تازہ ترینمضامین

مہنگائی کے طوفان میں 7 ہزار تنخواہ: سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ ناانصافی کب ختم ہوگی؟۔۔بشیر حسین آزاد

پاکستان اس وقت شدید مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کسی محنت کش کو ماہانہ صرف 7 ہزار روپے تنخواہ دی جائے تو یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ کھلی ناانصافی بھی ہے۔ چترال کے مختلف علاقوں میں ٹیلی نار کمپنی کے ٹاورز پر تعینات سیکیورٹی گارڈز کی صورتحال اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ سیکیورٹی گارڈز گزشتہ کئی سالوں سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں واقع ٹاورز کی حفاظت، سخت موسمی حالات کا سامنا، اور دن رات کی ڈیوٹی ان کے معمول کا حصہ ہے۔ مگر اس کے باوجود انہیں جو معاوضہ دیا جا رہا ہے، وہ ان کی محنت، ذمہ داری اور موجودہ مہنگائی کے تناظر میں انتہائی ناکافی ہے۔

حکومت پاکستان نے مزدور کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کر رکھی ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کو بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے قابل بنانا ہے۔ لیکن جب ایک بڑی کمپنی اس واضح قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے ملازمین کو صرف 7 ہزار روپے ماہانہ دیتی ہے تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا ان ملازمین کے ساتھ کسی قسم کا باضابطہ معاہدہ موجود ہے جس میں اس کم تنخواہ پر رضامندی ظاہر کی گئی ہو۔ اگر واقعی ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس کی شفافیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اور اگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے تو پھر یہ معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، جس میں حکومتی اداروں کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ 7 ہزار روپے میں ایک خاندان کی کفالت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج جیسے بنیادی اخراجات اس معمولی آمدنی سے پورے نہیں ہو سکتے۔ نتیجتاً یہ محنت کش طبقہ شدید مالی دباؤ، ذہنی پریشانی اور غیر یقینی مستقبل کا شکار ہو جاتا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائے بلکہ ایسے تمام کیسز کا نوٹس لے جہاں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہو۔ متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں اور متاثرہ ملازمین کو ان کا جائز حق دلائیں۔

دوسری جانب کمپنیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کو محض ایک اخراجات کا بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی کامیابی کا اہم حصہ تسلیم کریں۔ ایک مطمئن اور باعزت ملازم ہی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے، جبکہ استحصال پر مبنی نظام نہ صرف افراد بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم ایک منصفانہ اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ چترال کے سیکیورٹی گارڈز کی آواز صرف ان کی اپنی نہیں بلکہ پورے ملک کے مزدور طبقے کی آواز ہے، جسے سننا اور اس پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO