
چمرکھن مائیکرو ہائیڈل: گیارہ سالہ انتظار اور آغا خان کے وژن کا سوال۔۔تحریر: شجاعت علی بہادر
ترقی کا اصل مقصد محض منصوبے شروع کرنا یا ان پر خطیر رقم خرچ کرنا نہیں، بلکہ عام انسان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانا ہے۔ پرنس کریم آغا خان چہارم کے ترقیاتی فلسفے کی بنیاد بھی انسانی وقار، تعلیم، معاشی خودمختاری اور پسماندہ علاقوں کے معیارِ زندگی میں بہتری تھی۔ ان کے وژن کا مفہومی پیغام یہی ہے کہ ترقی وہی بامعنی ہے جو انسانی زندگی کو بہتر بنائے اور آنے والی نسلوں کے لیے امید پیدا
کرے۔
مگر چترال کے علاقے چپاڑی میں چمرکھن مائیکرو ہائیڈل منصوبے کی گیارہ سالہ ناکامی اس ترقیاتی فلسفے کے عملی نفاذ پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔
آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) اور پیڈو (PEDO) کے اشتراک سے 2015ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج بھی فعال نہیں ہوسکا۔ چپاڑی، کارگین اور کھوژ کے مکین بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ سینکڑوں طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔
اس منصوبے کی ناکامی کا ایک اہم پہلو واٹر چینل کا ناقص سروے اور تعمیر ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، چینل کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا جہاں تعمیراتی ڈھانچہ مستحکم نہیں تھا اور چینل بار بار ٹوٹتا رہا۔ بعد ازاں ایک مقامی ٹھیکیدار کی جانب سے لیبارٹری ٹیسٹ کرانے پر مبینہ طور پر زمین کی تعمیراتی عدم موزونیت سامنے آئی۔
سوال یہ ہے کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے سے پہلے اے کے آر ایس پی یا پیڈو نے متعلقہ مقام کی ضروری لیبارٹری جانچ کیوں نہیں کرائی؟ کیا کسی بھی بڑے تعمیراتی منصوبے میں کام شروع کرنے سے پہلے زمین کی ساخت اور تعمیراتی موزونیت کی جانچ بنیادی ضرورت نہیں؟
اطلاعات کے مطابق، انہی مسائل کے باعث اے کے آر ایس پی نے 2025ء میں دوبارہ فنڈ مختص کرکے واٹر چینل کا نیا ٹھیکہ دیا۔ آخر ابتدائی منصوبہ بندی کی خامیوں کی قیمت دوبارہ عوامی و ادارہ جاتی وسائل سے کیوں ادا کی گئی؟ پہلے سروے میں غلطی کس سے ہوئی اور اس کی ذمہ داری کس نے قبول کی؟
سب سے اہم سوال ادارہ جاتی احتساب کا ہے۔
گیارہ سال گزرنے کے باوجود منصوبہ فعال نہ ہونے پر اس کی نگرانی کرنے والے عملے کی کارکردگی کا آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا متعلقہ اہلکاروں کی فنی قابلیت اور انتظامی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا گیا؟ اگر غفلت یا نااہلی ثابت ہو تو کیا انہیں بدستور انہی عہدوں پر برقرار رکھا جانا چاہیے یا اہل اور تجربہ کار افراد کو موقع دینا چاہیے؟
آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو اختر اقبال، شیرزاد علی حیدر اور آغا خان نیشنل کونسل برائے پاکستان سے مطالبہ ہے کہ منصوبے کا فوری تکنیکی اور انتظامی آڈٹ کرایا جائے۔ ابتدائی سروے، لیبارٹری رپورٹس، 2025ء کی اضافی فنڈنگ اور نئے ٹھیکے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔
یہ کسی فرد یا ادارے کے خلاف ذاتی مہم نہیں بلکہ شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ ہے۔ اے کے آر ایس پی جیسے ترقیاتی اداروں کی اصل کامیابی منصوبوں کے اعلانات یا اخراجات میں نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج میں ہے۔
کیا یہی آغا خان کا ترقیاتی وژن ہے کہ گیارہ سال بعد بھی ایک دور افتادہ علاقے کے لوگ بجلی سے محروم رہیں؟
چپاڑی کے عوام کو مزید وعدوں کی نہیں، بجلی کی ضرورت ہے۔ متعلقہ ادارے منصوبے کو فعال بنانے کے لیے واضح مدت کا اعلان کریں اور عوام کو عملی پیش رفت سے آگاہ رکھیں۔ بصورتِ دیگر اہلِ علاقہ کا پُرامن احتجاج ان کا جمہوری حق ہے۔
گیارہ سالہ انتظار ختم ہونا چاہیے۔ منصوبے کی ناکامی کا جواب بھی ملنا چاہیے اور چپاڑی ، کارگین اور کھوژ کے گھروں میں روشنی بھی پہنچنی چاہیے۔ کیونکہ ترقی کا اصل امتحان منصوبوں کی منظوری نہیں بلکہ عام انسان کی زندگی میں آنے والی تبدیلی ہے۔
