله وسلم نے پانی کے درست استعمال سے ایسے جامع تاکید فرماٸی ہے جو کہ آج کے جدید دور میں مشعل راہ ہے جو پانی کے علط استعمال کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے آپ صلى الله عليه واله وسلم صرف زبان مبارک سے نہیں بلکہ اپنے عمل پیہم سے بھی امت کو پانی کے بچت کا سبق دیا ہے قرآن میں ارشاد ہے ”اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے“القرآن

ایک اندازے کے مطابق 80 فیصد گندہ پانی بیغیر کس صفاٸی کے ماحول میں چھوڑ دیا جاتا ہے جس میں انسانی فضلے سے لیکر زہریلی صنعتی مادے تک شامل ہوتے ہیں تازہ پانی میں موجود ان آلودیگیوں کی نوعیت ہی یہ طۓ کرتی ہے کہ وہ پینے یا نہانے کے قابل ہے کہ نہیں اور یہ آلودگی نہ صرف انسانوں کی ضرورتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ آبی حیات اور اس کی مسکن اور معیار زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صنعت وحرفت،گھریلو ضروریات اور تواناٸی کی بڑھتی ہوٸی طلب کے باعث پانی کی عالمی مانگ میں 56فیصد تک غیر معمولی اضافہ متوقع ہے غربت،وساٸل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ناقص انتظامی حکمت عملی وہ عوامل ہیں جو مستقبل میں پانی کے پاٸیدار نظام اور انسانی بقا کیلے ایک سنگین امتحان ثابت ہوں گے پاکستان میں 80فیصد امراض کا براہ راست تعلق آلودہ پانی اور اس سے پیدا ہونے والی وباٸی بیماریوں سے ہے۔

پاکستان کے دوسرے علاقوں کیطرح چترال شہر اور مضافاتی دھاتوں میں بھی پانی کی کمی کا بحران ہے چونکہ یہ علاقہ آبشارروں کی سرزمیں ہونے کے ساتھ بھی پانی کی بحرانوں سے گزر رہا ہے اس کی وجہ گرمیوں کے موسم میں موسمیاتی تبدیلی کے اثر سے ندی نالوں میں طغیانی ہوتی ہے جس سے پانی ناقابل استعمال ہو جاتا ہے چونکہ گرمیوں میں پانی کی شدید طلب کی وجہ سے چترال شہر کے پانی کے پروجیکٹ اور دوسرے لوکل واٹر ریسورسیز بلکل ناکافی پڑ جاتے ہیں اور پانی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے اس لٸے چترال شہر اور مضافات کے قصبوں کیلے آبی ذخاٸر کے تحفظ اور ان میں اضافے کیلے ایک موثر جامع آبی پالیسی اور مربوط انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ضروری ہے اس کے علاوہ چترال میں چشموں اور ندی نالوں میں موجود پانی کے کنکشنز کی تحفظ کا کوٸی مربوط اور پاٸیدار میکینزم ہونا بھی ضروری ہے تاکہ اس ضلع کو پانی کی فراہمی کے نظام کو جدید اور محفوظ بنیادوں پر استوار کیا جاسکے

پانی عطیہ خدا وندی ہے اس کی حفاظت اور استعمال میں احتیاط ہم سب کی ذمہ داری ہے سب مل کر اس انمول نعمت کی قدر کرنی چاٸیے تاکہ پانی مسٸلہ بحران کی صورت اختیار نہ کرے۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO