مضامین

*انوارِ مستجاب ایک عظیم روحانی شخصیت کی یاد اور ایک گراں قدر علمی خدمت*۔۔تحریر: ابوسلمان محمدقاسم 

12 ستمبر؛ ٹاؤن ہال چترال میں ایک ایسی علمی و ادبی نشست، جس نے حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی یادوں کو پھر سے تازہ کر دیا

بعض شخصیات کسی ایک زمانے، ایک علاقے یا ایک حلقے تک محدود نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے علم، کردار، تقویٰ، روحانیت، اخلاص اور خدمت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا لیتی ہیں کہ زمانہ گزرنے کے باوجود ان کی یادیں زندہ رہتی ہیں۔ چترال کی سرزمین بھی ایسی نابغۂ روزگار شخصیات سے مالا مال رہی ہے، جنہوں نے علم و عمل، دعوت و اصلاح اور روحانی تربیت کے میدان میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔

12 ستمبر کو ٹاؤن ہال چترال میں انجمن ترقیٔ کھوار چترال کے زیر اہتمام استاد الاساتذہ پروفیسر اسرار الدین صاحب کی تصنیف ’’انوارِ مستجاب‘‘ کے حوالے سے مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد دراصل اسی عظیم شخصیت کی علمی، روحانی اور اصلاحی خدمات کو یاد کرنے اور نئی نسل کے سامنے ان کے تذکرے کو محفوظ کرنے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کا تعلق بالائی چترال کے علاقے لوٹ اویر سے تھا۔ علم کے حصول کے لیے انہوں نے اندرونِ ملک سفر کیا اور ہندوستان کی معروف علمی درسگاہ جامعہ امینیہ میں بھی تحصیلِ علم کا شرف حاصل کیا۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی علم، اصلاح، روحانی تربیت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کردی۔

بعد ازاں ایون کو اپنا مسکن بنا کر ایک طویل عرصے تک لوگوں کی علمی و روحانی رہنمائی فرماتے رہے۔ روحانی علاج کے حوالے سے بھی دور دور تک ان کا نام معروف تھا۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بہت سے لوگ ان سے روحانی تعلق رکھتے تھے۔ مریدین، محبین اور عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ ان سے وابستہ تھا۔

حضرت کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ان کی صحبت سے گزرنے والے لوگوں میں ان کی تربیت کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے تھے۔ ان کی روحانی تربیت صرف چند رسمی مجالس تک محدود نہ تھی بلکہ جن لوگوں نے طویل عرصہ ان کی صحبت اختیار کی، ان کے کردار، تقویٰ، اخلاق اور طرزِ زندگی میں اس صحبت کی جھلک محسوس کی جاسکتی تھی۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کے قریبی خاندان میں بھی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے علم و دین کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان بھائی عیدا خان رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ کو بالخصوص حضرت کے قریب رہنے، ان کی خدمت کرنے، ان کے ساتھ سفر کرنے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کا طویل موقع ملا۔

حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ کو حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کا حقیقی جانشین کہنا محض ایک خاندانی نسبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی طویل صحبت، خدمت، اسفار اور روحانی تربیت کے تناظر میں ایک حقیقت تھی۔ اندرونِ ملک ہو یا بیرونِ ملک، حج و عمرہ کے اسفار ہوں یا چترال کے دعوتی و اصلاحی دورے، مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ اکثر حضرت کے ساتھ ہوتے تھے۔

یوں وہ صرف ایک بھتیجے کی حیثیت سے نہیں بلکہ حضرت کے خدمت گزار، رفیقِ سفر، رازدار اور تربیت یافتہ شاگرد کی حیثیت سے بھی ان کے قریب رہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کے بہت سے محبین اور روحانی تعلق رکھنے والے حضرات کا دلی تعلق بعد میں بھی حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ کے ساتھ قائم رہا اور آج بھی ان کے صاحبزادوں مولانا نعمان ،مولانا مستجاب اور بھتیجے مولانا سلمان نقشبندی ،مولانا حمید اللہ اور مولانا مفتی کفایت اللہ کے ذریعے اس نسبت کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی تربیت اور صحبت کے اثرات چترال کی متعدد علمی و دینی شخصیات میں محسوس کیے گئے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ کے علاوہ حضرت قاضی صاحب رحمہ اللہ بونی حضرت مولانا محمد شریف صاحب رحمہ اللہ چمرکن اور حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب رحمہ اللہ دروش جیسی شخصیات کا تذکرہ بھی اسی حوالے سے کیا جاتا ہے۔ بعض بزرگوں کے بارے میں بھی اہلِ علم سے یہ بات سننے کو ملتی رہی ہے کہ حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی تربیت اور صحبت کے اثرات ان کی زندگی میں نمایاں تھے۔

یہی کسی شیخ اور مربی کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اس کی تربیت اس کے شاگردوں، متعلقین اور اہلِ خانہ کے کردار میں زندہ رہتی ہے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کے خاندان اوربراددی میں علمی نسبت سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں حضرت مولانا محمد ظاہر شاہ رحمہ اللہ کا نام بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے دارالعلوم کراچی میں طویل عرصہ علمی خدمات انجام دیں اور وفات کے بعد حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ اسی طرح حضرت کے خاندان میں حضرت کے بھتیجے حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ نے بھی جامعہ اشرافیہ لاہور میں ایک طویل عرصہ تدریسی و علمی خدمات انجام دیں اور اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم کے ساتھ علمی نسبت قائم رکھی۔وفات کےبعدبانی جامعہ اشرافیہ مفتی حسن صاحب رحمہ اللہ کے بڑے صاحب زادے حضرت مولانا عبید اللہ صاحب رحمہ اللہ کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔

ایسے علمی و روحانی خانوادوں کی تاریخ محض چند ناموں کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ یہ دراصل نسل در نسل منتقل ہونے والی علمی، اخلاقی اور روحانی امانت ہوتی ہے۔

اسی امانت کو محفوظ کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش پروفیسر اسرار الدین صاحب نے ’’انوارِ مستجاب‘‘ کی صورت میں کی ہے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ پر ایک جامع سوانحی کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کسی ایسی شخصیت کی زندگی کو قلم بند کرنا، جس کی شخصیت کے کئی پہلو علمی بھی ہوں، روحانی بھی، اصلاحی بھی اور انسانی بھی، ایک بڑی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

پروفیسر اسرار الدین صاحب نے اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے حضرت کے متعلق معلومات جمع کیں، ان کے قریبی لوگوں اور خاندان کے لوگوں سے استفادہ کیا اور بالخصوص حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رحمہ اللہ جیسے قریب رہنے والے اور طویل عرصہ صحبت میں رہنے والے شخص سے معلومات حاصل کرکے اس سوانحی کاوش کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔

یہی وجہ ہے کہ ’’انوارِ مستجاب‘‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک علمی و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ آنے والی نسل کے لیے یہ کتاب حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی زندگی، خدمات، تعلقات، روحانی اثرات اور ان سے وابستہ لوگوں کے لیے ایک اہم ماخذ بن سکتی ہے۔

12 ستمبر کی مجلسِ مذاکرہ اسی گراں قدر علمی خدمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت موقع تھا۔

اس موقع پر جن اہلِ علم، اہلِ قلم اور معزز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، ان کی گفتگو نے بھی محفل کی علمی وقار میں اضافہ کیا۔ بالخصوص فخرِ چترال حضرت قاری بزرگ شاہ الازھری صاحب، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب، ڈاکٹرعیدالحسین صاحب،پروفیسر مولانا نقیب اللہ رازی صاحب،حسن چترال خطیب شاھی مسجد حضرت مولانا خلیق الزماں کاکا خیل صاحب،صفی اللہ آصفی صاحب، معروف قانون دان عبدالولی خان ایڈوکیٹ صاحب،عنایت اللہ اسیر صاحب،قاضی سلامت اللہ صاحب اور دیگر معززین ومقررین نے حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی شخصیت اور ’’انوارِ مستجاب‘‘ کے حوالے سے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔

اس مجلس کے انعقاد میں انجمن ترقیٔ کھوار چترال کے روحِ رواں معروف قانون دان عبدالولی خان ایڈووکیٹ اور ان کے رفقا کی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ کسی علمی و ادبی شخصیت کی یاد کو زندہ رکھنے اور اس کی خدمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ایسی مجالس کا انعقاد یقیناً ایک مثبت اور قابلِ قدر روایت ہے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کے خاندان، متعلقین اور محبین کی جانب سے ان تمام اہلِ علم، اہلِ قلم، منتظمین اور شرکائے مجلس کے لیے دل کی گہرائیوں سے تشکر کے جذبات ہیں جنہوں نے اس علمی و روحانی شخصیت کو یاد کیا، ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ’’انوارِ مستجاب‘‘ جیسی کاوش کو پذیرائی بخشی۔

حقیقت یہ ہے کہ معاشرے اپنے محسنوں کو صرف یاد کرکے نہیں بلکہ ان کی زندگی، کردار اور خدمات کو محفوظ کرکے زندہ رکھتے ہیں۔ اگر کسی بزرگ کی زندگی علم، تقویٰ، اصلاح اور انسانوں کی خدمت سے عبارت رہی ہو تو اس کی سوانح لکھنا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک چراغ روشن کرنا ہے۔

’’انوارِ مستجاب‘‘ بھی ایسا ہی ایک چراغ ہے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ کی زندگی کے اوراق میں علم ہے، روحانیت ہے، اصلاح ہے، خدمت ہے، محبت ہے اور انسانوں کے ساتھ خیرخواہی کا ایک طویل سفر ہے۔ اس سفر کو الفاظ میں محفوظ کرنا نہ صرف ایک ادبی کاوش ہے بلکہ چترال کی علمی و روحانی تاریخ کے ایک اہم باب کو محفوظ کرنے کی کوشش بھی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے معاشرے کے وہ اہلِ علم و تقویٰ جنہوں نے خاموشی سے نسلوں کی تربیت کی، ان کی زندگیوں کو محفوظ کیا جائے، ان کے علمی و روحانی ورثے کو نئی نسل تک پہنچایا جائے اور ان کے کردار کو محض ماضی کا قصہ بننے سے بچایا جائے۔

حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ بھی اسی ورثے کا ایک روشن باب ہیں۔

اور پروفیسر اسرار الدین صاحب نے ’’انوارِ مستجاب‘‘ کے ذریعے اس باب کو کتاب کے صفحات میں محفوظ کرکے یقیناً ایک گراں قدر علمی خدمت انجام دی ہے۔

اس خدمت پر جتنا خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مستجاب رحمہ اللہ سمیت تمام مرحومینِ علم و دین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و روحانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ’’انوارِ مستجاب‘‘ کو ان کی یاد اور علمی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ بنائے۔ آمین یارب العالمین

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔