
تبلیغی جماعت نہ ہوتی؟۔۔تحریر۔مبشراللک
مدرسوں میں فرقہ واریت اور مسلک کی تعلیم۔
سیاست میں پارٹی بازی اور عصبیت کی ترغیب۔
معاشرے میں طبقاتی اثر و رسوخ اور خاندانی تعصبات کا مقابلہ۔
کالجوں میں الحاد، آزادی، وقت کے ساتھ چلنے اور بے راہ روی کی تعلیم۔
حکومت اور بیوروکریسی میں ان تمام قباحتوں کی سرپرستی۔
ان تمام عوامل نے پاکستانی معاشرے کو بربادی کے دھانے تک پہنچا دیا ہے۔
جہاں بے مطلب کوئی ایک آنا بھی دوسرے پر خرچ کرنے کو تیار نہیں۔
جہاں سیاسی پارٹیاں فنڈ ریزنگ اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے چند سو افراد کو کچھ گھنٹوں کے لیے اکٹھا نہیں کرسکتیں، وہیں تبلیغی جماعت کے لوگ اپنے جیب سے خرچ کرکے، اپنے گھر بار، بیوی بچوں کو اس مشکل ترین دور میں چھوڑ کر، اللہ پاک کی رضا کی خاطر اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملانے کے لیے گھر گھر، گلی گلی، محلہ محلہ، قریہ قریہ، ملکوں ملکوں ایک سرور و مستی اور جذبے کے ساتھ نکلے ہوئے ہیں۔
تبلیغی جماعت کے دروازے جنرل سے سپاہی تک، وزیراعظم سے عام شہری تک، پارٹی سربراہ سے کارکن تک، خاندانی و قبائلی سردار، نواب، وڈیرہ، خان، مہتر سے معمولی چرواہے تک، مفتی، شیخ الحدیث، مجتہد، مجدد سے نورانی قاعدے کے طالب تک، یونیورسٹی کے پی ایچ ڈیز سے ایک گیٹ کیپر تک، ادارے کے سیکریٹری سے ایک ڈرائیور تک، مالک ریاض سے ایک مزدور تک، کسی جعلی مضاربہ، کسی ڈبل شاہ ٹائپ سی او سے لے کر ’’میرے پیسے ڈوب گئے‘‘ کی دہائی دیتے ہوئے مجھ جیسے فقیر تک، سب کے لیے بانہیں پھیلائے ہوئے ہے۔
کسی سے سوال نہیں۔
کسی سے چندہ نہیں۔
کسی سے لالچ نہیں۔
کسی سے عہدہ نہیں۔
کسی سے پروموشن نہیں۔
کہیں ہٹو بچو کی صدائیں نہیں۔
کہیں وی لاگ نہیں۔
کہیں کمروں اور میڈیا کی چکاچوند نہیں۔
کہیں کانفرنسوں کی اشتہار بازی نہیں۔
اے اللہ! یہ سب کیا ہے؟
جو قوم اپنے مولوی کے کہنے پر اپنے ہی مسلمان بھائی کو صرف علمی اختلاف پر کافر کے القابات سے نوازتی ہو۔
اپنے پالشت بھر مفتی کے کہنے پر دوسرے فریق کو منافق، مرتد، یہودی ایجنٹ تک کہہ رہی ہو۔
جو اپنے شیخ الحدیث کے کہنے پر اپنے مسلمان بھائیوں کو، جو پولیس، اسکاؤٹس، لیویز، رینجرز، فوج اور ایجنسیوں کی شکل میں خود انہی کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں، قتل کو واجب سمجھ کر اپنے ساتھ بم سے اڑانے کو جنت کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہو۔
ایسے معاشرے میں، جہاں رشوت کو حق، سود کو منافع، عدل کو کمزوری، فحاشی عریانی کو ثقافت ،ملاوٹ، جھوٹ، بہتان، ظلم، ڈاکہ، ملکی وسائل کو زم زم کی طرح حلال جانا جاتا ہو۔
جس ملک میں سابق تمام انبیاء علیہم السلام کے نافرمان اور عذاب زدہ امتوں کی ساری خامیاں اور لوازم موجود ہوں، اور اللہ کے باغی ہونے کا اقرار بھی کیا جا رہا ہو۔
ایسے معاشرے پر اگر عذاب کے کوڑے نہیں برستے تو شاید۔۔۔ اس بے غرض گروہ کی وجہ سے، جو ہزار کمی کوتاہیوں کے باوجود اخلاص سے اللہ سے روٹھے ہوئے بندوں کو اللہ سے منانے نکلے ہوئے ہیں۔
اور ہم ان کی محنت، اخلاص، سادگی اور دعاؤں کے طفیل۔۔۔ سلامت ہیں۔
