
گرم چشمہ روڈ کی بدحالی: این ایچ اے کی ٹال مٹول کے خلاف وادی میں مکمل شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
منظور شدہ فنڈز کے باوجود تعمیراتی کام شروع نہ ہونے پر گرم چشمہ اڈے پر عوام کا شدید احتجاج اور دھرنا؛ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
چترال (چترال ایکسپریس):گرم چشمہ روڈ کی شدید بدحالی اور حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے باوجود تعمیراتی کام میں بلاجواز تاخیر کے خلاف وادی گرم چشمہ میں زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ ڈرائیور یونین کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کے خاتمے پر آج وادی بھر میں مکمل شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے باعث تمام تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل رہی، جس سے گرم چشمہ روڈ پر سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق ریاست اور متعلقہ حکام کی جانب سے گرم چشمہ روڈ کے 12 کلومیٹر حصے کی پختگی (بلیک ٹاپ) کے لیے فنڈز کی منظوری اور ان کے ریلیز کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے حکام گزشتہ چھ ماہ سے کام شروع کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ این ایچ اے کی اس غفلت کے خلاف ڈرائیور یونین، علاقے کے عمائدین اور عام عوام کی بڑی تعداد نے صبح سے گرم چشمہ اڈے پر احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 12 کلومیٹر روڈ پر تارکول بچھانے کے لیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، مگر انتظامیہ کام کا آغاز نہیں کر رہی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ این ایچ اے حکام سردیوں کے شدید موسم کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ بعد میں “تارکول کا ڈرامہ” رچا کر سرکاری سرمایہ ضائع کیا جا سکے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے، اور اعلان کیا کہ سڑک پر تارکول بچھانے کے کام کے عملًا آغاز تک دھرنا اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
حیرت انگیز طور پر، شدید پہیہ جام اور شٹرڈاؤن کے باعث زندگی مفلوج ہونے کے باوجود خبر لکھے جانے تک انتظامیہ یا کسی بھی ذمہ دار ریاستی ادارے کے نمائندے نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات یا ملاقات کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے علاقے کے عمائدین اور مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو دھرنے کے شرکاء اگلے چند دنوں میں چترال شہر کی طرف پیدل مارچ کریں گے اور ریاستی اداروں کے دفاتر کے سامنے اپنا احتجاج منتقل کر دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
