
چترال روڈ پراجیکٹ میں بدعنوانی ختم کرنے کا واحدحل” فرنٹیر ورک ارگنائزیشن”۔۔فرید احمد رضا
چترال کے جعرافیائی حدود اور اس کی اسٹریٹیجک اہمیت:چترال پاکستان کے انتہائی شمال معرب میں واقع ایک اہم سرحدی خطہ ہے، جو اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت اور قدرتی محل و قوع کی وجہ سے غیر معمولی اسٹریٹیجک اہمیت رکھتاہے۔ شمال میں اس کی سرحد واخان کوریڈور کے ذریعے افغانستان اور بالواسطہ تاجکستان کے قریب واقع ہے،جبکہ مغرب میں افغانستان کے صوبے بدخشان،نورستان اور کنٹر سے اس کی طویل سرحد ملتی ہے۔ مشرق میں گلگت بلتستان اور جنوب میں خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر اپر اور وسوات واقع ہیں۔اس کے علاوہ بھی چترال کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ اس کا نام پاکستان چائنہ کوریڈور میں ایک متبادل روڈ کے طور پر بھی لیا جارہاہے ۔
فیڈرل اور صوبائی حکومت کی طرف سے چترال میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے ہر سال ایک خطیر رقم بجٹ میں مختص کیا جاتا ہے، فنڈز جاری ہونے کی خوشخبری سنائی جاتی ہے، ٹائم فریم دیے جاتے ہیں، اور کچھ عرصے کےلیے کہیں کام ہوتا ہوا بھی نظر آتاہے لیکن یہ روڈ پراجیکٹ کبھی مکمل ہونے کو نہیں آتے ،پیسے خرچ ہوتے ہیں اور کام مکمل نہیں ہوتیں۔ اگلے سال پھر بجٹ میں رقم رکھے جاتے ہیںً چیزیں مہنگے ہونے کی وجہ سے بجٹ ریوائز ہوتے ہیں یوں حکومت کا ایک کثیر رقم ان پر خرچ ہوتاہے لیکن پھر بھی پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتیں ان کی وجہ صرف حکومتی اداروں کی نالائقی اور پیسہ کی غبن ہے۔
ان کی مثال چترال میں چلنے والی سڑکوں کی یہ پراجیکٹ ہیں چترال شندور روڈ، مستوج بروغل روڈ،بونی بوزوند روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ اور چترال کالاش ویلی روڈ۔ سالہا سال سے یہ روڈ پراجیکٹ چل رہے ہیں ، حکومت کا کثیر پیسہ ان پہ خرچ ہورہاہے لیکن یہ پراجیکٹ مکمل ہونے کو نہیں آرہیں ہیں۔ سڑکوں کی اس خراب صورتحال سے تنگ آکر عوام نے مختلف “روڈ تحریکوں” کا آغاز کیا ہے ۔ آئے روز عوام کی طرف سے جلسے جلوس ،بھوک ہڑتال، پولیس اور عوام کے درمیاں ہاتھا پائی روز کا معمول بن چکاہے۔-
عوام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔چترال سے تعلق رکھنے والے صوبے اور وفاق میں برسر اقتدار پارٹیوں کے رہنما برملا کرپشن ہونے کی بات کررہے ہیں ۔ بس کسی کا نہیں چلتا کہ کیا کرے ،کہاں جائیں ۔
ایسے میں چترال کی عوام کا ایک مطالبہ ہے کہ چترال میں جتنے بھی روڈ پراجیکٹ چل رہے ہیں ان کا ایک غیر جانبدار اداروں کی جانب سے ایڈیٹ کیا جائیں اور مستقبل میں چترال کے سارے روڈ پراجیکٹ ” فرنٹیر ورک ارگنائیزیشن “کو دیئے جائیں تاکہ یہ روڈ بروقت مکمل ہوں اور حکومت کے زر کثیر پیسے عوام کو سہولت پہنچانے میں کام آئیں ۔ پاک فوج کے زیر انتظام کام کرنے والا ادارہ “فرنٹیر ورک ارگنائزیشن” پاکستان کا ایک بڑا انجینرنگ اور تعمیراتی ادارہ ہے۔اس نے پہاڑی علاقوں میں بہت سارے کامیاب پراجیکٹ کیے ہیں اس کا بنیادی مقصد شمالی علاقوں ،خاص کرکے سٹریٹیجیکٹ نوغیت کے سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنابھی ہے۔اس لیے چترالی عوام کی طرف سے یہ درخواست ہے کہ “فرنٹیر ورک ارگنائزیشن” ان پراجیکٹ کا انتظام سنبھالیں ،تاکہ یہ روڈ پراجیکٹ وقت پر مکمل ہوں ، علاقے کی عوام صوبائی اور وفاقی حکومتی کی کارکردگی سے کب سے مایوس ہوچکے ہیں لیکن یہ ریاست پاکستان سے مایوس نہ ہوں۔
