
چترال،پولیس کارروائیوں کے باوجود سپلائی چین برقرار؛ عوام کا اسٹریٹیجک تبدیلی اور گاؤں کی سطح پر کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ
چترال (چترال ایکسپریس۔۔خصوصی رپورٹ):چترال میں منشیات فروشوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور اس لعنت کے خاتمے کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔ ضلع میں بالخصوص مہلک نشے ’’آئس‘‘ کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے نوجوان نسل کو اپنی گرفت میں لے کر معاشرتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چترال پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر منشیات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور گرفتاریوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں، جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، ان کارروائیوں کے باوجود نہ تو منشیات کا کاروبار تھم رہا ہے اور نہ ہی اس کی سپلائی میں کمی آ رہی ہے، جس سے مسئلے کی سنگینی مزید واضح ہو جاتی ہے۔
ضعيف تفتیش اور فوری ضمانتیں: ایک بڑا المیہ
عوامی و سماجی حلقوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ منشیات کے سوداگروں کو گرفتار تو کیا جاتا ہے، مگر وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اسی مکروہ دھندے میں فعال ہو جاتے ہیں۔ ملزمان کی فوری رہائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تفتیش اور استغاثہ (Prosecution) کے عمل میں سنجیدہ کمزوریاں موجود ہیں، جن کا فائدہ منشیات فروش اٹھا رہے ہیں۔
مزید برآں، یہ کاروبار اب ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کسی ایک کارندے کی گرفتاری سے نیٹ ورک ختم نہیں ہوتا، بلکہ دیگر افراد اسے بدستور چلاتے رہتے ہیں، جس سے انہیں معاشی سہارا اور پشت پناہی ملتی رہتی ہے۔
روایتی طریقہ کار ناکافی: اسٹریٹیجک تبدیلی کا مطالبہ
مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ چترال میں امن و امان کی مجموعی صورتحال تسلی بخش ہے، تاہم دونوں اضلاع (اپلا اور لوئر چترال) کی پولیس کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج منشیات کی فراہمی اور اس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ روایتی پولیسنگ اس لعنت پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہے، لہٰذا پولیس کو اپنی حکمت عملی میں اسٹریٹیجک تبدیلی لانی ہوگی۔
حل کے لیے اہم تجاویز و مطالبات:
گاؤں کی سطح پر کمیٹیاں: جس طرح امن و امان کے لیے ویلج ڈیفنس کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں، اسی طرز پر منشیات کے خلاف ہر گاؤں کی سطح پر مقامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
جامع ایکشن پلان: پولیس، ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، محکمہ ایکسائز، سیاسی و سماجی تنظیموں، میڈیا اور بار ایسوسی ایشن پر مشتمل ایک مشترکہ ’’ایکشن پلان‘‘ تیار کیا جائے۔
سپلائی چین کا خاتمہ: دیگر اضلاع سے چترال میں منشیات کی آمد روکنے کے لیے اینٹری پوائنٹس اور چیک پوسٹوں پر کڑی نگرانی کی جائے اور مقامی نیٹ ورک کو فی الفور توڑا جائے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے زور دے کر کہا ہے کہ جب تک منشیات کی سپلائی چین کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا، مقامی سطح پر اس کاروبار اور استعمال کو روکنا ناممکن ہے۔
