
سید صداقت علی اور ‘حلال ٹریڈ اے آئی’ (Halal Trade AI) کے نام پر وائرل ہونے والا آن لائن فراڈ
تحقیقاتی رپورٹ
گزشتہ کچھ دنوں سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز خبر گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معروف شخصیت سید صداقت علی نے وصی شاہ کے ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران غلطی سے آن لائن کمائی کا ایک ایسا راز فاش کر دیا جس پر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نشریات رکوا دیں اور ان پر مقدمہ دائر کر دیا۔
عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ خبر مکمل طور پر جھوٹی، بے بنیاد اور ایک سوچے سمجھے آن لائن فراڈ کا حصہ ہے۔
ہماری تحقیقات کے مطابق، اس وائرل ہونے والے مضمون کی حقیقت درج ذیل ہے:
1. جھوٹا انٹرویو اور جعلی سنسنی خیزی
وصی شاہ اور سید صداقت علی کے درمیان ایسا کوئی انٹرویو کبھی نشر نہیں ہوا۔ سکیمرز (دھوکے باز) مشہور شخصیات کے نام اور تصویریں استعمال کر کے عوام کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے کال آنے یا مقدمہ درج ہونے کی کہانی محض اس لیے گھڑی گئی ہے تاکہ لوگوں میں تجسس پیدا کیا جا سکے کہ شاید واقعی کوئی ایسا “خفیہ طریقہ” موجود ہے جسے حکومت چھپانا چاہتی ہے۔
2. غیر حقیقت پسندانہ منافع کا جھانسہ
اس مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 72,000 روپے کی سرمایہ کاری سے محض چند ہفتوں میں 80 لاکھ روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ معاشی اور مالیاتی لحاظ سے دنیا کا کوئی بھی قانونی کاروبار یا سافٹ ویئر اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ منافع نہیں دے سکتا۔ راتوں رات امیر بننے کے یہ دعوے فراڈ کی سب سے بڑی اور واضح نشانی ہیں۔
3. ‘حلال ٹریڈ اے آئی’ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
مضمون میں جس “Halal Trade AI” نامی پلیٹ فارم کا ذکر ہے، وہ دراصل ایک جعلی ویب سائٹ ہے۔ لفظ “حلال” کا استعمال صرف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات اور رجحانات کا استحصال کر کے انہیں مطمئن کیا جا سکے۔
4. نفسیاتی دباؤ اور جعلی شواہد
-
جلدی کا عنصر (Urgency): مضمون کے آخر میں کہا گیا ہے کہ “یہ لنک جلد ڈیلیٹ ہو جائے گا” یا “رجسٹریشن جلد پیسوں سے ہوگی”۔ یہ مارکیٹنگ کا ایک کلاسک ہتھکنڈا ہے تاکہ قاری کو سوچنے سمجھنے یا تحقیق کرنے کا موقع دیے بغیر فوری طور پر پیسے جمع کروانے پر مجبور کیا جا سکے۔
-
جعلی بینک سٹیٹمنٹ: مضمون میں پیش کی گئی ایڈیٹر ‘ہند السالم’ کی کہانی، ان کا تجربہ اور بینک کی رسید مکمل طور پر فوٹوشاپ شدہ اور جعلی ہیں۔
یہ فراڈ کیسے کام کرتا ہے؟
جب کوئی عام شہری اس جھوٹی خبر پر یقین کر کے ان کے دیے گئے لنک پر کلک کرتا ہے اور اپنا اکاؤنٹ بنا کر ابتدائی رقم (جیسے کہ 72,000 روپے) جمع کرواتا ہے، تو وہ رقم سیدھی ہیکرز اور دھوکے بازوں کے غیر ملکی کھاتوں میں چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ جعلی سکرین پر آپ کی رقم کو بڑھتا ہوا دکھاتے ہیں تاکہ آپ مزید پیسے جمع کروائیں، لیکن جب آپ وہ رقم نکلوانے (Withdraw) کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جاتا ہے اور آپ کی اصل رقم بھی ڈوب جاتی ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ایسے کسی بھی اشتہار یا خبر پر یقین نہ کریں جو بغیر کسی محنت کے لاکھوں روپے کمانے کے خواب دکھائے۔ اپنی حساس معلومات (کریڈٹ کارڈ، شناختی کارڈ نمبر) کسی بھی نامعلوم ویب سائٹ پر درج نہ کریں۔ آن لائن سرمایہ کاری کے لیے ہمیشہ صرف ان اداروں کا انتخاب کریں جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) یا سٹیٹ بینک آف پاکستان سے باقاعدہ رجسٹرڈ اور منظور شدہ ہوں۔
اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ آپ کے دوست اور عزیز اس خطرناک مالیاتی فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
