
چترال پولو: ایک نئے دور کی نوید۔۔تحریر : فداالرحمن
چترال پولو کی ترقی کے لیے خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات لائقِ تحسین ہیں۔ پولو ہماری تاریخ، روایت اور اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس کھیل کے ساتھ یہاں کے لوگوں کی محبت نسلوں پر محیط ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ پولو کو حکومتی سطح پر اس انداز میں سرپرستی مل رہی ہے کہ اس کے مستقبل کے بارے میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری صاحب کا کردار قابلِ قدر ہے۔ چترال پولو اور اس کے کھلاڑیوں کے لیے ان کی دلچسپی اور سرپرستی یقیناً اہمیت رکھتی ہے۔اس کے علاؤہ آئ جی ایف سی میجر جنرل راؤ عمران سرتاج صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے ۔ آئ جی ایف سی صاحب بھی چترال پولو کی ترقی کے لئے شبانہ روز کردار ادا کر رہا ہے ۔ کسی بھی کھیل کی ترقی کے لیے صرف کھلاڑیوں کا جذبہ کافی نہیں ہوتا، اسے ایسے اداروں اور شخصیات کی معاونت بھی درکار ہوتی ہے جو اس کی ضرورتوں کو سمجھیں اور اس کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
نئے سیٹ اپ کے تحت خود کور کمانڈر صاحب پولو کی سرپرستی کریں گے، جبکہ آئی جی ایف سی اور سیکریٹری ٹورازم بھی اس نظام کا حصہ ہوں گے۔ ایگزیکٹو کمیٹی میں کمانڈنٹ چترال اسکاؤٹس، چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی جی ٹورازم اور پولو سے شناسائی رکھنے والا ایک رکن شامل ہوگا، جو کھیل کے معاملات میں اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کمیٹی کی معاونت کرے گا۔
اس کے ساتھ چار ارکان پر مشتمل مینجمنٹ کمیٹی بھی ہے۔۔ جس کے تمام ارکان کا تعلق پولو کمیونٹی سے ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اس کھیل کی باریکیوں سے واقف ہیں اور اس کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔۔۔۔ اس طرح نئے نظام میں انتظامی تجربے کے ساتھ پولو کو سمجھنے والوں کی موجودگی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ اگر یہ تینوں کمیٹیاں اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمہ داری کے ساتھ کام کریں تو پولو کے کئی دیرینہ مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
ماضی پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چترال پولو کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا ہے۔ سابقہ ایسوسی ایشن کے پاس اختیارات محدود تھے اور وہ کسی متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں تھی۔ نتیجتاً پولو کے معاملات میں بار بار مسائل پیدا ہوتے رہے۔ کھلاڑیوں کی اپنی جگہ مشکلات تھیں اور انتظامی معاملات اپنی جگہ الجھے رہتے تھے۔ ایسے میں ایک بااختیار اور منظم نظام کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اب جب ایک نیا نظام تشکیل دیا گیا ہے تو اس پر اعتراض کرنے والے احباب سے میری گزارش ہے کہ وہ پہلے اس کے خدوخال اور مقاصد کو سمجھیں۔ اختلاف کرنا کوئی بری بات نہیں، لیکن اختلاف کی بنیاد بھی ٹھوس ہونی چاہیے۔ اگر کسی کو اس نظام میں کوئی کمی نظر آتی ہے تو اسے ضرور سامنے لایا جائے، کیونکہ اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ البتہ کسی نئی کوشش کو اس کے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی رد کر دینا بھی مناسب نہیں۔
ہم سب کی خواہش ہے کہ چترال پولو ترقی کرے، ہمارے کھلاڑیوں کو ان کا حق ملے اور اس کھیل سے وابستہ مسائل کا مستقل حل نکلے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑی، شائقین اور متعلقہ ادارے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ آخر یہ کھیل کسی ایک فرد، گروہ یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ یہ چترال کی مشترکہ میراث ہے۔
یہ وقت اختلافات میں الجھنے کے بجائے اس نئے سیٹ اپ کو سمجھنے، اسے موقع دینے اور اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ نظام کس حد تک اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، لیکن فی الحال اس سے وابستہ امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تعاون اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔
چترال پولو ہمیشہ اپنی روایت، کھلاڑیوں کے حوصلے اور شائیقین کی محبت کے سہارے سفر جاری رکھا ہے۔ اب اگر اسے حکومتی سرپرستی اور ایک مؤثر انتظامی نظام بھی میسر آ جائے تو اس کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
