کاوشات اقبال

جنریشن گیپ..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق..محمد شاکر

زمانے کے کئی چہرے سے مراد وقت اور معاشرے کے مختلف اور بدلتے ہوئے زاویے ہیں۔ وقت کی رفتار کبھی ایک جیسی نہیں رہتی، یہ مسلسل بڑھتی اور رفتار پکڑتی رہتی ہے۔ زندگی میں کبھی خوشی اور کبھی غم کے دن آتے ہیں، جو زمانے کے مختلف روپ کو ظاہر کرتے ہیں، اور انسان ہر دور میں حالات کے پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اطوار، خیالات اور رویوں کو جانتے ہوئے یا نہ جانتے ہوئے بدلتا رہتا ہے۔ ’’کیا عجیب زمانہ‘‘، جو آج کے دور کے حالات، بدلتے ہوئے رشتوں اور سماجی بے یقینی کو دیکھ کر اکثر لوگ بولتے ہیں۔ آج کے اس انوکھے زمانے میں رشتوں سے فاصلے، اب وہ پہلے والے جیسی اپنائیت اور خلوص باقی نہیں رہا ہے۔ ہر انسان صرف دو وقت کی روٹی اور پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ سچائی اور ایمانداری کے بجائے مکار اور مفاد پرست لوگ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انسان فطری طور پر ایک دوسرے کے قریب ہے، مگر حقیقت اور دلوں کے حساب سے بہت دور ہو چکا ہے۔

زمانے میں بدلاؤ، تغیر و تبدیلی کائنات کا ایک ابدی اور فطری قانون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان، زندگی کے طرز، معاشرتی رہن سہن اور ٹیکنالوجی، سب کچھ بدل جاتا ہے۔ جو چیز کل نئی تھی، وہ آج پرانی ہو گئی، اور جو چیز جدید ہے، وہ کل کا حصہ بن جائے گا۔

تہذیبوں کا تصادم بدلتی ہوئی دنیا میں کوئی نیا المیہ نہیں، بلکہ یہ ایک انسانی حقیقت کی تاریخ ہے۔ حالات کے ساتھ انسانی ترجیحات، اقدار اور طرزِ زندگی بھی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہی تبدیلیاں کبھی ضرورت بن کر قبول کی جاتی ہیں اور کبھی بغاوت سمجھ کر رد کر دی جاتی ہیں۔ ہر دور میں ایسا ہوا ہے کہ ایک نسل ان تبدیلیوں کو سینے سے لگایا اور دوسری نسل روایت سے خلاف سمجھ کر مزاحمت کی۔ یہ تاریخِ انسانی کا وہ مستقبل باب ہے جو زمانے کی کتاب میں نئے عنوان کے ساتھ بھرا جاتا ہے۔ وقت اپنی رفتار کے ساتھ چلتا رہتا ہے، مگر معاملہ حضرتِ انسان کا ہے کہ اس رفتار کے ساتھ قدم ملائے یا نہیں، یہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی المیہ ہے کہ ہر تبدیلی کو یکساں مل کر قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک اس سے زندگی کی بنیادی ضرورت مان کر قبول کر لیتا ہے، جب کہ دوسرا اس کو اقدار پر حملہ سمجھ کر رد کرتا ہے۔

یہی وہ بنیادی نقطے اور مقام ہے جہاں نسلوں کے درمیان فاصلے اور خلا پیدا ہوتا ہے اور یہی فاصلے اور خلا آخر میں جنریشن گیپ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

قدیم نسل بزرگوں کی چھوڑی ہوئی ہر اقدار کو سینے سے لگائے رکھتی ہے اور اس کو اگلی نسل تک منتقل کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے، تو دوسری طرف نئی نسل اپنی ذہین آنکھیں مستقبل پر جمائے رکھتی ہے، جہاں جدیدیت، سہولیات اور ذاتی آزادی کی دنیا ان کی منتظر ہے۔ اس کشمکش میں نسلِ نو نہ سننے کا حوصلہ رکھتی ہے، نہ پرانی نسل سمجھا پاتی ہے، اور نتیجہ کوئی نہیں نکلتا اور گیپ کا راستہ نکل جاتا ہے۔ فاصلے بڑھتے ہیں، تنہائی بولنے لگتی ہے، جہاں نسلِ نو اپنی الگ دنیا، جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جینے کی خواہاں ہوتی ہے، جو دو نسلوں کے درمیان دوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔ یہ گیپ خلقت کی زبانوں میں مختلف ناموں سے پکارے اور سمجھے جاتے ہیں، جس سے دونوں نسلیں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مختلف سوچوں اور مختلف کرداروں کا ٹکراؤ ہے اور انسان اس عہد کو سچ قبول کر لیتا ہے جس میں وہ پرورش پایا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہی دور مقدس، اس دور کی زندگی قابلِ قبول ہے۔ وہ یہ جاننے سے قاصر ہے کہ بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق رہنا بھی اس کا حقیقی حق ہے۔

بڑے کی دانائی، تجربے، ناکامیوں کی راکھ اور کامیابیوں کی جڑت چھپی ہوتی ہے۔ ہاں، تجربہ وہ روشنی کا مینار ہے جس کا متبادل اور نعم البدل آج تک کوئی ایجاد نہ کر سکا۔

لالٹین کی وہ خاموش روشنی میں کتابی تعلق، ٹاٹ میں بیٹھ کر تختی لکھائی، پیدل سفر، ندی، چشمے، نالوں کے ٹھنڈے پانی کی میٹھی بوندیں، مٹی کے گھر، گلی ڈنڈا، آنکھ مچولی، تتلیاں پکڑ کر کھیل، خوشی کی کل کائنات تھے۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے۔۔ ماضی کچھ بھی نہیں اور مستقبل محض ایک سایہ، جس کی کوئی صورت نہیں۔۔ ماضی سے تعلق اور رشتے یوں توڑتے رہے تو کیا۔۔۔ ہم نئی نسل کو صحت مند اور پُرامن مستقبل فراہم کر سکتے ہیں؟ گیپ، جنریشن کے درمیان کہیں بڑھاپے میں تنہا رہ جائیں، جو جنریشن گیپ کا تلخ پہلو ہے۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔